بلوچستان: مزید دو لاشیں برآمد

بلوچ قوم پرستوں کے مطابق گزشتہ سال جولائی سے لاپتہ بلوچوں کی مسخ شدہ لاشیں ملنے کا سلسلہ شروع ہوا تھا اور اب تک اناسی لاشیں مل چکی ہیں
،تصویر کا کیپشنبلوچ قوم پرستوں کے مطابق گزشتہ سال جولائی سے لاپتہ بلوچوں کی مسخ شدہ لاشیں ملنے کا سلسلہ شروع ہوا تھا اور اب تک اناسی لاشیں مل چکی ہیں

بلوچستان کے علاقے اورماڑہ سے آج مذید دو لاپتہ افراد کی لاشیں ملی ہیں جس پر بلوچ علاقوں میں شٹرڈاؤن ہڑتال اور مظاہرے ہوئے ہیں۔

دوسری جانب گزشتہ روز ایک وکیل کے اغواء کے خلاف وکلاء نے آج صوبے بھر میں عدالتوں کا بائیکاٹ کیا ہے اور مطالبہ کیا کہ انہیں فوری طور پر منظر عام پر لایا جائے۔

بلوچستان کے سیکریٹری داخلہ اکبر حسین درانی کا کہنا ہے کہ لاپتہ ہونے کے بعد قتل کر دیے جانے والے لوگوں کے ورثاء کی جانب سے ایف آئی آر درج نہ کرانے اور عدم تعاون کے باعث قانون نافذ کرنے والے ادارے مجرموں تک نہیں پہنچ پاتے۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق دارالحکومت کوئٹہ سے سات سوکلومیٹر دور بلوچستان کے ساحلی علاقے اورماڑہ سے منگل کے روز لیویز کو دو افراد کی مسخ شدہ لاشیں ملی ہیں جنہیں شناخت کے لیے سول ہسپتال اورماڑہ منتقل کیا گیا جہاں ورثاء نے ان کی شناخت کر لی ہے۔

لاشیں ملنے کے خلاف آج مکران ڈویژن کے بڑے شہروں گوادر، مند، تمپ، پسنی، جیونی اور تربت میں بلوچ طلبہ تنظیم بی ایس او(آزاد) کی اپیل پر نہ صرف شٹرڈاؤن ہڑتال ہوئی بلکہ آواران اور مشکے میں احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے ہیں۔

تربت سے مقامی صحافی جہانگیر اسلم نے بتایا ہے کہ بلوچ نیشنل موومنٹ کے رہنماء محبوب ودیلا کو نو ماہ قبل نامعلوم افراد نے اس وقت اوتھل کے قریب مسافر بس سے اتار کر اغواء کیا تھا جب وہ کراچی سے تربت آ رہے تھے۔

جبکہ بلوچ ری پبلکن پارٹی کے رکن عارف الرحمن کو نامعلوم افراد نے چھ ماہ قبل کراچی سے اغواء کیا تھا۔

بلوچ قوم پرستوں کے مطابق بلوچستان میں گزشتہ سال جولائی سے لاپتہ بلوچوں کی مسخ شدہ لاشیں ملنے کا سلسلہ شروع ہوا تھا اور آٹھ ماہ کے دوران اناسی لاشیں مل چکی ہیں جن میں سے اکثر کو نامعلوم افراد نے سروں پر فائرنگ کر کے ہلاک کیا ہے۔

بلوچ قوم پرستوں نے ہمشہ ان واقعات کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہےکہ ان ہلاکتوں کے پس پردہ پاکستان کے خفیہ اداروں کا ہاتھ ہے لیکن وزارت داخلہ ان دعووں کی تردید کی ہے۔

دوسری جانب بلوچ بارایسوسی ایشن کے رکن آغا ظاہرشاہ ایڈوکیٹ کے اغواء کے خلاف بلوچ بار، بلوچستان ہائی کورٹ بار اور بلوچستان بار ایسوسی ایشن نے منگل کو صوبہ بھر میں عدالتوں کا بائیکاٹ کیا۔ آغا ظاہرشاہ ایڈوکیٹ کو گزشتہ روز سبی سے کوئٹہ آتے ہوئے نامعلوم مسلح افراد نے اغواء کیا تھا۔

بلوچستان بارایسوسی ایشن کے صدر باز محمد کاکڑ ایڈوکیٹ نے آغا ظاہرشاہ ایڈوکیٹ کے اغواء کی مذمت کرتے ہوِئے کہا کہ پاکستان میں عدالتیں اور اسمبلیاں موجود ہیں لیکن بعض قوتیں قانون کو ہاتھ میں لے کر نہ صرف لوگوں کو اغواء کیا جاتا بلکہ اب توان کی مسخ شدہ لاشیں بھی ملتی ہیں۔

باز محمد کاکڑ نے کہا کہ آغا ظاہرشاہ ایڈوکیٹ نے کوئی جرم نہیں کیا ہے وہ توصرف ان لاپتہ افراد کے مقدمات عدالتوں میں لڑ رہے تھے جو ان کے لواحقین کی جانب سے قائم کیے گئے ہیں۔ تاہم اس کے باوجود اگر وہ کسی جرم میں ملوث ہیں توان پر مقدمہ قائم کر کے انہیں عدالت میں پیش کیا جائے ۔ لیکن جس طرح سے لوگوں کو اغواء کر کے قتل کیا جاتا ہے اس سے ملک کے استحکام اور سلامتی کو خطرہ لاحق ہے۔