ارشد شریف: پاکستانی صحافی کی کینیا میں ہلاکت پولیس کی مبینہ فائرنگ کا نتیجہ، تحقیقات جاری: حکام

پاکستانی صحافی ارشد شریف کی کینیا میں پولیس اہلکاروں کی مبینہ فائرنگ سے ہلاکت کی خبر سامنے آنے کے بعد صحافیوں اور صحافتی تنظیموں کے علاوہ ملک کی اہم سیاسی شخصیات کی جانب سے جہاں اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے وہیں اس واقعے کی غیرجانبدارانہ اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔

ارشد شریف اتوار کی شب کینیا کے دارالحکومت نیروبی کے قریب فائرنگ کے ایک واقعے میں مارے گئے تھے اور ان کی موت کی تصدیق ان کی اہلیہ نے پیر کی صبح کی۔ جویریہ صدیق نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’آج میں نے اپنا دوست، شوہر اور پسندیدہ صحافی کھو دیا۔

انھوں نے یہ بھی اپیل کی کہ ارشد شریف کی کینیا کے مقامی ہسپتال میں لی جانے والی آخری تصویر کو شیئر نہ کیا جائے۔

ارشد شریف نے رواں سال اپریل میں سابق وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے بعد یہ دعویٰ کیا تھا کہ انھیں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے ہراسانی کا سامنا ہے۔

بعدازاں وہ ملک چھوڑ کر چلے گئے تھے اور اطلاعات کے مطابق خود ساختہ جلا وطنی کے دوران وہ دبئی اور لندن میں مقیم رہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ ارشد شریف کینیا میں کیا کر رہے تھے۔

میت کی واپسی کے لیے قانونی عمل شروع: مریم اورنگزیب

پاکستان کے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’اس واقعے سے متعلق حقائق جاننے کے لیے (ہم) کینیا کی حکومت سے رابطے میں ہیں۔ نیروبی میں موجود پاکستانی سفارتخانہ ارشد شریف معاملے میں مکمل معاونت کر رہا ہے۔‘

وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ میت کی شناخت مکمل ہوچکی ہے اور اس کی پاکستان منتقلی کے لیے قانونی عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

پاکستان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا ہے کہ کینیا میں پاکستان کی سفیر سیدہ ثقلین نے ارشد شریف کی میت کی شناخت کر لی ہے اور میت کی واپسی کے لیے قانونی عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

ان کے مطابق کینیا کی حکومت نے سرکاری طور پر ارشد شریف کی موت کے بارے میں اب تک کچھ نہیں بتایا۔ ’جیسے ہی کینیا کی حکومت ہمیں آگاہ کرے گی، ہم تفصیلات سے ارشد شریف کے اہل خانہ اور عوام کو آگاہ کریں گے۔‘

مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ پاکستانی میڈیا پر ارشد شریف سے متعلق جاری قیاس آرائیاں افسوسناک ہیں۔ 'مصدقہ حقائق سامنے آنے تک قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے۔ ارشد شریف کی موت کے حوالے سے تمام حقائق تک پہنچیں گے۔'

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ٹیلی فون پر ارشد شریف کی والدہ سے تعزیت کی اور اس بات چیت کے دوران بیٹے کی میت جلد پاکستان لانے کی درخواست پر وزیر اعظم نے یقین دہانی کرائی کہ اس سلسلے میں تمام اقدامات ہنگامی بنیادوں پر کیے جا رہے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ حکومت پاکستان اس سلسلے میں کینیا کی حکومت سے مسلسل رابطے میں ہے اور معمول کی کاروائی کے مکمل ہوتے ہی ارشد شریف کی میت کو پاکستان لایا جائے گا۔

وزیر اعظم ہاؤس کے مطابق ارشد شریف کی میت کی وطن واپسی کے لیے وزیراعظم نے سیکریٹری خارجہ اور سیکریٹری داخلہ کو یہ عمل تیز بنانے کی ہدایت کی ہے اور دونوں وفاقی سیکریٹریز سے کہا ہے کہ میت کی وطن واپسی کے تمام مراحل کی ذاتی طور پر نگرانی کریں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کینیا کے صدر ولیم روٹو کو ٹیلی فون کر کے پاکستانی صحافی ارشد شریف کے موت کے حوالے سے بات کر کے واقعے کی غیرجانبدارانہ اور شفاف تحقیقات پر زور دیا۔

وزیراعظم نے پاکستانی قوم اور میڈیا برادری کی جانب سے واقعے پر شدید تشویش سے کینیا کے صدر کو آگاہ کیا ۔ انھوں نے ارشد شریف کی میت کی جلد وطن واپسی کے لیے ضابطے کی کارروائی جلد مکمل کرنے کی درخواست کی۔

اس موقعے پر کینیا کے صدر نے واقعے پر افسوس کا اظہارکیا انصاف کے تقاضے پورے کرنے کی یقین دہانی اور کہا کہ واقعے کی تحقیقاتی رپورٹ جلد پیش کی جائے گی۔

دوسری طرف اسلام آباد ہائیکورٹ نے ارشد شریف کے مبینہ قتل سے متعلق ایک درخواست پر وزارت داخلہ اور خارجہ کے نامزد افسر کو ارشد شریف کی فیملی سے فوری ملاقات کی ہدایت کرتے ہوئے منگل تک رپورٹ طلب کی ہے۔

سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ صحافی کی میت نیروبی میں ہے۔

ارشد شریف کی ہلاکت کی خبر سامنے آنے کے بعد صحافیوں اور صحافتی تنظیموں کے علاوہ ملک کی اہم سیاسی شخصیات کی جانب سے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔

پاکستان کے صدر ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا ہے کہ ارشد شریف کی موت صحافت اور پاکستان کے لیے بڑا نقصان ہے۔ ’ان کی روح کو سکون ملے اور ان کے اہلخانہ بشمول ان کے فالوورز کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی طاقت ملے۔‘

وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اپنے پیغام میں کہا کہ ’ارشد شریف کی موت کی حیران کن خبر پر مجھے بہت دُکھ ہے۔‘

سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ وہ اس ’بہیمانہ قتل‘ پر بےحد صدمے میں ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ارشد شریف کو ’ملک چھوڑنا پڑا مگر بیرونِ ملک پناہ کے دوران بھی انھوں نے سوشل میڈیا پر سچ بولنے اور طاقتور لوگوں کو بےنقاب کرنے کا سلسلہ جاری رکھا‘۔

یہ بھی پڑھیے

بیرون ملک روانگی سے قبل ہراساں کیے جانے کا دعویٰ

کراچی میں پیدا ہونے والے 49 سالہ ارشد شریف نے متعدد پاکستانی نیوز چینلز میں کلیدی عہدوں پر کام کیا تھا۔ خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرنے سے قبل وہ نجی نیوز چینل اے آر وائی سے منسلک تھے تاہم عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد انھیں نوکری سے فارغ کر دیا گیا تھا جس کا اعلان ان کے ملک چھوڑنے کے چند دن بعد اے آر وائی کی جانب سے کیا گیا تھا۔

بعدازاں وہ بیرون ملک سے اکثر وی لاگز کے ذریعے اپنی رائے کا اظہار کرتے رہتے تھے اور عمران خان کے خلاف ’بیرونی سازش‘ کے بیانیے کے حامی تھے۔

عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد بھی انھوں نے دعویٰ کیا تھا انھیں ایف آئی اے کی جانب سے ہراسانی کا سامنا ہے۔ ان کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایف آئی اے کو صحافیوں کے خلاف شکایت کی صورت میں صحافتی تنظیموں کے ساتھ رابطہ کرنے کا حکم دیا تھا۔

ارشد شریف کے وکیل فیصل چوہدی کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ اُن کے موکل (ارشد شریف) کو ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ موجودہ حکومت نے اُن کو سبق سکھانے کا فیصلہ کیا ہے اور ان کو گرفتار کیا جا سکتا ہے جس کی وجہ ارشد شریف کی رپورٹنگ اور حکومت پر تنقید بتائی گئی۔

درخواست کے مطابق ارشد شریف ذرائع سے ملنے والی ان معلومات کے بعد ڈرے ہوئے تھے کیونکہ ’سول کپڑوں میں ملبوس افراد اُن کے گھر اور خاندان کی نگرانی کر رہے ہیں۔‘

تاہم ایف آئی اے کا دعویٰ تھا کہ اس نے نہ تو ارشد شریف کو گرفتار کیا ہے اور نہ ہی انھیں ہراساں کیا گیا۔ عدالتی حکم کے مطابق ایف آئی اے کے ڈائریکٹر نے بتایا تھا کہ درخواست گزار کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں۔