شیریں مزاری کا امریکی حکام کے دورہ خیبر پختونخوا پر شکوہ، سوشل میڈیا صارفین کی امریکی امداد لینے پر تنقید

    • مصنف, اعظم خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد

پاکستان تحریک انصاف کی سینیئر رہنما ڈاکٹر شیریں مزاری نے اتوار کو پاکستان میں امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کے گذشتہ ہفتے خیبر پختونخوا کے دورے کی تصاویر سوشل میڈیا پر لگا کر تنقید کی تو سوشل میڈیا پر صارفین نے یہ سوال اٹھایا کہ یہ تنقید اس وقت کیوں نہ ہوئی جب چند ہی دن قبل یہی امریکی سفیر خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی سمیت تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کے عہدے داران سے ملاقات کر رہے تھے۔

ڈاکٹر شیریں مزاری نے اپنی پوسٹ میں صرف وہ تصاویر شیئر کیں جن میں فوجی حکام امریکی سفیر کو طورخم بارڈر کے قریب ایک پوسٹ پر بریفنگ دے رہے ہیں جبکہ اس دورے کی وہ تصاویر شیئر نہیں کی گئیں جن میں امریکی سفیر تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے وزیرِ اعلیٰ محمود خان سمیت دیگر وزرا اور صوبائی حکام سے ملاقات کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ تحریک انصاف چیئرمین عمران خان یہ الزام بارہا دہرا چکے ہیں کہ ان کی وفاقی حکومت گرانے کے پیچھے امریکی سازش تھی جس کی امریکی محکمہ خارجہ تردید کر چکا ہے۔

شیریں مزاری نے تین اور چار اگست کو ہونے والے امریکی سفیر کے اس دورے پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ’امریکی سفیر اور ان کا گینگ طورخم کی راہ میں پاکستان کے حساس علاقوں پر پرواز کرتے ہوئے زمین کا معائنہ کر رہے ہیں جبکہ موصوف کو سرکاری بریفنگ بھی میسر ہے اور قدم رنجہ ہونے کو سرخ قالین بھی!! ان علاقوں میں تو عام پاکستانی بھی قدم نہیں رکھ سکتے! کیا ہم غلام ہیں؟‘

امریکی حکام نے کن جگہوں کا دورہ کیا؟

واضح رہے کہ پاکستان اور افغانستان کو ملانے والی طورخم سرحد کے قریب مچنی پوسٹ پر امریکی سفیر کو تین اگست تک اس علاقے سے متلعق فوجی حکام کی طرف سے بریفنگ دی گئی تھی۔ اس بریفنگ کا اہتمام فرنٹیئر کور نے کیا تھا۔

اس سے اگلے دن یعنی چار اگست کو امریکی سفیر نے صوبائی دارالحکومت پشاور کا دورہ کیا اور پھر نہ صرف وزیر اعلیٰ سے ملے بلکہ مختلف تقریبات میں بھی شرکت کی جہاں انھیں صوبائی وزرا اور حکام کی طرف سے بریفنگ دی گئی۔

ابھی امریکی سفیر پشاور میں ہی تھے کہ ان کے کچھ سفارتکاروں نے پشاور میں واقع اس پراسیکیوشن سینٹر کا بھی دورہ کیا جو امریکی امداد سے چل رہا ہے اور وہاں تفتیش کاروں کو تفتیش کے نئے گُر سکھائے جا رہے ہیں۔

اس کے بعد امریکی سفیر نے وزیر اعلیٰ کی موجودگی میں صوبے کے وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا کو ہسپتالوں کے لیے 36 گاڑیوں کی چابیاں بھی دیں، جو تحریک انصاف کے وزیر نے شکریے کے ساتھ وصول کیں۔ امریکی سفیر نے حیات آباد میں امریکی مدد سے چلنے والے ایک برن سینٹر کا بھی دورہ کیا۔

’ایک انتہائی کامیاب دورہ‘

اس دو روزہ دورے کے دوران امریکی سفیر سے ہونے والی ملاقاتوں سے متعلق خود تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے تفصیلات شئیر کی ہیں اور اسے ’ایک انتہائی کامیاب دورہ‘ قرار دیا ہے۔

تصاویر کے ساتھ صوبائی حکومت کی طرف سے ایک پریس ریلیز بھی جاری کی گئی، جس میں بتایا گیا کہ وزیر اعلیٰ محمود خان نے صوبے کے پہلے دورے پر امریکی سفیر کو خوش آمدید کہا اور مختلف شعبوں میں صوبائی حکومت کے ساتھ تعاون اور اشتراک کار پر امریکی حکومت کا شکریہ بھی ادا کیا۔

وزیر اعلیٰ نے واضح انداز میں کہا کہ صوبائی حکومت اور صوبے کے عوام مختلف شعبوں میں امریکی تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ صوبائی حکام کے مطابق اس دورے کے دوران دونوں اطراف سے عوامی فلاح و بہبود کے شعبوں میں باہمی تعاون کے سلسلے کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

شیریں مزاری کے مطابق اس دورے کا اہتمام فوج نے کیا تھا۔ صوبائی حکام کی طرف سے امریکی امداد وصول کرنے کے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ حکومتوں کے درمیان متعدد سماجی منصوبوں پر کام ہو رہا ہے مگر یہ دورہ صرف فوج کی طرف سے ہی ترتیب دیا گیا تھا۔

’دورے کا تحریک انصاف کی سیاست سے کوئی تعلق نہیں‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے خیبرپختونخوا حکومت کے ترجمان بیرسٹر علی سیف نے کہا کہ ’امریکی سفیر سرکاری دورے پر صوبہ خیبر پختونخوا آئے تھے، جس کا تحریک انصاف کی سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔‘

ان کے مطابق امریکہ ایک ایسا ملک ہے جس کے ساتھ پاکستان کے سفارتی تعلقات ہیں، جن میں اتار چڑھاؤ بھی آتا رہتا ہے۔

شیریں مزاری کی طرف سے کی جانے والی تنقید کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’تحریک انصاف کا اپنا ایک مؤقف ضرور ہے مگر امریکی سفیر پارٹی کے کسی دفتر میں نہیں بلکہ سرکاری حیثیت میں یہاں آئے تھے۔‘ ان کے مطابق امریکہ نے مختلف پروگرام چلانے میں صوبائی حکومت کو مدد فراہم کی۔

ان کے مطابق اس وزٹ کا تعلق پارٹی نظریات سے نہیں ہے۔ ان کے مطابق ’کل اگر انڈیا کے سفیر سرکاری حیثیت میں آتے ہیں تو ظاہر ہے کہ وزیراعلیٰ انھیں خوش آمدید کہیں گے کیونکہ انڈیا کے ساتھ پاکستان کے سفارتی تعلقات قائم ہیں۔‘

امریکہ کے اسلام آباد میں سفارتخانے کے مطابق امریکی سفیر نے تین اور چار اگست کے دوران صوبہ خیبرپختونخوا کا دورہ کیا جس دوران وہ طورخم بارڈر بھی گئے تاکہ ’وہ خود اندازہ کر سکیں‘ کہ یہ کس طرح خیبر پختونخوا کی اقتصادی اور تجارتی سرگرمیوں میں ممد و معاون ثابت ہو رہا ہے۔

اس کے علاوہ انھوں نے 46 کلومیٹر طویل پشاور تا طورخم سڑک کا معائنہ کیا جو آٹھ کروڑ 70 لاکھ ڈالر مالیت کا امریکی تعمیراتی منصوبہ ہے۔

امریکی سفیر یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پشاور میں قائم توانائی میں اعلیٰ تعلیم کے جدید ترین مرکز بھی گئے۔ سفارتخانے نے بتایا کہ امریکہ نے یو ایس ایڈ کے 12 کروڑ 70 لاکھ ڈالر مالیت کے منصوبے کے تحت پاکستان بھر میں انجینئرنگ کی جامعات کے ساتھ مل کرپانی، توانائی اور خوارک کے تحفظ کے حوالے سے اس قسم کے جدید تعلیمی مراکز قائم کیے ہیں۔‘

ڈونلڈ بلوم اور امریکی سفارتخانے کی انٹرنیشنل نارکوٹکس اینڈ لاء بیورو کی ڈائریکٹر لوری انٹولائنیز نے خیبرپختونخوا کی قانونی چارہ جوئی کی اکیڈمی کی افتتاحی تقریب میں بھی شرکت کی جس کے لیے امریکی حکومت نے 20 لاکھ ڈالر کی مالی امداد فراہم کی ہے۔

لوری انٹولائنیز نے بتایا کہ یہ اکیڈمی ہر سال استغاثہ سے وابستہ 200 افراد کو تربیت فراہم کر سکے گی جبکہ سنہ 1989 سے اب تک امریکی محکمہ خارجہ کے آئی این ایل بیورو نے خیبرپختونخوا حکومت کو معیشت اور زراعت کے فروغ، نظام انصاف کو تقویت دینے اور تحفظ اور استحکام کی ترویج کے لیے 30 کروڑ ڈالر کی امداد فراہم کی ہے۔

شیریں مزاری کی تنقید پر سوشل میڈیا پر ردعمل

امریکی سفیر کے خیبر پختونخوا دورے پر سوشل میڈیا پر بھی بحث جاری ہے۔ جب شیریں مزاری نے اپنی مرضی کی تصاویر شیئر کیں تو پھر اینکر پرسن ندیم ملک نے وہ تصویر جس میں امریکی سفیر صوبائی وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا کو 36 گاڑیوں کی چابی تھما رہے ہیں شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’یہ رہی ایک رجیم چینج کی چابی۔‘

اس تصویر میں نظر آنے والہ سرخ کارپٹ سے متعلق بھی متعدد صارفین نے سوالات پوچھے کہ اگر اتنا ہی ناگوار تھا یہ دورہ تو پھر اتنا شاندار استقبال کیوں کیا گیا۔ ان کے مطابق امریکی سفیر تو امریکی صدر جو بائیڈن کا نمائندہ ہے تو پھر یہ ڈونلڈ لو سے ڈونلڈ بلوم تک رویے اور بیانیے میں تبدیلی کیسے واقع ہو گئی۔

یہ بھی پڑھیے

سینیئر صحافی حامد میر نے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کے اہلکاروں کے ساتھ امریکی حکام کی تصاویر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’ان میں سرخ قالین تلاش کریں۔‘

مگر ان کو جواب دیتے ہوئے ایک صارف خبیب احمد نے لکھا کہ ایک ملک کے امریکہ سمیت تمام ممالک سے اچھے تعلقات ہونے چاہییں مگر خارجہ پالیسی اور داخلی معاملات پر کوئی ڈکٹیشن (قابل قبول) نہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ عمران خان امریکہ گئے تھے اور ان کے ٹرمپ کے ساتھ بھی اچھے تعلقات تھے مگر بحیثیت قوم ہماری یادداشت کمزور ہے۔

صحافی عادل شاہ زیب نے لکھا کہ مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ جس صوبے کا امریکی سفیر دورہ کر رہے ہیں وہ پی ٹی آئی کے وزیرِ اعلیٰ کی پیشگی اجازت کے بغیر ناممکن ہے۔

ٹوئٹر صارف نجمہ حکیم نے شیریں مزاری کو ریٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ اس سے پہلے امریکی سفیر اور ان کے گینگ کا آپ کے وزیرِ اعلیٰ نے وزیرِ اعلیٰ ہاؤس میں استقبال کیا اور خیبر پختونخواہ محکمہ صحت کے لیے 36 گاڑیوں کا تحفہ بھی قبول کر لیا، تو کیا وہ ٹھیک تھا؟

شفیع وزیر نامی صارف نے شیریں مزاری کے جواب میں لکھا کہ اس دورے کا اہتمام خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت نے کیا تھا، پی ٹی آئی حکومت کو بلوم سے 36 گاڑیاں ملیں جس سے رجیم چینج کی سازش بے بنیاد قرار پاتی ہے۔

ادھر ڈاکٹر شیریں مزاری نے بھی اس تنقید کا جواب دیا ہے۔ انھوں نے ٹؤٹر پر کہا کہ ’دو حکومتوں کے درمیان معاشی شراکت داری معاہدوں کے تحت ہوتی ہے۔ لیکن ایک سفیر کا کسی حساس مقام پر جانا سکیورٹی کا معاملہ ہے تو کیا امریکہ سے کوئی سکیورٹی معاہدہ ہو چکا ہے؟ اگر ہوا ہے تو ہمیں علم ہونا چاہیے۔‘