ڈاکٹر کے خلاف توہین رسالت کا مقدمہ

پاکستان کے شہر حیدرآباد میں ایک شخص کی درخواست پر پولیس نے شہر کے معروف معالج ڈاکٹر نوشاد ولیانی کے خلاف توہین رسالت کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔
پولیس نے ڈاکٹر نوشاد کو حراست میں بھی لے لیا ہے تاہم آر پی او حیدرآباد کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ درج نہیں ہونا چاہیے تھا۔
<link type="page"><caption> آر پی او حیدرآباد کا انٹرویو سنیے</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/multimedia/2010/12/101211_rpo_hyd_iv_zs.shtml" platform="highweb"/></link>
محمد فیضان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر نوشاد ولیانی نے جمعرات کے روز ان کا وزیٹنگ کارڈ ردی کی ٹو کری میں پھینک دیا تھا اور حضور کی شان میں گستاخانہ الفاظ ادا کیے۔
حیدرآباد میں نامہ نگار علی حسن کے مطابق سنیچر کو کئی میڈیکل کمپنیوں نے نمائندوں نے ڈاکٹر کی کلینک پر دھاوا بول دیا اور پہلے ڈاکٹر کو زدوکوب کیا پھر انہیں کینٹ تھانے لے گئے۔
اسماعیلی فرقے سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر نوشاد نے پولیس کو پیش آ نے والے واقعات سے آگاہ کیا اور کہا کہ وہ کسی طور پر بھی توہین رسالت کے مرتکب نہیں ہوئے ہیں۔
فیضان اور ان کے ساتھی ڈاکٹر نوشاد کی وضاحت پر مطمئن ہوگئے تھے لیکن اس سے قبل کہ معاملہ رفع دفع ہوتا، بعض کالعدم مذہبی تنظیموں سے وابستہ سرگرم کارکن تھانے پہنچ گئے۔
ان لوگوں نے موقف اختیار کیا کہ معاملے کو رفع دفع نہیں کیا جاسکتا اور پولیس کو باقاعدہ مقدمہ درج کرنا ہوگا۔ اس دوران تھانے کے باہر ہجوم سا لگ گیا جس نے نعرے بازی شروع کردی۔ مذہبی تنظیموں کے کارکنان کے مقدمہ درج کرنے کے مطالبے پر فیضان اور ان کے ساتھیوں نے بھی وہ ہی موقف اختیار کرلیا جس پر پولیس نے مقدمہ درج کرلیا
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حیدرآباد کے ریجنل پولیس افسر حیدرآباد سید مشتاق شاہ نے بی بی سی اردو سروس کے نامہ نگار احمد رضا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ مقدمہ درج نہیں ہونا چاہیے تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ بعض مذہبی تنظیموں کے کارکنوں نے سڑک بلاک کرکے احتجاج شروع کردیا تھا جس کی وجہ سے عشرہ محرم میں نقص امن سے بچنے کے لیے پولیس کو مقدمہ درج کرنا پڑا۔







