توہین قرآن، نابالغ ہونے کی بناء پر ضمانت

عدالت نے ملزم کو ایک لاکھ کے مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم دیا ہے
،تصویر کا کیپشنعدالت نے ملزم کو ایک لاکھ کے مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم دیا ہے

لاہور ہائی کورٹ نے توہین قرآن کے الزام میں گرفتار ایک ملزم کو نابالغ ہونے کی بناء پر ضمانت پر رہا کر دیا ہے۔

عدالت کے فیصلے میں قرار دیا گیا ہے کہ ملزم اپنی کم عمری کی وجہ سے ضمانت پر رہائی کا مستحق ہے۔

عدالت نے یہ حکم کم سن ملزم کی طرف سے دائر کی جانے والی ضمانت کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے دیا۔

ملزم رواں سال اگست سے جیل میں ہے اور اپنے خلاف توہین قرآن کے الزام میں درج مقدمے کا سامنا کر رہا ہے۔

لاہور کے علاقے فیکڑی ایریا کی پولیس نے عاصم نامی شخص کی درخواست پر سولہ سالہ شکیل کے خلاف توہین قرآن کے الزام میں مقدمہ درج کیا جو اس وقت ماتحت عدالت میں زیر سماعت ہے اور پولیس مقدمے کا چالان عدالت میں پیش کرچکی ہے۔

شکیل نے اپنے خلاف مقدمے میں رہائی کے لیے لاہور کی ماتحت عدالت میں ضمانت کی درخواست دائر کی لیکن عدالت نے اس درخواست کو مسترد کردیا۔

کم عمر ملزم نے ماتحت عدالت سے درخواست مسترد ہونے کے بعد لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور اس ضمن میں اپنی رہائی کے لیے درخواست دائر کی۔

نامہ نگار عبادالحق کے مطابق ضمانت کی درخواست میں یہ کہا گیا کہ مدعی اسلم نے ذاتی عناد کی وجہ سے ان کے خلاف من گھڑت الزامات میں مقدمہ درج کرایا ہے کیونکہ مدعی درخواست گزار کی بہن کو پریشان کرتا تھا اور ایسا کرنے سے روکنے پر اس کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔

درخواست سماعت کے دوران ملزم شکیل کے وکیل نے بتایا کہ ان کے موکل کی عمر سولہ برس ہے اور موکل کی عمر کے تعین کے لیے ان کی پیدائش کی سند بھی عدالت میں پیش کی۔

استغاثہ کی طرف سے یہ موقف اختیار کیا کہ ملزم نابالغ نہیں ہے بلکہ اس کی عمر بیس سال کے قریب ہے ۔

لاہور ہائی کورٹ نے جیل حکام کو حکم دیا کہ ملزم شکیل کو عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ اس کی عمر کا تعین کیا جاسکے۔

عدالت کے سامنے ملزم شکیل نے روتے ہوئے بتایا کہ وہ آٹھ بہنوں کا اکلوتا بھائی ہے اور اس کو بے بیناد الزام میں اولجھایا گیا ہے۔

ہائی کورٹ کے ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے ملزم کو ایک لاکھ کے مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم دیا۔