فوج کی کمان میں تبدیلی کی علامت جنرل کی چھڑی کیا ہے؟

چھڑی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, تابندہ کوکب
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام

پاکستان کی فوج کے نئے سربراہ جنرل عاصم منیر نے راولپنڈی میں منعقدہ تقریب میں باضابطہ طور پر برّی فوج کی کمان سنبھال لی ہے۔

جنرل عاصم منیر نے جنرل قمر جاوید باجوہ کی جگہ لی ہے جو چھ سال تک پاکستان کی بری فوج کے سربراہ رہنے کے بعد ریٹائر ہوئے ہیں۔

جنرل عاصم منیر پاکستان کے بری فوج کے 17ویں سربراہ ہیں۔ کمان کی تبدیلی کی تقریب منگل کی صبح راولپنڈی میں واقع بری فوج کے صدر دفتر جی ایچ کیو میں منعقد ہوئی جس میں جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے عہدے کی ذمہ داریاں اور ’کمانڈ سٹک‘ نئے فوجی سربراہ جنرل عاصم منیر کو سونپی یعنی پاکستان کی بری فوج کی قیادت کی یہ چھڑی اب جنرل عاصم منیر کے ہاتھ میں ہو گی۔

مگر یہ چھڑی کی کہانی کیا ہے؟ یہ کہاں سے آئی اور اسے کون لایا اس بارے میں بی بی سی نے سنہ 2013 میں ایک تحریر شائع کی تھی جسے آج قارئین کی دلچسپی کے پیش نظر دوبارہ پیش کیا جا رہا ہے۔

جنرل باجوہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان کے فوجی افسران کو دی جانے والی چھڑی کیا ہے؟

پاکستان کی فوج میں بریگیڈیئر اور اس سے اوپر کے عہدے میں ترقی پانے والے ہر افسر کو ایک چھڑی سونپی جاتی ہے۔

’کمانڈ سٹک‘ یا ’بیٹن‘ کہلانے والی یہ چھڑی کسی عہدے کی ذمہ داریوں کی منتقلی کا علامتی نشان ہوتی ہے۔

دفاعی تجزیہ کار اور فوج سے ریٹائرڈ بریگیڈیئر شوکت قادر اس بارے میں بتایا کہ کمان کی یہ چھڑی انگریز لائے تھے اور تب سے یہ روایت کا حصہ چلی آ رہی ہے۔

کیا اس علامت کو فوج سے وابستہ کسی ہتھیار یعنی تلوار یا بندوق سے تبدیل کرنے کی کوشش یا خواہش نہیں کی گئی؟

بریگیڈیئر شوکت قادر نے کہا کہ وہ شاید اس سے زیادہ وضاحت نہ کر سکیں کہ ’انگریز ایک علامت دے گئے اور ہم اسی کی پیروی کرتے رہے۔‘

یہ بیٹن سنگاپور سے منگوائے گئے ملاکا کین سے تیار کی جاتی ہے اور ون سٹار افسر یعنی بریگیڈیئر سے اوپر کے افسران کو ملتی ہے۔ ہر پرانا افسر اپنے بعد آنے والے افسر کو یہ چھڑی سونپتے ہوئے ایک نئی چھڑی تھام کر نئے عہدے پر ترقی کر جاتا ہے۔

فوجی افسر کی یہ چھڑی ٹوٹ بھی جائے تو اس کی اہمیت کم نہیں ہوتی۔

یہ بھی پڑھیے

Pakistan Chief of Army Staff

سابق بریگیڈئیر شوکت قادر نے بتایا کہ ماضی میں ایک فوجی افسر نے اپنی بیوی کے اغوا کار کی پٹائی کرتے ہوئے اس کے کندھے پر اپنی چھڑی توڑ دی تھی اور جب اسے یہ عہدہ دوسرے افسر کو سونپنا پڑا تو انھوں نے وہی ٹوٹی ہوئی چھڑی انھیں دی تھی۔

شوکت قادر کے بقول یہ بات فوج کے ریکارڈ پر ہے۔

تو کیا ایک بریگیڈیئر کی چھڑی اور جنرل کی چھڑی میں ساخت، حجم یا شباہت کے لحاظ سے کوئی فرق ہوتا ہے؟

برگیڈیئر ریٹائرڈ شوکت قادر نے کہا کہ ’چھڑی کی اہمیت صرف علامتی ہے اور یہ محض افسر کی شخصیت میں مزید رعب اور دبدبہ ظاہر کرتی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اہمیت عہدے اور ان ذمہ داریوں کی ہوتی ہے جو ایک افسر نئے افسر کو سونپ کر جاتا ہے۔‘