عاصمہ شیرازی کا کالم: سیاسی اُترن کا لنڈا بازار

    • مصنف, عاصمہ شیرازی
    • عہدہ, صحافی

موسم بدل رہا ہے اور ہر بدلتے موسم کی خنکی یا گرمی لہجوں میں بھی اُتر آتی ہے۔ ٹھنڈے دن گرم لحاف میں لپٹ رہے ہیں مگر نہیں بدلا تو ہماری سیاست کا مزاج۔ سیاسی لنڈا بازار سج گیا ہے، سیاسی بیرونی اُترن پہننے کے دن مگر جاتے دکھائی دے رہے ہیں۔

مارکیٹ میں لنڈے کے روشن خیال، لنڈے کے مفکر، لنڈے کے پروفیسروں جیسی اصطلاحات تو سُنتے آئے ہیں مگر اب اس میں لنڈے کے اسٹیبلشمنٹ مخالف بھی شامل ہو چُکے ہیں۔

صورتحال یوں ہے کہ کل تک جو طاقت کے مراکز کو اپنی طاقت کا ذریعہ سمجھتے تھے آج جب وہ طاقت دستیاب نہیں تو اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ بیچ رہے ہیں اور جو کل تک پھپھے کُٹنیوں کی طرح ایک صفحے کے طعنے دے رہے تھے آج اُس صفحے کی تحریر بننے کی کوششوں میں ہیں۔

کل تک جو پنڈی سے آنے والی ہواؤں کے چھو جانے پر مُسرت کا اظہار کرتے تھے آج ہواؤں کا رُخ بدل جانے پر پنڈی میں لُو برسنے کی بددعائیں دے رہے ہیں، کبھی مجھے کیوں نکالا تھا اور کبھی مجھے ہی کیوں نکلوایا کا شکوہ سنائی دے رہا ہے۔

یہ گِلے بھی اپنی جگہ کہ ’مجھے جتنا ذلیل کیا کسی وزیراعظم کو ایسا نہیں کیا گیا‘ یعنی مجھے ہی کیوں اتنا ذلیل کیا گیا، کی پولی پولی ناراضگی۔۔ کچھ ’نیوٹرل ہونے‘ اور کچھ ’نیوٹرل نہ ہونے‘ کے دعویدار، گویا موضوع سُخن بھی ’وہ‘ اور حاصل سُخن بھی ’وہی۔‘

آسمان بھی ایسے ایسے رنگ بدل رہا ہے کہ کیا کہنے۔۔۔ کل تک میڈیا پر پابندیاں عائد کرنے والی جماعت آج آزادی صحافت کی سب سے بڑی پرچارک بننے کی کوشش میں ہے جبکہ خان صاحب کی یادداشت سے نکل چُکا کہ اُن کے دور میں صحافیوں کی زُبان بندی کے لیے کیا کیا حربے استعمال ہوئے۔

کل تک وزیراعظم ہاؤس اور آفس کے فون ٹیپ کرنا پریمیئر ایجنسی کا کارِ منصبی قرار پایا، آج خان صاحب ایجنسیوں کی ریکارڈنگ پر سراپا احتجاج ہیں اور آج جو جشن منا رہے ہیں وہ کل ایجنسیوں پر انگلیاں اُٹھا رہے تھے۔ عقل انگشت بدنداں ہے کہ دُنیا کیا سے کیا ہو جائے گی۔

عاصمہ شیرازی کے دیگر کالم پڑھیے

وقت اور حالات ایک سے نہیں رہے۔ کل تک مہنگائی کی بین الاقوامی وجوہات گوش گُزار کرنے والے آج عوام کے غم میں ہیں اور تب عوام کے لیے مہنگائی مارچ کرنے والے عالمی منڈی کی قیمتیں بطور جواز پیش کر رہے ہیں۔ باوجود اس کے کہ اس وقت عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہیں عوام کے نصیب میں تاحال پھر صرف وہی تسلیاں اور وعدے۔

بہرحال آج کل اسٹیبلشمنٹ مخالف ہونے کا فیشن ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر کل تک جھوم جھوم کر غداری کے فتوے بانٹنے والے چُنے مُنے آج سویلین بالادستی کے لیے آواز اُٹھا رہے ہیں۔ آئین شکن آئین کی سر بُلندی کی باتیں کر رہے ہیں، ’predators‘ آزادی صحافت کے چمپیئن ہیں اور لنڈے کے لبرل کے طعنے دینے والے لنڈے کے اسٹیبلشمنٹ مخالف ہونے کے دعوے دار۔۔۔

عرض کیا ہے کہ موسم بدلا ہے، مزاج ابھی بھی ویسے ہی ہیں۔ اصل تبدیلی تب آئے گی جب وفاداری سیاسی جماعتوں کے ساتھ نہیں آئین اور قانون کے ساتھ دکھائی جائے گی، انقلاب تب آئے گا جب سیاست نہیں جمہوریت کو نقطہ نظر بنایا جائے گا اور صحافت تب آزاد ہو گی جب سچ دکھائی دے گا سچ سُنائی دے گا اور سویلین بالادستی تب ہو گی جب فوج ہمیشہ بیرکس میں رہے گی اور سیاست کی طاقت کا مرکز اسٹیبلشمنٹ نہیں بلکہ جمہور ہوں گے۔