آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
زہرہ جہانگیر: کوئٹہ میں خاتون پر ہونے والا قاتلانہ حملہ معمہ بن گیا، تحقیقات جاری
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
’مجھے جب گولی ماری گئی تو اندازاً دس منٹ تک کوئی بھی میرے پاس نہیں آیا۔ گولی لگنے کے باعث میری حالت ابتر ہو رہی تھی لیکن میں ہوش میں تھی اور میرے کان میں ایسی آوازیں پڑ رہی تھیں کہ اس کے قریب مت جاﺅ۔‘
بلوچستان کے علاقے آواران سے تعلق رکھنے والی خاتون زہرہ جہانگیر، کوئٹہ میں یونیورسٹی آف بلوچستان کے قریب گذشتہ بدھ کو ایک حملے میں زخمی ہوئی تھیں۔
فون پر بی بی سی سے بات کرتے انھوں نے کہا کہ ’حملہ آور نے مجھ پر ایسے گولی چلائی کہ میں بچ نہ سکوں لیکن اللہ نے شاید مجھے میرے بچوں کے لیے زندہ رکھا کیونکہ شوہر کے قتل کے بعد میں ہی بچوں کا سہارا ہوں۔‘
خیال رہے کہ نو سال قبل زہرہ کے شوہر رضا جہانگیر کو بلوچستان کے ضلع کیچ میں ہلاک کیا گیا تھا۔
زہرہ جہانگیر نے الزام عائد کیا کہ انھیں ’مبینہ طور پر ٹارگٹ کرنے والے ریاستی ادارے ہیں، اس سے قبل میرے شوہر کو ان کے سیاسی نظریات کی وجہ سے ہلاک کیا گیا۔ ہماری کسی سے کوئی دشمنی نہیں۔‘
بلوچستان کے مشیر برائے داخلہ میر ضیا اللہ لانگو کا کہنا ہے کہ ’اس واقعے کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں تاہم ثبوت کے بغیر کسی پر الزام لگانا کسی طرح بھی مناسب اور درست نہیں۔‘
سریاب پولیس کوئٹہ نے اس واقعے کا مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
زہرہ جہانگیر پر حملے کا تذکرہ کرنے سے پہلے ان کے شوہر رضا جہانگیر کا ذکر کرتے ہیں جنھیں سنہ 2013 میں ہلاک کیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رضا جہانگیر کون تھے اور ان کے قتل کے بارے میں زہرہ کا کیا کہنا ہے؟
رضا جہانگیر کا تعلق بلوچستان کے ضلع آواران کے علاقے تیرتیج سے تھا۔ انھوں نے میٹرک تک تعلیم آواران سے حاصل کی اور اس کے بعد کوئٹہ میں پولی ٹیکنک کالج میں الیکٹریکل انجنیئرینگ میں ڈپلومہ کرنے کے لیے داخلہ لیا۔
انھوں نے اس دوران بی اے کا پرائیویٹ امتحان دیا اور بی اے کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد انٹرنیشنل ریلیشنز میں ماسٹر کرنے کے لیے یونیورسٹی آف بلوچستان میں داخلہ لیا۔
وہ سکول میں تعلیم کے دوران ہی بلوچ قوم پرست طلبا کی سب سے بڑی تنظیم بی ایس او سے وابستہ ہوئے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کوئٹہ کی عہدیدار ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے بتایا کہ ’بلوچی ادب سے لگاؤ کے باعث وہ شاعری بھی کرنے لگے جس کے باعث وہ طالب علموں میں مقبول ہو گئے۔‘
اگرچہ بی ایس او میں مختلف ادوار میں دھڑے بنے لیکن سنہ 2000 کی دہائی میں کالعدم بی ایس او (آزاد) کے نام سے جو دھڑا وجود میں آیا رضا جہانگیر اس سے وابستہ ہوئے۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے مطابق ’رضا جہانگیر، سنہ 2012 میں ایک ایسے موقع پر کالعدم بی ایس او آزاد کے مرکزی سیکریٹری جنرل منتخب ہوئے جب تنظیم کے کئی کارکنوں کی جبری گمشدگی کے بعد ان کی لاشیں ملیں اور بعض کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا تھا۔‘
ڈاکٹر ماہ رنگ نے بتایا کہ ’اگست سنہ 2013 کو رضا جہانگیر ضلع کیچ کے تنظیمی دورے پر تھے جہاں 14 اگست کو انھیں ایک اور شخص کے ساتھ ہلاک کیا گیا۔‘
ان کا کہنا تھا ’اس واقعے کے ایک سال بعد تیرتیج میں رضا جہانگیر کے والد بختیار بلوچ کو بھی چھ دیگر افراد کے ساتھ ہلاک کیا گیا۔
خود پر ہونے والے حملے کے بارے میں زہرہ جہانگیر کا کیا کہنا ہے؟
زہرہ جہانگیر کو زخمی ہونے کے بعد پولیس اہلکاروں نے سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کیا تھا جہاں اب ان کی حالت بہتر ہے۔
انھوں نے خود پر ہونے والے حملے کی روداد سناتے ہوئے کہا کہ ’یونیورسٹی آف بلوچستان سے نکلنے کے بعد جب وہ جنگل باغ کے گیٹ پر پہنچیں تو وہاں ان پر حملہ کیا گیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے حملہ آور کو دیکھا۔ انھوں نے مجھ پر سامنے سے گولی چلائی۔ حملہ آور نے اپنا چہرہ نہیں چھپایا تھا اور وہ نوجوان تھا۔‘
زہرہ نے بتایا کہ ’میں یہ نہیں بتا سکتی کہ حملہ آور کتنے تھے لیکن انھوں نے صرف ایک نوجوان کو دیکھا۔‘
’مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ حملہ آور نے کتنی گولیاں چلائی لیکن ایک گولی میری گال پر لگی اور بعد میں ہسپتال میں پتا چلا کہ گولی پھنسی نہیں بلکہ کان کے پیچھے سے نکل گئی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’گولی لگنے کے بعد میں گر گئی اور یہ سمجھتی رہی کہ بس یہ زندگی کا آخری لمحہ ہے لیکن میری زندگی باقی تھی اس لیے بچ گئی۔‘
’میرے دو بیٹے ہیں جن میں سے ایک ساتویں جماعت میں پڑھ رہا ہے اور ایک تیسری جماعت میں ہے۔ ان کا بڑا سہارا اس وقت میں ہوں اور شاید اللہ نے ان کے لیے مجھے زندہ رکھا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’میں خود بھی حیران ہوں کہ گولی لگنے کے باوجود میں بے ہوش نہیں ہوئی۔ میں اندازاً دس منٹ وہاں پڑی رہی۔‘
’میری توقع کے برعکس وہاں پر موجود لوگوں میں سے کوئی میرے قریب نہیں آیا بلکہ کانوں پر ایسی آوازیں پڑتی رہیں کہ یہ پولیس کیس ہے اس کے قریب مت جاﺅ۔‘
زہرہ کا کہنا تھا کہ ’فوری طور پر مدد کے لیے کسی کے قریب نہ آنے سے میری تشویش اور خوف میں مزید اضافہ ہوا تاہم اندازاً دس منٹ بعد پولیس اہلکار آئے اور انھوں نے مجھے ہسپتال پہنچایا۔‘
زہرہ جہانگیر یونیورسٹی آف بلوچستان کیوں گئی تھیں؟
زہرہ کا کہنا تھا کہ سنہ 2013 میں شوہر کے قتل کے بعد تین بیٹوں کی پرورش اور تعلیم کی ذمہ داری ان پر تھی۔
ان کا دعویٰ ہے کہ سنہ ’2015 میں کراچی میں انھیں جان سے مارنے کی کوشش کی گئی لیکن وہ اس حملے میں بچ گئیں مگر ان کا بیٹا ہلاک ہوا۔‘
'میرا بیٹا بیمار ہوا تھا اور میں اسے اپنے کزن کے ساتھ ہسپتال لے جا رہی تھی کہ قائد آباد کے علاقے میں ایک بس نے ہمیں کچلنے کی کوشش کی۔
’بس کو اپنی جانب آتا دیکھ کر میں اور کزن اپنے آپ کو بچا سکے لیکن کوشش کے باوجود ہم بیٹے کو نہیں بچا سکے اور وہ بس کی ٹکر سے ہلاک ہوا۔‘
اسے ایک سازش قرار دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک حادثہ نہیں تھا کیونکہ بس سڑک سے بالکل باہر نکل کر ہماری جانب آئی۔ اس وقت بھی میری زندگی باقی تھی تو میں بچ گئی لیکن میں نے معصوم بیٹے کو کھو دیا۔‘
انھوں نے بتایا کہ چند سال قبل وہ اپنے دو بیٹوں کو لے کر کوئٹہ منتقل ہوئیں تاکہ وہ انھیں اچھی تعلیم دلوا سکیں لیکن یہاں بھی ان کا پیچھا کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’بلوچی لٹریچر میں ایم اے کرنے کے بعد اب اس میں ایم فل کرنا چاہتی ہوں اور اس سلسلے میں داخلے کے لیے یونیورسٹی گئی تھی اور فارم جمع کرنے کے بعد جب یونیورسٹی سے واپس نکل رہی تھی تو مجھ پر حملہ کیا گیا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’وہ ان حملوں سے ڈرنے والی نہیں بلکہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم دلوانے کے مشن پوری کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گی۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ان کے شوہر رضا جہانگیر ایک طالب علم رہنما تھے اور وہ بھرپور انداز سے سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے تھے لیکن جہاں تک میری بات ہے تو میرا کسی بھی تنظیم سے تعلق نہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’مجھے بالکل سمجھ نہیں آ رہی کہ مجھ پر کیوں حملہ کیا گیا۔ شاید مجھے اس وجہ سے ٹارگٹ کیا جا رہا ہے کہ میں ایک ایسے شخص کے بچوں کی ماں ہوں جو ایک نظریہ رکھتے تھے۔‘
زہرہ پر حملے کے خلاف بلوچ یکجہتی کمیٹی کوئٹہ کے زیر اہتمام گورنر ہاﺅس کوئٹہ کے قریب ایک مظاہرہ کیا گیا اور حملے کے ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی ترجمان قاضی داد محمد ریحان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’14 اگست 2013 میں رضا جہانگیر کو ہلاک کیا گیا۔‘
’ایک سال بعد 28 اگست 2014 کو آواران میں ان کے والد بختیار بلوچ کو چھ دیگر افراد کے ساتھ مار دیا گیا اور اب دوبارہ اگست ہی کے مہینے میں رضا جہانگیر کی بیوہ زہرہ بلوچ پر قاتلانہ حملہ کیا گیا۔‘
سرکاری حکام کا کیا کہنا ہے؟
بلوچستان کے مشیر برائے داخلہ و قبائلی امور میر ضیا اللہ لانگو نے کہا کہ ’خاتون پر کن لوگوں نے حملہ کیا اسے بارے میں تحقیقات جاری ہیں اور تحقیقات کے بعد ہی یہ پتا چلے گا کہ ان پر حملہ کس نے کیا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہماری کوشش ہو گی کہ خاتون پر حملے کے ملزمان کو جلد سے جلد گرفتار کر کے ان کو انصاف کے کٹہرے میں لا کر کھڑا کیا جائے تاہم ثبوت کے بغیر کسی پر الزام عائد کرنا مناسب اور درست نہیں۔‘
ایس ایس پی آپریشنز کوئٹہ عبدالحق بلوچ نے بتایا کہ خاتون پر حملے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے اور اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ 'اس سلسلے میں شواہد اکھٹے کیے گئے ہیں جن کی روشنی میں مختلف پہلوﺅں سے تحقیقات ہو رہی ہیں۔‘
انھوں نے بتایا کہ تاحال کسی ملزم کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی تاہم ملزمان کی گرفتاری کے لیے ہیومن ریسورس لگا دیا گیا ہے۔
اس سوال پر کہ خاتون نے یہ الزام عائد کیا ہے کہ ان پر حملے میں ریاستی ادارے ملوث ہیں تو ایس ایس پی آپریشنز نے کہا کہ ’ہمارے پاس ابھی تک ایسا کوئی ثبوت نہیں آیا تاہم ملزمان کی گرفتاری کے بعد اس بات کا تعین ہو سکے گا کہ خاتون پر حملہ کرنے والے کون ہیں۔‘