فون سِم کی جلد تصدیق کرائیں: پولیس

- مصنف, عبدالحئی کاکڑ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
صوبہ سرحد پولیس کا کہنا ہے کہ ملک میں ہونے والے نوے فیصد جرائم میں موبائل فون کا استعمال ہوتا ہے لہٰذا صارفین اپنی حفاظت کی خاطر اپنی سِم کی جلد سے جلد تصدیق کروائیں۔
صوبہ سرحد پولیس سربراہ ملک نوید کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ موبائل فون صارفین کو بغیر کسی دستاویزی شناخت کے فون کی سِم جاری ہوتے ہیں اور ملک میں اس وقت جتنے بھی جرائم ہو رہے ہیں ان میں نوے فیصد میں موبائل فون کا استعمال ہوتا ہے۔
پولیس سربراہ نے صارفین سے درخواست کی ہے کہ وہ جلد سے جلد اپنی سِم کی دستاویزی تصدیق کروائیں بصورت دیگر پندرہ روز کے بعد اگر کسی بھی تخریب کاری میں کسی کے نام سے جاری ہونے والی سِم کے استعمال کا پتہ چلا تو اس سِم کے مالک کو بھی شاملِ تفتیش کیا جائے گا۔
انہوں نے تمام موبائل فون کمپنیوں کے نمائندوں پر بھی زور دیا ہے کہ وہ ملک اور اپنے صارفین کے مفاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے قومی شناختی کارڈ کی کاپی اور نادرا کی تصدیق کے بعد ہی سِم جاری کیا کریں۔ اس کے علاوہ موبائل کمپنیوں سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ نہ صرف اپنے ڈیلروں کو جوابدہ بنائیں بلکہ اس سلسلے میں میڈیا کے ذریعے اشتہاری مہم بھی چلائیں۔
پولیس سربراہ نے کمپنیوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنا ڈیٹا بیس بنالیں اور اس میں جاری کیے جانے والی تمام سِموں کا اندراج کرلیں جبکہ اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ سِم جاری کرتے وقت اس شخص کے قومی شناخت کارڈ کا محتاط انداز میں جائزہ لیں اور اس سے کسی پاکستانی شہری کی ضمانت حاصل کرلیں۔
یاد رہے کہ حکومت کی جانب سے تخریبی کارروائیوں میں موبائل فون کے استعمال کے ان حکومتی اعلانات کے بعد موبائل فون پر صارفین کے لیے ایک نیا طریقہ متعارف کرایا گیا ہے جس میں کسی بھی نیٹ ورک کا صارف اپنے قومی شناخت کارڈ کا نمبر 668 پر بھیجتا ہے اور کچھ دیر بعد ہی اس سے جوابی پیغام میں یہ تفصیلات فراہم کی جاتی ہے کہ اس کے نام کس کس نیٹ ورک سے کتنے سِم کارڈ جاری ہوئے ہیں۔
پشاور میں کئی صارفین نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے اور ان کے دیگر دوست و احباب نے مذکورہ مخصوص نمبر پر جب اپنا شناختی کارڈ کا نمبر بھیجا تو انہیں جواب میں ان کے زیر استعمال سِموں سے زیادہ بتایا گیا۔
ان کے بقول جب انہوں نے اس بارے میں فون کمپنیوں کو شکایت کی تو انہیں بتایا گیا کہ پہلے بازار میں ڈیلروں کو جو سِم دیے گئے تھے وہ شناختی کارڈ کی کاپی کسی ایک شخص سے وصول کرتے لیکن بعد میں اسی شناخت کارڈ کی کاپی کی بنیاد دوسرے غیر متعلقہ لوگوں کو بھی سِم بیچتے رہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







