آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
جھنگ میں خاتون کی نازیبا ویڈیو بنا کر شیئر کرنے کے الزام میں پولیس اہلکار کے ناک، ہونٹ کاٹ دیے گئے
- مصنف, احتشام احمد شامی
- عہدہ, صحافی، گوجرانوالہ
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع جھنگ میں شادی شدہ خاتون کی نازیبا ویڈیو بنا کر گاؤں بھر میں شیئر کرنے کے الزام میں ایک پولیس اہلکار کو تشدد کا نشانہ بنا کر اس کے ناک اور ہونٹ کاٹ دیے گئے ہیں۔
زخمی کانسٹیبل کو سول ہسپتال جھنگ میں داخل کروا دیا گیا ہے جہاں اس کی حالت خطرے سے باہر بیان کی گئی ہے اور میڈیکو لیگل آفیسر کی جانب سے 13 سے زیادہ زخموں کی تصدیق کی گئی ہے۔
جھنگ کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر راشد ہدایت نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کانسٹیبل پر تشدد کرنے والے باپ بیٹا سمیت تین ملزمان گرفتار کر لیے گئے ہیں۔
ڈی پی او کے مطابق 'پولیس کانسٹیبل پر خاتون کی نازیبا ویڈیو بنا کر اسے شیئر کرنے کا الزام ہے جس پر کانسٹیبل کے خلاف مقدمہ درج کر کے اسے معطل کر دیا گیا تھا اور اس معاملہ کی تحقیقات جاری تھیں کہ مدعی مقدمہ نے خود قانون کو ہاتھ میں لے کر مقدمے کے مدعی کو بری طرح تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔'
’خاتون کی ویڈیوز بنا کر پورے گاؤں میں پھیلا دی گئیں‘
پنجاب کے ضلع جھنگ کے ایک گاؤں ساہجوال میں ایک پولیس اہلکار نے ایک خاتون کے مبینہ طور پر مراسم استوار کیے اور پھر اسے دھمکی دی کہ ملاقات نہ کرنے کی صورت میں وہ اس خاتون کے بیٹے کو قتل کر دوں گا۔
ایف آئی آر کے مطابق خاتون نے جب اس پولیس اہلکار سے ملاقات کی تو اس نے زبردستی خاتون کی برہنہ ویڈیو بنا لی اور بعد ازاں اس ویڈیو کی بنا پر خاتون کو بلیک میل کرتا رہا اور کپڑوں اور دیگر ضروریات کےلئے نقد رقم بطور بھتہ وصول کرتا رہا۔
ایف آئی آر کے مطابق ویڈیو وائرل کرنے کی دھمکی پر خاتون نے پہلے اپنا زیور بیچ کر ایک لاکھ روپے اور پھر بھینس بیچ کر اسے ڈیڑھ لاکھ روپے ادا کیے۔
تاہم جب بار بار رقم لینے کے باوجود جب مبینہ طور پر پولیس اہلکار کے مطالبے ختم نہ ہوئے تو خاتون نے تنگ آ کر اسے مزید رقم دینے سے انکار کر دیا جس پر کانسٹیبل قاسم حیات نے خاتون کی برہنہ ویڈیوز وٹس اپ، شیئر اٹ، بلو ٹوتھ وغیرہ کے ذریعے گاؤں بھر میں پھیلا دیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایف آئی کے مطابق ملزم نے خصوصی طور پر خاتون کے تمام رشتہ داروں کو ویڈیو کلپس بھیجے جس پر بیشتر رشتے داروں نے خاتون اور اس کے اہل خانہ سے اس بارے معاملہ دریافت کیا۔
ویڈیو کلپس وائرل ہونے پر خاتون کے بیٹے کی مدعیت میں تھانہ مسن پولیس نے پولیس اہلکار کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعات 354 ، 384 اور 292 کے تحت مقدمہ درج کر لیا تاہم پولیس نے ملزم کو گرفتار نہیں کیا۔
پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ 'ملزم نے عدالت سے عبوری ضمانت قبل از گرفتاری کروا لی تھی اور نازیبا ویڈیو بنانے اور شیئر کرنے کے معاملہ کی تحقیقات کی جا رہی تھیں۔'
یہ بھی پڑھیے
ملزم گرفتار نہ ہونے پر خود انصاف حاصل کرنے کا فیصلہ
پولیس کانسٹیبل قاسم حیات کے خلاف مقدمہ درج ہونے کے باوجود گرفتاری عمل میں نہ لائے جانے پر خاتون کے شوہر اور بیٹوں نے قانون ہاتھ میں لیا اور ان کے خلاف درج ایف آئی آر کے مطابق کل 12 افراد نے اس پولیس اہلکار کو سرِراہ روک کر چھریوں، کلہاڑیوں اور ہتھوڑے سے وار کر کے شدید زخمی کر دیا۔
ایف آئی آر کے مطابق اس کے دونوں کان، ہونٹ اور ناک کاٹا گیا، ٹانگوں پر بھی چھری سے وار کئے گئے جس سے وہ بے ہوش ہوگئے جس کے بعد ریسکیو کو اطلاع دی گئی جنھوں نے انھیں ہسپتال پہنچایا۔
تھانہ مسن پولیس نے پولیس اہلکار کو زخمی کرنے کے الزام میں خاتون کے شوہر اور بیٹے سمیت دس نامزد اور دو نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر راشد ہدایت نے بتایا کہ خاتون کے شوہر، اس کے بیٹے اور ایک ساتھی کو حراست میں لے لیا گیا ہے جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کےلیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
پولیس اہلکار کے کزن اور مقدمے کے مدعی طاہر عمران نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ ’پولیس کی تفتیش میں ان کے کزن پر ویڈیو بنانے اور شیئر کرنے کا الزام ثابت نہیں کیا جاسکا تو اس پر حملہ کر دیا گیا حالانکہ وہ عبوری ضمانت پر تھا۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’لڑائی کرنے والے دونوں گھرانے ہمسائے ہیں، ان کے جھگڑے کی وجہ کچھ اور ہوگی جیسا کہ اکثر دیہات میں ہوتی ہے لیکن اسے غلط رنگ دے دیا گیا اور ہمارے کزن کو بدترین تشدد کا نشانہ بنا دیا گیا۔‘