رزمک سکاؤٹس قلعے پر حملہ، تین ہلاک

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں رزمک سکاؤٹس قلعہ پر نامعلوم شدت پسندوں نے حملہ کیا ہے جس کے نتیجہ میں تین سکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ تین زخمی ہوگئے ہیں۔
شمالی وزیرستان میں ایک سرکاری اہلکار نے بتایا کہ منگل کی شام شمالی وزیرستان کی تحصیل رزمک میں سکاؤٹس قلعہ پر ایک پہاڑی سلسلے سے نامعلوم شدت پسندوں نے تین راکٹ فائر کیے ہیں۔جن میں سے دو راکٹ قلعہ کے اندر ایک فوجی بیرک پر جاگرے ہیں۔جس کےنتیجہ میں تین اہلکار ہلاک جبکہ تین زخمی ہوگئے ہیں۔
انہوں نے بی بی سی کے نامہ نگار دلاورخان وزیر کو بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں صوبیدار محمداعظم لاس نائک محمد جمیل اور سپاہی گل محمد شامل ہیں اور زخمیوں میں نعمت اللہ، اصغر خان اور عصمت اللہ بتائے جاتے ہیں۔اہلکار کے مطابق لاشوں اور زخمیوں کو ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے رزمک سے بنوں منتقل کردیا ہے۔
اہلکار کا کہنا تھا کہ اس واقعہ کے بعد سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کی ہے جس میں توپ خانے کا بھی استعمال کیاگیا۔انہوں نے بتایا کہ جوابی کارروائی میں شدت پسندوں کے کئی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حملہ وزیرستان کے پہاڑی سلسلوں سے ہوا ہے، جہاں بیت اللہ گروپ کے مقامی طالبان کے شدت پسند موجود ہوسکتے ہیں۔
یادرہے کہ جنوبی وزیرستان میں پھیچلے سال سیکورٹی فورسز نے بیت اللہ گروپ کے مقامی طالبان کے خلاف رہ نجات کے نام سے ایک فوجی کارروائی کی جس کے بعد سے شدت پسند علاقہ چھوڑ کر دوسرے قبائلی علاقوں میں منتقل ہوگئے لیکن اب ایک بار پھر جنوبی وزیرستان سے سکیورٹی فورسز پر حملے ان کی موجودگی کا خدشہ ظاہر کرتے ہیں۔



