’ہم نے جان بچانے کے لیے دوڑ لگا دی‘

کراچی سی آئی ڈی کا دفتر
،تصویر کا کیپشنسی آئی دی سینٹر کے باہر کوئی خاص حفاظتی انتظامات نہیں تھے:عینی شاہد

محمد جمیل، عینی شاہد

محمد جمیل سی آئی ڈی سینٹر سے کچھ فاصلے پر کھڑے تھے، انہوں نے دیکھا کہ اچانک فائرنگ شروع ہو گئی ان کا کہنا تھا کہ’ افراتفری سی پھیل گئی اور ہم لوگوں نے جان بچانے کے لیے دوڑ لگادی ، اس دوران ایک بڑی گاڑی جو چھوٹے ٹرک جیسی تھی وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے والی گلی سے داخل ہوئی اور سی آئی دی سینٹر میں داخل ہونے کی کوشش کی اور ایک زوردار دھماکہ ہوا۔

دھماکے کے بعد ہمیں کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا اور سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا ہوگیا بعد میں ہم نے ایمبولینس کو طلب کیا۔

شوکت علی، عینی شاہد

شوکت علی سی آئی ڈی سینٹر کے سامنے رہائش پذیر ہیں اور اپنے ایک بیٹے کو ساتھ لیے پریشان تھے، انہوں نے بتایا کہ وہ ڈیوٹی پر گئے ہوئے تھے دھماکے کی اطلاع پر یہاں پہنچے تو دیکھا گھر پورا منہدم ہوچکا ہے بیوی اور تین بچوں کا کوئی پتہ نہیں چل رہا ہے۔

ان کے ساتھ موجود ان کے بارہ سالہ بیٹے نے بتایا کہ وہ گھر سے سامان کی دکان سے چیز لینے گیا ہوا تھا کے پیچھے شدید دھماکہ ہوا اور پورا علاقے میں مٹی اور دھول پھیل گئی جس میں کچھ نظر نہیں آرہا تھا جب وہ گھر کے قریب پہچنے تو ان کا گھر گرچکا تھا۔

گل زیب خان، عینی شاہد

مدینہ کالونی کے نام سے اس کالونی میں مقامی لوگوں کے مطابق ستر کے قریب گھر ہوں گے جو بری طرح متاثر ہؤئے، گل زیب خان نامی شخص نے بتایا کہ ان کا دو منزلہ گھر بھی گر گیا ہے جس سے اہل خانہ زخمی ہوئے ہیں لیکن ان کی حالت تشویش ناک نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وہاں کوئی آدھا گھنٹے تک فائرنگ کا سلسلہ جاری تھا، جس دوران انہوں نے اپنے گھر کا دروازہ بند کردیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ سی آئی دی سینٹر کے باہر کوئی خاص حفاظتی انتظامات نہیں تھے صرف ایک دو پولیس اہلکار کرسیاں ڈال کر بیٹھے ہوئے تھے۔

عینی شاہدین سے کراچی میں بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل نے بات کی۔