بلوچستان: دو حاضر سروس جج لاپتہ

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

بلوچستان کے علاقے نصیر آباد سے کل رات دوحاضر سروس جج لاپتہ ہوگئے ہیں اور ان کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سبی جان محمد گوہر اور سینئرسول جج محمد علی گزشتہ شب سبی سے اوستہ محمد جاتے ہوئے راستے میں لاپتہ ہوگئے۔

ڈپٹی کمشنر نصیرآباد فتح محمد خجک نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے ہمارے نامہ نگار ایوب ترین کو بتایا کہ دونوں جج صاحبان کل رات ڈیرہ مراد جمالی میں ایک دوست کے ساتھ چائے پینے کے بعد شادی کی ایک تقریب میں شرکت کے لیے اوستہ محمد کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ لیکن اوستہ محمد کراس پر پہنچنے کے بعد اپنےگھر والوں سے ان کا رابطہ منقطع ہوگیا۔

ڈپٹی کمشنر نصیر آباد کے مطابق آج صبح ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جان محمد گوہر کی گاڑی نصیر آباد کے گوٹھ عبدالصمد لہڑی سے مقامی زمینداروں کو ملی ہے۔

اطلاع پر انتظامیہ نے گاڑی کو تحویل میں لے کر دونوں ججوں کی تلاش کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا ہے جس کے لیے پولیس اور لیویز کے ساتھ ایف سی کی خدمات بھی حاصل کی جا رہی ہیں۔

دوسری جانب بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر بازمحمد کاکڑ نے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے انتظامیہ سے دونوں ججوں کی فوری برآمدگی کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت وکلاء اور ججوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔

خیال رہے کہ پانچ روز قبل بھی ضلع بولان کے علاقے ڈھاڈر میں نامعلوم مسلح افراد نے کوئٹہ سے سبی جانے والے ایم کیو ایم کے دو وکلاء سلیم آخترایڈوکیٹ اور سید محمد طاہر ایڈوکیت کو اغواء کیا تھا جووکلاء کے احتجاج کے باوجود تاحال بازیاب نہیں ہوسکے ہیں