جشنِ فیض: اٹھے گا ان الحق کا نعرہ

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, انور سِن رائے
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کوئی کہہ رہا تھا یا شاید میں اپنی ہی آواز سُن رہا تھا کہ ’ کراچی کو جب بھی موقع ملتا ہے وہ اپنے اور اپنے باسیوں کے زندہ، ثقافتی اور کثیر الثقافت ہونے کا احساس دلاتا ہے‘۔
اتوار کو صبح تھی اور تپتی دھوپ میں سینکڑوں مرد، عورتیں اور یہاں تک کہ بچے بھی کئی مربع میل پر پھیلے کراچی سپورٹس کمپلیکس میں جمع ہو چکے تھے۔ لوگوں کی تعداد بڑھتی ہی جا رہی تھی یہاں تک کہ شام ہوتے ہوتے تعداد سینکڑوں سے ہزاروں تک پہنچ گئی اور ان میں ایسے نوجوانون لڑکے لڑکیوں کی تعداد سب سے زیادہ تھی جو اپنی باتوں سے معاشرے میں طبقاتی تبدیلی کے لیے نئے جوش و جذبے سے بھرے دکھائی دیتے تھے۔
جشن کا تمام انتظام بھی انہی نوجوانوں کے ہاتھ میں تھا اور سینیئر قیادت میں فہیم زمان سب سے زیادہ سرگرم دکھائی دے رہے تھے۔
جسشن میں سیمیناروں، سٹریٹ تھیٹر، آرٹ شوز اور رقص و موسیقی کے کئی پروگرام ایک ساتھ چل رہے تھے اور ایک آدھ کے سوا کہیں وقت اور انتظام کا کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوا۔
ایک پورا علاقہ مختلف تنظیموں کے سٹالوں کے لیے مخصوص تھا جہاں تھر ڈیویلپمنٹ پروگرام، فاطمید فاؤنڈیشن، ای ایف یو، کے ای ایس سی، ایس پی او، این ایس ایف اور دستکاریاں اور کتابیں لانے والوں نے دکانیں سجا رکھی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
سیمیناروں کا سلسلہ تھا جو محنت کشوں کے مسائل، جمہوری نسائی حقوق، ذرائع ابلاغ، ان کی آزادی اور مذہبی شدت پسندی، شدت پسندی اور محنت کش طبقے، سیلاب سے متاثرین،ۙ ہاریوں، بڑھتی ہوئی شہری آبادیاں، پاکستانی تناظر میں شدت پسندی کے خلاف امریکہ کی جنگ اور تحمل و رواداری کے بارے میں تھے۔
اس کے علاوہ ماحولیات کے بارے میں ایک سلسلہ الگ جاری تھا جس میں اپنی سبزیاں خود اگانے سے فضلے سے نمٹنے تک کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا تھا۔
سپورٹس کمپلیکس میں درختوں اور سایہ دار مقامات کی شدید کمی محسوس ہو رہی تھی کیونکہ سیمینار ناکافی شامیانوں کے باوجود کھلے میں ہو رہے تھے۔ ہر سیمینار میں تیس سے چالیس لوگ مقررین کے قریب بیٹھے دکھائی دیتے باقی کرسیاں لے کر یا تو آس پاں کے درختوں تلے جا کر باتیں سنتے یا کرسیوں کے بغیر ہی کھڑے رہتے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فنون میں سب سے پہلے پرفارمنس ڈھابہ آرٹ کا سٹریٹ پلے تھا جو ایک چھوٹے سے بند ہال میں کیا گیا۔ یہ ڈرامہ یوں تو ایک خود کش حملہ آور کی بعد از ہلاکت کہانی پر محیط تھا جو دوزخ میں ہے اور غالباً فرشتوں سے یا اپنے ہی ضمیر سے خود پر جاری عذاب کے بارے میں سوال کر رہا ہے۔ اسی سے خود کش حملوں کے کم و بیش تمام پہلووں پر سوال اٹھائے گئے تھے اور جواب یا فیصلہ دیکھنے والوں پر چھوڑ دیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
ہال میں اتنی گرمی تھی کہ ڈرامہ شروع ہونے کے کچھ ہی دیر بعد دیکھنے والوں کو بھی دوزخ میں ہونے کا احساس ہونے لگا لیکن اس کے باوجود کوئی بھی ڈرامہ ختم ہونے سے پہلے باہر نہیں گیا۔
اس کے علاوہ ڈھابہ آرٹ کی ایک نمائش اور فی البدیہ آرٹ کا بھی اہتمام تھا۔ وقفے وقفے سے رقص کرنے والوں کی ایک ٹولی ڈھول اورڈرم کی تھاپ پر رقص کرنے نکل کھڑی ہوتی اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کے ساتھ نوجوان لڑکے لڑکیاں بھی رقص میں شامل ہو جاتے۔
اتنا بڑا اجتماع اور اتنی رنگا رنگی کراچی کو ان خبروں کی آنکھ سے دیکھنے والوں کے لیے ضرور حیران کن ہو سکتی ہے جو مبینہ طور پر گولیوں کا طے شدہ نشانہ بنتے ہیں اور کوئی دن نہیں جاتا کہ مقامی ذرائع ابلاغ ایسے پانچ سے دس بد نصیبوں کی خبر نہ دیتے ہوں۔
خاصے دنوں سے کراچی کے لوگ خود کش حملے یا دھماکے جیسی بد نصیبی کا نشانہ تو نہیں بنے لیکن اس کا خدشہ ہر جگہ اور ہر تقریب پر منڈلاتا رہتا ہے۔
اس خدشے کے سائے فیض احمد فیض کے یومِ پیدائش کی صد سالہ تقریبات کے حوالے سے سیٹیزن فار ڈیموکریسی کے زیر اہتمام ہونے والے جشنِ پر بھی نمایاں تھے اور اس ازالے کے لیے معقول انتظامات کیے گئے تھے یہاں تک کہ ایسے مواقع پر جوگاڑیوں کا گھمسان پڑتا ہے وہ بھی نہیں تھا۔
جشن میں آنے والے لوگوں کی اکثریت ان انتظامات کی داد دے رہی تھی اور لوگوں کا کہنا تھا کہ اس کا سہرا فہیم الزمان کے سر پر بندھنا چاہیے کیونکہ وہ کراچی کو چلانے کا تجربہ رکھتے ہیں اور یہ بات ان سے زیادہ کوئی نہیں جانتا کہ کراچی میں کچھ کرنا ہو تو مطلوبہ مدد کہاں سے حاصل کی جا سکتی ہے۔







