’جوہری ہتھیار رپورٹ گمراہ کن، بےبنیاد ہے‘

سیمور ہرش نے ایک مرتبہ پھر اس رپورٹ کے ذریعے اپنے پاکستان مخالف ہونے کا ثبوت دیا ہے: وزارت خارجہ
،تصویر کا کیپشنسیمور ہرش نے ایک مرتبہ پھر اس رپورٹ کے ذریعے اپنے پاکستان مخالف ہونے کا ثبوت دیا ہے: وزارت خارجہ
    • مصنف, بیورو رپورٹ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کی وزارت خارجہ نے معروف امریکی صحافی سیمور ہرش کے امریکی جریدے ’دی نیو یارکر‘ میں پاکستانی جوہری ہتھیاروں اور فوج کے اندر بغاوت سے متعلق رپورٹ کو گمراہ کن اور مکمل طور پر بےبنیاد قرار دیا ہے۔

اس رپورٹ میں غیرمستحکم پاکستان میں جوہری ہتھیاروں کے شدت پسندوں کے ہاتھ لگنے اور فوج کے اندر بغاوت کے امکانات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستانی جوہری تنصیبات کو دہشت گردوں کے ہاتھوں کسی بھی خطرے کے پیش نظر چند گھنٹوں میں تحویل میں لینے کے لیے امریکی جوائنٹ سپیشل آپریشن کمانڈ کے دستے علاقے میں موجود ہیں جن کے پاس سکیورٹی منصوبہ بھی موجود ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے ایک بیان میں ’ہتھیاروں کا دفاع - کیا ایک غیرمستحکم پاکستان میں جوہری ہتھیار محفوظ رکھے جاسکتے ہیں‘ کے عنوان سے اس رپورٹ پر کافی سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی صحافی سیمور ہرش نے ایک مرتبہ پھر اس رپورٹ کے ذریعے اپنے پاکستان مخالف ہونے کا ثبوت دیا ہے۔

دوسری جانب اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے سے جاری بیان میں امریکی سفیراین ڈبلیوپیٹرسن نے اس رپورٹ کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی فوج اور امریکہ کے مابین جوہری ہتھیاروں کی حفاظت کے لیے مذاکرات کے الزامات بالکل بے بنیاد ہیں۔ امریکی سفیر نے بھی اس رپورٹ کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ پاکستانی جوہری ہتھیاروں کی حفاظت کے لیے پاکستان فوج کی مدد فراہم نہیں کر رہا اور نہ ہی جوہری اثاثوں یا مواد پر قبضے کی خواہش رکھتا ہے۔

’دی نیویار کر‘ کی طویل رپورٹ میں یہ شبہ ظاہر کیا گیا ہے کہ جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت والے ایف سولہ طیاروں کی سرگودھا ایئربیس پر موجودگی ظاہر کرتی ہے کہ جوہری تنصیبات علاقے میں موجود ہیں۔

سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ انہوں نے جوہری اسلِحہ کی حفاظت سے متعلق بتایا کہ وہ سب محفوظ ہیں جو کہ ایک طویل اور گہری سرنگ میں رکھے گیے ہیں تاکہ ترسیل میں آسانی ہو اورگہرائی کی وجہ سے کسی بھی حملے کی صورت میں محفوظ رہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکاہ پاک فوج کے ساتھ حساس نوعیت کے مذاکرات کر رہا ہے ۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ دنوں پاکستان کے دفاعی شعبے کو دی جانے والی چار سو ملین ڈالر امداد بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے تاکہ فوج اپنی ضروریات پوری کر سکے۔

پاکستان وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اسٹریٹجک و ایٹمی اثاثے تہہ در تہہ محفوظ ہیں اور ان کا کمانڈ اینڈ کنٹرول انتہائی فول پروف ہے۔ ’حفاظت کا تمام تر نظام مقامی ہے۔ تحفظ کے لیے کسی امداد کی ضرورت ہے نہ ان اثاثوں تک کسی کو رسائی کی اجازت دیں گے۔‘ ان کے مطابق پاکستانی افواج حفاظت کی ہر ممکن صلاحیت رکھتی ہیں۔ ’سکیورٹی کے بار ے میں امریکی حکام سے گفت و شنید کا سوچ بھی نہیں سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں کوئی بھی تجویز انتہائی مضحکہ خیز ہوگی جبکہ چند عناصر پاکستان مخالف گھناؤنے اور گمراہ کن پروپیگنڈ ے پرعمل پیرا ہیں جوکسی صورت کامیاب نہیں ہو سکتے۔‘

ترجمان دفتر خارجہ عبدالباسط نے رپورٹ کو سازش اور پاکستان مخالف گمراہ کن پروپیگنڈ ے کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ مصنف کی جانب سے غلط اور لغو معلومات شائع کرکے انتہائی غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا گیا ہے جس کا بنیادی مقصد چند عناصر کی پشت پناہی سے پاکستان کے تشخص کو داغدار کرنا ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ مضمون کے مصنف سیمور ہرش پروپیگنڈا پر کام کرتے ہوئے اپنی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کے حال ہی میں دیے گئے بیان کو بھول گئے جس میں انہوں نے جوہری اثاثوں کے تحفظ پر اطمینان کا اظہار کیا تھا۔ لہٰذا کالم نگار کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اورسنسنی خیزی سے پرہیز کرتے ہوئے حقائق کو اُجاگر کرنا چاہیے۔