سوات میں سکیئنگ کا میدان سج گیا

یہ میدان سطح سمندر سے کوئی نو ہزار دو سو فٹ بلند ہے اور یہاں کوئی آٹھ سو میٹر لمبی ڈھلوان ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنیہ میدان سطح سمندر سے کوئی نو ہزار دو سو فٹ بلند ہے اور یہاں کوئی آٹھ سو میٹر لمبی ڈھلوان ہے
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

دہشت گردی سے متاثرہ علاقے سوات کی پہاڑیوں نے سفید چادر اوڑھی تو عرصہ دراز کے بعد یہاں برف پر کھیلا جانے والا کھیل سکیئنگ کا میدان سج گیا ہے۔

اس کے لیے اب تک صوبہ خیبر پختونخواہ کی چھ ٹیمیں پہنچی ہیں جبکہ لاہور اور راولپنڈی کی ٹیموں کا اتنظار ہے۔

مینگورہ سے کوئی بیالیس کلومیٹر دور مالم جبہ کے مقام پر ان دنوں صوبہ خیبر پختونخواہ کی چھ ٹیمیں پریکٹس کر رہی ہیں جن کے درمیان مقابلوں کا سلسلہ جمعرات سے شروع ہو گیا ہے۔

سکیئنگ ایسوسی ایشن کے صدر مطیع اللہ خان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ مالم جبہ کے مقام پر سکیئنگ کا آغاز سن دو ہزار میں کیا گیا تھا لیکن گزشتہ تین سال سے یہاں سکیئنگ کے مقابلے منعقد نہیں ہو سکے جس کی وجوہات علاقے میں بڑھتے ہوئے دہشت گردی کے واقعات اور فوجی آپریشن تھا۔

مطیع اللہ خان نے کہا کہ اس کھیل کے لیے انھوں نے سندھ، پنجاب اور بلوچستان کی ٹیموں کو دعوت دی تھی لیکن اس وقت ان کا صرف لاہور اور راولپنڈی کی ٹیموں سے رابطہ ہے اور اگر یہ دونوں ٹیمیں پہنچ گئیں تو انھیں بھی ان کھیلوں میں شامل کر لیا جائے گا۔ اس وقت چھ ٹیمیوں کے درمیان مقابلے ہو رہے ہیں۔

مالم جبہ کے مقام پر ان دنوں صوبہ خیبر پختونخواہ کی چھ ٹیمیں پریکٹس کر رہی ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنمالم جبہ کے مقام پر ان دنوں صوبہ خیبر پختونخواہ کی چھ ٹیمیں پریکٹس کر رہی ہیں

صوبائی ادارہ برائے تعمیر نو بحالی و آبادکاری کے ترجمان عدنان خان نے کہا ہے کہ مالم جبہ میں اگرچہ چیئر لفٹ اور ہوٹل سن دو ہزار آٹھ میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے دوران تباہ ہو گئے تھے لیکن پھر بھی کھلاڑی اس کھیل میں شرکت کر رہے ہیں۔ اب کھلاڑی پہاڑی چوٹی پر پیدل جاتے ہیں جبکہ ماضی میں چوٹی پر پہنچنے کے لیے چیئر لفٹس استعمال کی جاتی تھیں۔

یہ میدان سطح سمندر سے کوئی نو ہزار دو سو فٹ بلند ہے اور یہاں کوئی آٹھ سو میٹر لمبی ڈھلوان ہے جہاں یہ کھیل کھیلا جاتا ہے۔

مالم جبہ پاکستان کا واحد ایسا مقام ہے جہاں سردیوں میں برف باری کے بعد سکیئنگ کی جاتی ہے۔ عدنان خان نے کہا کہ اگر ٹورزم ڈیولپمنٹ کارپوریشن آف پاکستان یہاں ہوٹل اور چیئرلفٹس بحال کر دے تو یہاں کی رونقیں بحال ہو جائیں گی۔

عدنان خان نے کہا کہ سکیئنگ کا یہ میلہ اس لیے سجایا گیا ہے تاکہ پاکستان اور دنیا کے لوگوں کو بتایا جا سکے کہ سوات میں امن بحال ہوگیا ہے اور اب یہاں سیاحت کی رونقیں ایک مرتبہ پھر دیکھی جا سکیں گی۔

پاکستان کے شہر سوات اور اس کے قرب و جوار میں اپریل دو ہزار نو میں طالبان اور شدت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن شروع کیا گیا تھا جبکہ اس سے پہلے ان علاقوں میں طالبان کی سرگرمیاں بڑے رقبے تک پھیل چکی تھیں۔ پاکستان کی دیگر قبائلی ایجنسیوں میں بھی فوجی آپریشن کیے گئے ہیں لیکن سوات آپریشن کو سب سے کامیاب آپریشن تصور کیا جاتا ہے۔