آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سیلاب ڈائری: سوات میں تباہی کی داستان اور لاڑکانہ میں مدد کے منتظر متاثرین
پاکستان میں غیرمعمولی طویل مون سون کے دوران شدید بارشوں اور ان کے نتیجے میں آنے والے سیلاب نے تباہی مچا دی ہے۔ حکام کے مطابق اس سیلاب سے سوا تین کروڑ سے زیادہ افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔
بی بی سی اردو کے نمائندے ملک کے مختلف علاقوں میں جا کر سیلاب سے ہونے والے نقصانات اور امدادی کارروائیوں کے بارے میں رپورٹ کر رہے ہیں جنھیں ایک ڈائری کی شکل میں پیش کیا جا رہا ہے۔اس سلسلے کی دوسری قسط میں جانیے کہ عزیز اللہ خان نے سوات میں اور ریاض سہیل نے سندھ کے ضلع لاڑکانہ میں کیا دیکھا۔
عزیزاللہ خان بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، سوات
بحرین میں ٹھاٹھے مارتا دریا عام دنوں میں بھی دیکھنے اور سننے والوں پر عجیب سا خوف طاری کر دیتا ہے۔ لیکن آج اس کی آواز میں خوف کے ساتھ افسردگی بھی محسوس ہوئی۔
ہم سیلاب کی صورت حال جاننےکے لیے پشاور سے سوات کی جانب روانہ ہوئے تھے۔ موٹر وے سے ہی سیلاب کے اثرات نظر آنا شروع ہو گئے۔ سڑک کے کنارے پانی کھڑا تھا اور آس پاس بسنے والوں نے موٹر وے پر ڈیرے ڈال رکھے تھے۔ ان میں پشاور کے ساتھ ساتھ چارسدہ اور نوشہرہ کے متاثرین بھی شامل تھے۔
جیسے ہی کوئی گاڑی ان متاثرین کے پاس رکتی تو سب اس کی جانب اس امید سے جھپٹتے کہ شاید ان کو کسی قسم کی مدد مل سکے۔
ان میں خواتین، بچے اور بزرگ بھی شامل ہیں جو دھوپ میں سڑک کنارے اور درمیان میں گرین بیلٹ پر بیٹھے ہیں۔
ان کو خوراک، پانی، بچوں کے لیے دودھ اور جانوروں کے لیے چارہ بھی درکار ہے کیوں کہ بڑی تعداد میں مویشی بھی ان کے ساتھ ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان لوگوں کی زندگی میں اچانک ایسا موڑ آیا جو ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ خالد خان نامی شخص نے بتایا کہ ان کے علاقے میں اعلانات کیے گئے تھے لیکن ان کو بلکل بھی یقین نہیں تھا کہ اتنی تباہی ہو گی۔
ہماری گاڑی جب سوات کی حدود میں داخل ہوئی تو یہ وہ پہلے والا سوات نہیں تھا۔ وہ سوات جہاں ہم گرمیوں میں سرد موسم کا مزہ لینے جاتے تھے، جہاں سڑکوں پر گہما گہمی اور ٹریفک جام معمول ہوتا تھا، ہوٹلوں میں رش اور دوکانوں پر چمکتا ہوا کاروبار رواں ہوا کرتا تھا۔
آج سوات میں ہر طرف ویرانی تھی۔ بیشتر دکانیں بند اور ٹریفک معمول سے کافی کم تھی۔
سیلاب کے آثار دریاؤں اور آبی نالوں سے کہیں دور تک واضح تھے۔ ایسے مقامات پر بھی سیلابی پانی موجود تھا کہ انسان سوچ نہیں سکتا۔ تباہ ہوئی فصلیں اور باغات بربادی کی داستان سناتے دکھائی دیے۔
سوات میں ہمیں معلوم ہوا کے مدین سے بحرین تک گاڑیوں کے لیے راستہ کھول دیا گیا ہے لیکن بحرین سے آگے کالام تک کا راستہ اب بھی بند ہے۔
ہم بحرین پہنچے تو سوگ کی سی کیفیت تھی۔ وہ مقام جہاں دو دریاوں کا ملاپ ہوتا ہے، یہاں سے گزرنے والے چند لمحوں کے لیے بحرین میں ضرور رکتے اور طعام کے ساتھ دریا کی شور مچاتی لہروں کا مزہ لیتے آگے بڑھ جاتے۔ آج یہاں دکانیں اور ریسٹورنٹس نہیں، بلکہ ان کی تباہی کی ختم نہ ہونے والی بے شمار کہانیاں تھیں۔
ایک شخص نے میرے پاس آ کر کہا کہ ’میرے ساتھ چلو، پانچ منٹ کا راستہ ہے، وہاں مکان گر گئے ہیں۔‘ دوسرا شخص آیا کہ ’وہ دیکھو، میرا ہوٹل گر گیا ہے۔‘ ایک لڑکا آیا اور پتھر اور ریت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا، ’یہاں ہمارا شنواری ہوٹل تھا، اب کچھ بھی نہیں۔‘
اس جگہ مشینیں دریا میں پتھر ڈال کر دریا کا رخ موڑنے کی کوشش کر رہی تھیں لیکن پانی کی رفتار اور طاقت کے سامنے یہ کچھ بھی نہیں تھے۔ چار گھنٹوں میں اس منہ زور دریا کی چند لہریں ہی اس مشینی طاقت سے پل کے نیچے سے گزر پائیں۔
بحرین میں شور مچاتا دریا، جو سیاحوں کو اتنا پسند تھا کہ اسی ہوٹل میں قیام کرتے جس سے دریا کی لہریں ٹکراتی تھیں، اب ان ہوٹلوں کو نگل چکا ہے۔
ریاض سہیل، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاڑکانہ
لاڑکانہ کی سٹیشن روڈ کو یہاں طارق روڈ کا درجہ حاصل ہے جہاں برینڈز اور فاسٹ فوڈ کی فرنچائز موجود ہیں۔ صبح جب میں نے اس سڑک پر واقع مندر کے محافظ پولیس گارڈ سے معلوم کیا کہ کیا اندر سیلاب متاثرین ہیں تو اس نے ریلوے اسٹیشن کی طرف اشارہ کیا۔
سٹیشن کے باہر ایک قدیم فوجی ٹینک موجود تھا جو متاثرین کے کپڑے سکھانے کے کام آ رہا تھا۔ متعدد لوگ چارپایوں کا سائبان بنائے بیٹھے تھے۔
جیسے ہی اندر داخل ہوا تو پلیٹ فارم سے لیکر شیڈ تک ہر جگہ متاثرین ہی متاثرین نظر آئے۔ ان میں لاڑکانہ شہر کے رہائشی بھی تھے تو شہداکوٹ، وارھ اور باڈھ کے علاوہ بلوچستان کے سرحدی علاقوں کے لوگ بھی۔ یہاں آنے والے ہر شخص سے ان کا ایک ہی مطالبہ ہے، خدارا خیمے دو۔
لاڑکانہ بھٹو خاندان کا ضلع ہے۔ یہاں بلاول بھٹو خود انتظامی اجلاس کی صدارت کر چکے ہیں لیکن تاحال کوئی ٹینٹ سٹی نہیں بنا۔ ریلوے سٹیشن پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہونے کے باوجود کسی بھی سرکاری محکمے کا کوئی وجود نہیں تھا۔ پینے کا پانی بھی اسٹیشن سے یا پھر باہر سے لایا جارہا تھا۔
ایک شخص نے بتایا کہ کچھ لوگ کھانا تقسیم کرنے آئے تو ان کے پاس ایک کرنٹ والی راڈ تھی۔ جیسے ہی زیادہ لوگ قریب آتے، وہ ان کو کرنٹ لگاتے، وہ عورت یا بچے کا بھی کوئی خیال نہیں کر رہے تھے۔
یہاں کے متاثرین نے مراد واہن کا بار بار ذکر کیا تو سوچا ایک چکر لگا لیتے ہیں۔ جب اس علاقے میں پہنچے تو ابھی تک مکانات ڈوبے ہوئے تھے اور مشین کے ذریعے پانی کی نکاسی کی جا رہی تھی۔ خوبچند اوڈ نامی شخص نے بتایا کہ چندے سے یہ مشین اپنی مدد آپ کے تحت چلائی جا رہی ہے، مقامی انتظامیہ نے ان کی کوئی مدد نہیں کی۔
اس مشین کے سامنے موجود گھروں کی چھتوں سے دو تین فٹ نیچے تک پانی کے نشانات واضح تھے۔ مقامی لوگ کہتے ہیں کہ اس کی وجہ بھنبھر کی وہ نہر تھی جس میں شگاف پڑا تھا۔
ایک کلومیٹر مزید آگے گئے تو سڑک پر کیچڑ اور دونوں اطراف میں پانی تھا۔ ایک گلی میں دیکھا کہ گھر میں ابھی بھی اس قدر پانی موجود تھا کہ چارپائی کا صرف بان نظر آرہا تھا۔
ہمارا اگلا پڑاؤ ایس پی چوک تھا جس کے آس پاس اعلیٰ افسران کے دفاتر اور رہائش گاہیں ہیں۔ یہ چوک مکمل طور پر زیر آب تھا اور پولیس لائن سے لوگ محفوظ مقامات پر منتقل ہو چکے تھے۔
یہاں سے گذرنے والی کئی موٹر سائکلیں ہمارے سامنے بند ہوئیں۔ شہریوں نے شکوہ کیا کہ تین ہفتے گذرنے کے باوجود نکاسی نہیں ہو سکی۔ یہاں فلمبندی کرتے ہوئے جو بھی دیکھتا وہ یہی کہتا کہ ویڈیو اعلیٰ حکام کو دکھائیں۔
لاڑکانہ سے ہم میرو خان کے لیے روانہ ہوئے تو راستے میں دونوں اطراف دور دور تک پانی ہی پانی تھا۔
کئی مقامات پر تو جال لگا کر مچھلی پکڑی جارہی تھی جو دو سو سے ڈھائی سو روپے میں فروخت ہو رہی ہے۔ ایک نوجوان نے بتایا کہ سیلابی پانی کی وجہ سے مچھلی کے تالاب ٹوٹے جس کی وجہ سے مچھلیاں اب فصلوں میں بہہ کر آ گئی ہیں۔
اس سڑک پر متاثرین بھی موجود تھے۔ میر محمد نامی ایک شخص سے میں نے پوچھا کہ وہ کیمپ میں کیوں نہیں گئے تو جواب ملا کہ وہاں پر تذلیل کی خبریں پہنچ رہی ہیں۔
ان کا کنبہ بڑا ہے، اس لیے جو بھی مشکلات ہیں ان کا سامنا یہیں کریں گے۔