’بلوچستان پر تشویش کیوں ہونی چاہیے‘

جولائی سے دو سو اٹھانوے افراد لاپتہ ہو چکے ہیں
،تصویر کا کیپشنجولائی سے دو سو اٹھانوے افراد لاپتہ ہو چکے ہیں
    • مصنف, احمد رشید
    • عہدہ, پاکستانی مصنف اور تجزیہ کار

پاکستان میں مذہبی شدت پسندی بڑھ رہی ہے، معاشی تباہی اور سیاسی بحران مسلسل جاری ہے ایسے میں قومی انتشار کا بلوچ علیحدگی پسندوں نے فائدہ اٹھایا ہے جس کی وجہ سے بلوچستان میں لمبے عرصے سے جاری مزاحمت میں تیزی آئی ہے اور اس پر تشویش بھی بہت کم ہے۔

اس دوران ریاست کی جانب سے پہلے سے زیادہ بے رحم جوابی کارروائیوں پر کوئی چیک نہیں ہے۔

صوبے میں ہر روز لاشیں ملتی ہیں اور ان پرتشدد کارروائیوں میں نشانہ بننے والوں میں کئی بے گناہ لوگ شامل ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق مشتبہ قاتلوں کا تعلق یا تو انٹیلی جنس سروسز سے ہے یا بلوچ شدت پسند تنظیموں سے ہے۔ بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی ہے۔

حکومت نے پندرہ ماہ پہلے امن کے قیام کے لیے نام نہاد عمل شروع کیا تھا لیکن یہ بھی رکا ہوا ہے۔

انگریزی اخبار ڈان کے مطابق اس پیکج کے اکسٹھ مراحل میں سے صرف پندرہ پر بھی عمل نہیں ہو سکا ہے۔حکومت نے بلوچ لوگوں کی بڑھتی ہوئی غربت اور اجنبیت کو ختم کرنے کے لیے یہ پیکج متعارف کروایا تھا۔

حکومت کی جانب سے کارروائی نہ کرنے اور فوج کے آگے آنے کی وجہ سے پاکستان کے لیے بلوچستان کی نوجوان نسل کی نفرت میں اضافہ ہوا ہے، ٹارگٹ کلنگ کی وجہ سے ڈر کا ایک خوفناک ماحول پیدا ہوا ہے اور صوبے سے کاروبار کے منتقل ہونے کی وجہ سے مقامی معیشت تباہ اور روزگار ختم ہو گیا ہے۔

گزشتہ دو برس کے دوران ریاست کے کسی ادارے نے اپنے وعدے نہیں نبھائے ہیں۔

کوئی علاج نہیں

حکومت ناکام ہو جائے تو پھر فوج اور عدالت ہے۔

ایک سال پہلے سپریم کورٹ نے وعدہ کیا تھا کہ وہ کئی سال سے لاپتہ یا لاپتہ کیے گئے سینکڑوں بلوچ شہریوں کی بازیابی کے معاملے کا جائزہ لے گی لیکن ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

’لاپتہ‘ ہونے کا عام طور پر مطلب ہوتا ہے کہ انھیں اغوا کر لیا گیا ہے اور روپوش کر دیا گیا ہے اور پھر مار دیا جائے گا یا کسی نامعلوم خفیہ مقام پر رکھا جائے گا۔ لاپتہ ہونے والوں میں سے کچھ سیاسی لوگ ہیں، کچھ کو جرائم پیشہ افراد نے تاوان کے لیے اغوا کیا۔

بلوچی پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی پر اغوا کی کارروائیوں کا الزام عائد کرتے ہیں۔ آئی ایس آئی اس کی تردید کرتی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ صوبے میں صورتحال خانہ جنگی کے قریب ہے۔

ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی کی صورتحال مزید خراب ہوئی ہے اور جولائی سال دو ہزار دس سے اب تک پینتالیس مسخ شدہ لاشیں ملی چکی ہیں جبکہ دو سو اٹھانوے افراد لاپتہ ہو چکے ہیں۔

گزشتہ سال ٹارگٹ کلنگ کے ایک سو سترہ واقعات پیش آئے اور ایک سو انیس افراد دھماکوں اور فرقہ ورانہ واقعات میں ہلاک ہوئے۔

دہشت گردی کا قہر

گزشتہ اکتوبر میں ایمنسٹی انٹرنیشل نے حکومت سے کہا تھا کہ وہ چالیس سے زائد بلوچ سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں پر تشدد اور ہلاکت کی تحقیقات کرے۔ تنظیم نے ان واقعات کو ’ مارو اور پھینک دو پالیسی‘ کہا ہے کیونکہ ہلاک ہونے والوں کے سر پر گولیوں اور جسم پر تشدد کے نشانات ملتے ہیں۔

فوج صوبے میں آئی سی آر سی یا انٹرنیشل کمیٹی آف ریڈ کراس کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا جائزہ لینے اور صوبے میں قیدیوں کی دیکھ بھال کی اجازت نہیں دیتی ہے۔

صوبے میں کئی عشروں سے رہائش پذیر غیر بلوچی آبادکاروں کے لیے شدت پسند قہر ثابت ہو رہے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے دو درجن کے قریب غیر بلوچی افراد کی ہلاکتوں کا ریکارڈ بنایا ہے جس میں اساتذہ، پروفیسرز شامل ہیں جنھیں گزشتہ بارہ ماہ کے دوران ہلاک کیا گیا۔

صوبے سے سینکڑوں اساتذہ کے انخلاء کی وجہ سے پہلے سے شکستہ حال تعلیمی نظام معطل ہو کر رہ گیا ہے۔

بلوچستان میں سنہ انیس سو سینتالیس سے اب تک پانچ مزاحمتی تحریکیں جنم لے چکی ہیں، لیکن اس حوالے سے پہلے کبھی شدت پسندوں نے غیر بلوچیوں رہائشیوں اور شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا تھا۔

پناہ گاہیں

فائل فوٹو، طالبان

بلوچستان اس وقت خطے کے بڑھتے ہوئے تصادم اور جنگوں کا مرکز بن چکا ہے۔

افغان طالبان کے رہنما افغانستان کی سرحد سے متصل اور پشتون قبائلی علاقوں کوئٹہ، قلعہ سیف اللہ اور چمن میں مقیم ہیں۔

افغانستان میں امریکی اور نیٹو کمانڈ کا کہنا ہے کہ طالبان دوبارہ مسلح ہونے اور اپنے جنگجووں کو آرام دینے کے لیے ان پناہ گاہوں کو استعمال کرتے ہیں جو یہاں آرام کے بعد جنوبی افغانستان میں نیٹو فورسز کے خلاف کارروائیاں کرتے ہیں۔

افعانستان میں امریکی اور نیٹو فوج کے سربراہ جنرل ڈیوڈ پیٹریس نے دھمکی دی ہے کہ اگر پاکستان نے ان پناہ گاہوں کے خلاف کارروائی نہیں کی تو وہ ان پر بمباری کریں گے۔

ایران پاکستان پر الزام عائد کرتا ہے کہ وہ ایرانی حکومت کے مخالف دہشت گرد گروپ جند اللہ کو جنوب مشرقی بلوچستان میں اڈے قائم کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

پندرہ دسمبر کو ایک خودکش بمبار نے بلوچستان کی سرحد سے متصل ایرانی بندرگاہ چاہ باغ میں حملہ کر کے تیس لوگوں کو ہلاک کر دیا تھا۔

جنداللہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ایران کی جانب سے ان کے رہنماؤں کو دی جانے والے سزاوں کا بدلہ ہے گزشتہ سال ان میں سے بعض کو پاکستان نے ایران کے حوالے کیا تھا۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی سرزمین سے جنداللہ کے تمام ارکان کو نکال دیا ہے۔

اسی دوران فرقہ ورانہ ہلاکتیں کا بھی بین الاقوامی وجود ہے۔

سنی فرقے کے شدت پسند تنظیموں جن میں سے بعض کو خلیج کی عرب ریاستوں سے فنڈز ملتے ہیں کوئٹہ میں ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے اہل تشیع کی ہلاکت میں سرگرم ہے۔

طالبان کا کہنا ہے کہ ہزارہ لوگ افغانستان میں امریکیوں کے لیے کام کرتے ہیں اور اس کو جواز بناتے ہوئے ان کو قتل کرتے ہیں۔

ملکی میں سیاسی بے چینی کی صورتحال کی وجہ سے زیادہ امکان یہ ہے کہ آئندہ آنے والے کئی ماہ میں بلوچستان کو کوئی زیادہ توجہ نہیں ملے گی۔لیکن صوبے میں امن و امان کا ختم ہونے سے پاکستان کی علاقائی سالمیت پر سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں اور صوبہ پنجاب کے دوسرے چھوٹے صوبوں کے درمیان کشیدگی بڑھے گی۔