خالد خواجہ کون تھے؟

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے قبائلی علاقے میں شدت پسندوں کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے خالد خواجہ کو بائیس سال پہلے پاکستانی فضائیہ سے ریٹائر کر دیا گیا تھا اور وہ اس وقت سکوارڈن لیڈر کے رینک پر فائز تھے۔
اسی ملازمت کے دوران انہوں نے دو سال کے لیے پاکستانی فوج کی انٹیلیجنس ایجنسی آئی ایس آئی میں ڈیپوٹیشن پر بھی کام کیا تھا۔
سنہ اُنیس سو ستاسی میں فوج سے جبری ریٹائرمنٹ کے باوجود بھی وہ آئی ایس آئی کے لیے مختلف منصوبوں کے لیے کام کرتے رہے اور افغان جہاد میں بھی وہ مختلف معاملوں پر آئی ایس آئی کے لیے مبینہ طور پر خدمات سرانجام دیتے رہے۔
تاہم اس عرصے کے دوران لوگ اُنہیں زیادہ نہیں جانتے تھے۔خالد خواجہ کا نام لوگ اُس وقت جاننا شروع ہوئے جب نائن الیون کے واقعہ کے بعد انہوں نے مغربی میڈیا پر انٹرویو دیے کہ وہ القاعدہ کے لیڈر اُسامہ بن لادن کے پائلٹ رہے ہیں۔ خالد خواجہ کے اس دعوے نے تو پورے مغربی میڈیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی تھی۔
اپنی حیات کے دوران خالد خواجہ یہ دعوے بھی کرتے رہے کہ اُن کے پاکستان مسلم لیگ نون کے قائد میاں نواز شریف کے ساتھ ذاتی مراسم تھے اور سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کی حکومت کے خلاف مختلف سیاسی جماعتوں کے اتحاد اسلامی جمہوری اتحاد یعنی آئی جے آئی قائم کرنے میں انہوں نے آئی ایس آئی کے ساتھ مل کر اہم کردار ادا کیا تھا۔
خالد خواجہ کا یہ بھی دعوٰی تھا کہ انہوں نے میاں نواز شریف اور اُسامہ بن لادن کی دو سے زائد مرتبہ ملاقات کروائی تھی تاہم پاکستان مسلم لیگ نون کی طرف سے اس خبر کی تردید کی گئی ہے۔
کراچی میں امریکی صحافی ڈینیل پرل کی ہلاکت کے بعد امریکی خفیہ ادارے ایف بی آئی کے اہلکاروں نے خالد خواجہ سے پوچھ گچھ کی تھی تاہم اُنہیں حراست میں نہیں لیا گیا تھا۔
سابق ملٹری ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے دور میں اُنہیں ایک اور مقدمے میں دو سال کے لیے جیل میں رکھا گیا بعدازاں اُنہیں ضمانت پر رہا کردیا گیا۔ رہائی کے بعد خالد خواجہ نے لال مسجد آناشروع کردیا اور وہ لال مسجد کے خطیب مولانا عبدلعزیز کے چھوٹے بھائی غازی عبدالرشید کے قریبی دوستوں میں شمار ہونے لگے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ سنہ دو ہزار سات میں لال مسجد آپریشن سے پہلے لال مسجد کے طلباء کی طرف سے ایف ایٹ میں چینی مساج سینٹر سے چینی خواتین کو اغواء کرنے کا معاملہ ہو یا پھر آبپارہ اور دوسری مارکیٹوں میں سی ڈیز کو آگ لگانے کا واقعہ سب میں خالد خواجہ کا نام آتا تھا۔
لال مسجد آپریشن سے پہلے اسلام آباد کی انتظامیہ اور لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز اور اُن کے چھوٹے بھائی عبدالرشید غازی کے ساتھ مذاکرات میں شامل ایک انتظامیہ کے اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ضلعی انتظامیہ اور لال مسجد کی انتظامیہ کے درمیان مذاکرات نتیجہ خیز ہونے والے تھے اور مسجد کی انتظامیہ لال مسجد میں موجود اسلحہ ضلعی انتظامیہ کے حوالے کرنا چاہتی تھی کہ اسی دوران خالد خواجہ لال مسجد سے ملحقہ جامعہ حفصہ کی ایک سو سے زائد طالبات کو لے کر وہاں آگئے اور انہوں نے ضلعی انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کے علاوہ اُن پر پتھراؤ بھی شروع کردیا۔
انہوں نے کہا کہ اس واقعہ کے بعد حکومت کی طرف سے لال مسجد آپریشن کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اس آپریشن میں سرکاری اعداوشمار کے مطابق ایک سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے جس میں کوئی خاتون شامل نہیں تھی جبکہ لال مسجد کے نائب خطیب غازی عبدالرشید اپنی والدہ کے ہمراہ جامعہ حفصہ میں مردہ پائے گئے۔ لال مسجد کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کے دوران تین سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے جن میں جامعہ حفصہ کی طالبات بھی شامل تھیں۔
اس آپریشن کے بعد خالد خواجہ کو گرفتار کر لیا گیا اور بعدازاں رہائی کے بعد وہ اُس وقت کے ملٹری ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے خلاف اقدام قتل اور حبسِ بےجا میں رکھنے کا مقدمہ درج کروانے کے لیے کوششیں کرتے رہے جو تادم مرگ پوری نہ ہوئی۔
لال مسجد آپریشن کے بعد لاپتہ ہونے والے افراد کا معاملہ بھی خالد خواجہ نے اُٹھایا جس کے بعد ڈیفنس آف ہومین رائٹس کی چیئرپرسن آمنہ مسعود جنجوعہ کے ساتھ ملکر انہوں نے ملک کے مختلف علاقوں سے لاپتہ ہونے والے افراد کی فہرست جمع کرکے سپریم کورٹ میں پیش کی۔
اس اقدام پر سپریم کورٹ نے نوٹس لیتے ہوئے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے سمیت دیگر خفیہ اداروں کے اہلکاروں کو طلب کیا اور خفیہ ایجنسیوں کی تحویل سے متعدد افراد کو بازیاب کروالیا گیا۔ اس سے پہلے لاپتہ افراد سے متعلق کوئی نوٹس نہیں لیا گیا تھا۔







