کراچی میں جشنِ فیض

جشنِ فیض احمد فیض

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنجشن میں امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کا موضوع بھی زیرِ بحث رہا

کراچی میں اتوار کو جشن فیض احمد فیض منایا گیا، جس میں معاشرے میں عدم برداشت، امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ، مزدور اور کسان تحریک اور کئی دوسرے موضوعات زیر بحث آئے۔

شہری برائے جمہوریت نامی تنظیم نے اس جشن کا انتظام کیا تھا، جس میں زیادہ تر مزدور تنظیمیں، ماہی گیر تنظیمیں، این جی اوز، وکلا اور صحافی شامل ہیں۔اس جشن میں داخلے کے لیے قومی شناختی کارڈ کا ہونا لازمی تھا جبکہ لوگوں کی کلایوں پر ٹھپے لگائے جارہے تھے جو دکھا کر واپس جانے کی اجازت تھی۔

کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق شہر میں بائیں بازو کی سوچ رکھنے والے لوگوں کا یہ ایک بڑا اجتماع تھا جن کی تنقید کا نشانہ امریکہ اور پاکستان کی دائیں بازو کی تنظیمیں رہیں۔

دہشت گردی کے محنت کش طبقات پر اثرات اور مزدور تحریکوں کا حال اور ماضی بھی اس جشن میں زیر بحث آیا۔ سینیئر مزدور رہنما سلیم اختر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی ایک تبلیغی جماعت تھی جس نے انیس سو ستاون میں فیصلہ کیا تھا کہ وہ سیاست نہیں کریں گے کیونکہ مزدور طبقے اور اس سوچ پر کاربند لوگوں نے انہیں مجبور کردیا تھا کہ وہ کھل کر سامنے آئیں۔’مزدور تحریک پر مذہبی جماعتوں کی آمد کے بعد دوسرا حملہ اس وقت ہوا جب سیاسی جماعتوں نے اپنے لیبر ونگ بنائے اور مزدوروں کو سیاست کی بنیاد پر تقسیم کردیا۔‘

جشن میں لوک موسیقی کے مختلف گروپس موجود تھے جن کے گرد کچھ نوجوان اور خواتین رقص بھی کرتے نظر آئے۔ کتاب، شمسی توانائی کے آلات، کپڑے اور کھانے پینے کے سٹال بھی اس جشن کا حصہ تھے۔

جشنِ فیض

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشندہشت گردی کے محنت کش طبقے پر اثرات کا بھی ذکر کیا گیا

جشن کے اکثر شرکا میں مزدور تنظیمیں اور ان کے موجودہ اور ماضی کے رہنما شامل تھے۔ اسی سوچ کی پیروکار نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن نے امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کو بحث کا موضوع بنایا۔

صفدر رشید نامی مقرر کا کہنا تھا کہ ’آج کے دور میں کسی ملک میں بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر گھسا جا سکتا ہے۔ اس اقدام کی اقوام متحدہ بھی حمایت کرے گی، اس طریقے سے دوسری اقوام کو بھی ڈرایا دھمکایا جاتا ہے۔‘

ان کے مطابق پاکستان کو بھی کہا جا رہا ہے کہ اگر ہمارا ساتھ نہ دیا تو دہشت گرد پاکستان کے اثاثوں پر قبضہ کرلیں گے۔

توہین رسالت قانون کا غلط استعمال اور معاشرے میں عدم برداشت بھی اس جشن کے مباحثوں میں شامل رہا۔ نیشنل پارٹی کے سینیٹر میر حاصل بزنجو واحد پارلیامینٹیرین تھے جو اس جشن میں شریک ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ معاشرے میں عدم برداشت کی ذمہ دار ریاست ہے۔

’آج جن خودکش بم حملوں، ٹارگٹ کلنگز اور عدم برداشت کی بات ہورہی ہے وہ ریاست کے پیدا کردہ ہے لوگوں کے نہیں۔ اگر ریاست یہ نہ کرتی اور نہ کراتی تو شاید یہ سب کچھ نہ ہو رہا ہوتا۔ آج جو یہ خودکش حملے کر رہے ہیں یہ وہ ہی لوگ ہیں جنہیں ریاست نے اپنی ضرورت کے لیے پیدا کیا تھا۔‘

ان پروگراموں میں سیلاب زدگان کی بحالی پر بھی بات کی گئی۔ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیبر ایجوکیشن کے ڈائریکٹر کرامت علی کا کہنا تھا کہ سب نے یہ فرض کرلیا ہے کہ سیلاب متاثرین کا مسئلہ حل ہوچکا ہے اور وہ اپنے علاقوں میں واپس جاچکے ہیں لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ان کے مطابق اس وقت سب سے بڑا مسئلہ سیلاب متاثرین کو کیمپوں سے نکال کر مستقل بحال کرنے کا ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کو رہنے کے لیے مناسب مکان یا پلاٹ فراہم کیے جائیں۔

میلے کو فیض احمد فیض کی شاعری، نامور مصور صادقین کی فیض کی شاعری کے بارے میں پینٹگز اور وائیل کے کارٹونوں سے سجایا گیا تھا۔

مگر بعض شرکاء نے فیض کی شاعری، شخصیت یا جدوجہد پر کوئی پروگرام ترتیب نے دینے کا شکوہ کیا۔

جشن کے منتظمین میں شامل محسن طارق نے اس تاثر کو مسترد کیا۔ بقول ان کے پورا پروگرام فیض پر اور ان کی سوچ پر مبنی ہے اور یہ سب کچھ ان کی شاعری سے ہی متاثر ہوکر کیا گیا۔

جشن میں صبح سے شام تک اندرون سندھ اور کراچی کے ماہی گیروں کی شرکت زیادہ رہی اور سورج ڈھلنے کے بعد ہی شہریوں کی آمد میں اضافہ ہوا۔ یہ جشن رات گئے تک جاری رہا جس میں مشاعرہ اور محفل موسیقی بھی شامل تھی۔