بلوچستان میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، دو میجرز سمیت چھ اہلکار ہلاک

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق اتوار کی رات صوبہ بلوچستان میں فوجی ہیلی کاپٹر حادثے میں دو پائلٹس سمیت چھ فوجی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق یہ حادثہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ہرنائی کے قریب خوست کے علاقے میں پیش آیا۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ جب حادثہ پیش آیا ہیلی کاپٹر ایک مشن پر تھا جس کے نتیجے ہیلی کاپٹر پر سوار تمام چھ فوجی اہلکار ہلاک ہوئے۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں اس حادثے کی وجوہات کے بارے میں نہیں بتایا گیا۔

اس ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہونے والوں میں پائلٹ میجر محمد منیب افضل، پائلٹ میجر خرم شہزاد کے علاوہ نائیک جلیل، صوبیدار عبدالوحید، سپاہی محمد عمران اور سپاہی شعیب شامل ہیں۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں سے 39 سالہ میجر خرم شہزاد شادہ شدہ اور اٹک کے رہائشی تھے جب کہ 30 سالہ میجر منیب افضل راولپنڈی کے رہائشی تھے۔

دیگر ہلاک ہونے والے اہلکاروں میں سے 44 سالہ صوبیدار عبدالوحید کا تعلق کرک، 27 سالہ محمد عمران کا تعلق خانیوال، 30 سالہ نائیک جلیل گجرات اور ساپی شعیب اٹک کے رہائشی تھے۔

کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی جانب سے جاری ایک بیان میں فوجی ہیلی کاپٹر کو مار گرانے کا دعوی کیا گیا ہے۔ تاہم بی بی سی اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکتا۔

یہ بھی پڑھیے

دوماہ کے دوران ہیلی کاپٹر کریش کا دوسرا واقعہ

بلوچستان میں دو ماہ کے دوران ہیلی کاپٹر کریش کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل کراچی سے متصل بلوچستان کے ضلع لسبیلہ میں ایک فوجی ہیلی کاپٹر کریش ہوا تھا۔

اس حادثے میں سابق کور کمانڈر بلوچستان لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی، ڈائریکٹر جنرل پاکستان کوسٹ گارڈز میجر جنرل امجد حینف، بریگیڈیئر محمد خالد سمیت چھ اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

یہ واقعہ یکم اگست کو ضلع لسبیلہ کے علاقے ساکران کے پہاڑی علاقے میں اس وقت پیش آیا تھا جب سابق کور کمانڈر ضلع میں سیلاب متائثرین کے لیے ریلیف اور ریسکیو آپریشن کا جائزہ لینے کے بعد کراچی جارہے تھے۔

ہرنائی کہاں واقع ہے؟

ہرنائی بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے شمال مشرق میں اندازاً 180 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

یہ ضلع زیادہ تر سنگلاخ پہاڑی علاقوں پر مشتمل علاقہ ہے۔

یہ ضلع سیر وسیاحت کے لیے معروف بلوچستان کے ضلع زیارت سے متصل ہے جبکہ اس کی سرحدیں ضلع کچھی کے علاقے بولان، سبی اور کوہلو سے بھی لگتی ہیں۔

بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے ضلع ہرنائی کے متعدد علاقوں میں سیکورٹی فورسز پر حملوں کے علاوہ بد امنی کے دیگر واقعات بھی پیش آرہے ہیں۔

ہرنائی کے بعض علاقوں کا شمار ان علاقوں میں ہوتا ہے جو کہ شورش سے بہت زیادہ متاثر ہیں اور کچھ عرصہ قبل ہرنائی کے بعض علاقوں میں آرمی کی بھی تعیناتی عمل میں لائی گئی۔

ہرنائی میں سکیورٹی فورسز پر حملوں اور بدامنی کے بعض دیگر واقعات کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن قبول کرتی رہی ہے۔

تایم سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کے باعث اب ہرنائی میں صورتحال میں بہتری آئی ہے۔