آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
شمالی وزیرستان کے آئی ڈی پیز: ’پہلے ہی سوکھی روٹی پر گزارا تھا اب وہ امداد بھی بند کر دی گئی‘
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
’سبزی دال اور گوشت تو ہم نہیں کھاتے، بس سوکھی روٹی مل جاتی ہے اور یہی ہمارے لیے بڑی بات ہے، آپ بتائیں 20 ہزار روپے میں ہم گھرانے کے پانچ افراد کیسے گزارہ کرتے ہوں گے۔‘
شمالی وزیرستان سے آئے بزرگ شہری قریب خان نے اپنی کہانی کچھ اس طرح شروع کی۔ آج کل وہ اپنے بچوں کے ہمراہ دیگر بہت سے پاکستانی شہریوں کی طرح پشاور پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ لگائے بیٹھے ہیں۔
قریب خان اپنے بچوں کے ہمراہ آٹھ سال سے متاثرین یا آئی ڈی پیز کی زندگی گزار رہے ہیں۔ یہی آئی ڈی پیز اب یہ کہتے ہوئے احتجاج کر رہے ہیں کہ اُن کی امداد بند کر دی گئی ہے اور انھیں بتایا گیا ہے کہ وہ لوگ اپنے علاقوں کو واپس چلے جائیں کیونکہ ان کے علاقوں میں امن بحال ہو چکا ہے۔
تاہم قریب خان کا کہنا ہے کہ ’ہم تو اب بھی آئی ڈی پیز ہیں، اپنے علاقوں میں رہنا تو دور کی بات ہمیں تو اپنے علاقے میں کوئی داخل بھی نہیں ہونے دے رہا۔‘
احتجاج کیوں ہو رہا ہے؟
پشاور پریس کلب کے سامنے سڑک پر ایک بڑا خیمہ لگایا گیا ہے جس کی وجہ سے سڑک پر آمد و رفت مشکلات کا شکار ہے۔ اس خیمے میں مظاہرین پہلے ہی بیٹھے تھے لیکن اتنی بڑی تعداد میں لوگ شمالی وزیرستان سے آئے ہیں کہ اس خیمے میں جگہ کم پڑ گئی ہے، اس لیے باقی لوگ فٹ پاتھ اور بی آر ٹی کے پُل کے نیچے بیٹھے رہتے ہیں۔
صبح کے وقت احتجاج ہوتا ہے حکومت سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ متاثرین کے مسائل حل کیے جائیں، اُن کی امداد بحال کی جائے یا انھیں اپنے علاقوں میں ویسے ہی آباد کیا جائے جیسے وہ سال 2014 میں ہوئے آپریشن ضرب عضب سے پہلے رہتے تھے۔
ان مظاہرین کے ایک نوجوان رہنما رحمت غلام نے بی بی سی کو بتایا کہ ان مظاہرین میں بیشتر کا تعلق شمالی وزیرستان کے تحصیل دتہ خیل سے ہے۔ ان متاثرین کو جو 13000 روپے اور 7000 روپے کی ماہانہ امداد دی جا رہی تھی وہ گذشتہ ماہ سے بند کر دی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ ادارے کے حکام کا کہنا ہے کہ اب انھیں یہ امداد نہیں دی جائے گی کیونکہ ان کے بقول متاثرین اپنے اپنے علاقوں کو جا چکے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس احتجاجی کیمپ میں شمالی وزیرستان کی روایتی ٹوپیاں پہنے لمبے لمبے بالوں والے نوجوانوں کی تعداد زیادہ تھی جبکہ اس کیمپ کے اخراجات کے لیے اسی دھرنے میں چندہ بھی اکٹھا کیا جاتا ہے۔ ان نوجوانوں کا کہنا تھا کہ اس احتجاج کا خرچہ سب مل کر اٹھاتے ہیں جس میں مظاہرین کے لیے کھانا اور دیگر ضروریات پوری کی جاتی ہیں۔
متاثرین کی زندگی
قریب خان اس مظاہرے میں موجود ہیں۔
اُن کی عمر 80 برس کے لگ بھگ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں کے قریب ڈومیل گاؤں میں ایک کرائے کے کچے مکان میں رہتے ہیں۔ اس مکان کا کرایہ ماہانہ پانچ ہزار روپے ہے۔ گھر میں تین چار بچے ہیں جو کمانے والے نہیں ہیں۔
’میں خود مزدوری نہیں کر سکتا۔ یہاں شدید گرمی ہے، دھوپ اگر ایک مرتبہ آ جائے تو پھر جاتی نہیں ہے جس سے جسم جھلس جاتا ہے۔‘ اُن سے جب پوچھا کہ کھانے کے لیے سبزی دال وغیرہ کے لیے کیا کرتے ہیں تو اُن کا کہنا تھا کہ یہ تو وہ نہیں کھاتے وہ تو صرف روکھی روٹی کھاتے ہیں، ان پیسوں سے تو آٹا خرید لیتے ہیں اور یہ روکھی روٹی پر زندگی گزار رہے ہیں۔‘
قریب خان نے بتایا کہ ان کا گاؤں دتہ خیل سے بھی آگے ہے۔ ’ہمیں اپنے گاؤں نہیں جانے دیتے کہتے ہیں کہ علاقہ ابھی شدت پسندوں سے صاف نہیں کیا گیا اس لیے آپ لوگ اپنے گھروں کو نہیں جا سکتے۔‘
’ہمارے اپنے علاقے میں تو روزگار کا موقع پیدا ہو جاتا ہے، چلغوزے کے درخت ہیں، دیگر باغات ہیں کچھ کام کر کے آمدن ہو جاتی ہے لیکن یہاں تو بھوک ہے گرمی سردی بارش طوفان ہر قسم کے موسم ہیں جن سے بچنا مشکل ہو جاتا ہے۔‘
رحمت غلام نے بتایا کہ ان متاثرین کی زندگی انتہائی مشکل میں ہے کیونکہ ایک طرف تو ان کا روزگار نہیں ہے جبکہ دوسری جانب ان کی امداد بھی بند کر دی گئی ہے اس کے علاوہ علاقے میں صورتحال انتہائی ابتر ہے جہاں امن و امان کی مخدوش حالات کی وجہ سے لوگ اپنے گھروں کو نہیں جا سکتے۔
شمالی وزیرستان میں زندگی
متاثرین جو شمالی وزیرستان سے باہر رہ رہے ہیں یا وزیرستان میں ہی اپنے آبائی علاقوں سے دور دیگر علاقوں میں رہائش پزیر ہیں ان کے لیے زندگی انتہائی مشکل ہے۔
اس بات کا اندازہ اس سے لگا لیں کہ اس ہفتے میں چار افراد کو ٹارگٹ کلنگ میں ہلاک کر دیا گیا ہے۔ صرف یہی نہیں اس سے پہلے ہفتے میں بھی چار افراد کو قتل کیا گیا تھا اور اسی طرح ان چار نوجوانوں کو جو ایک دوست کے گھر میں کھانا کھانے کے بعد جا رہے تھے انھیں مار دیا گیا تھا۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے تین رہنماؤں کو بھی اسی مہینے میں قتل کیا گیا ہے۔
ایسی اطلاعات ہیں کہ قتل کے ان مسلسل واقعات کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ علاقہ چھوڑ کر دیگر علاقوں کو جا رہے ہیں۔ اس وجہ سے علاقے میں کاروبار تباہ ہو گیا ہے لوگ اقتصادی مسائل کا شکار ہیں۔ گذشتہ ایک ہفتے سے شمالی وزیرستان میں بھی احتجاج جاری ہے اور مختلف شاہراہوں کو احتجاج کے طور پر بند کر دیا جاتا ہے لیکن حکام کے اس بارے میں کوئی عملی اقدامات نظر نہیں آ رہے جس سے لگے کہ علاقے میں امن قائم ہو رہا ہے۔
حکام کا کیا کہنا ہے؟
قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کے قبائلی علاقوں کے ترجمان احسان خان داوڑ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان متاثرین میں کچھ کے علاقے شدت پسندوں سے صاف کر دیے گئے ہیں اور متاثرین سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے علاقوں کو واپس چلے جائیں اور اس کے لیے اخبارات میں اشتہار بھی شائع کیے گئے تھے۔
انھوں نے کہا کہ اس اعلان کے بعد کچھ خاندان واپس اپنے علاقوں کو چلے گئے تھے لیکن اس کے باوجود وہ کیش مراعات بھی حاصل کر رہے تھے۔ ادارے کو جب معلوم ہوا تو ان کی امداد بند کر دی گئی تھی جس وجہ سے وہ افراد بھی متاثر ہوئے ہیں جن کی اب تک واپسی نہیں ہوئی ہے اور ان کی امداد بھی بند ہو گئی ہےاور اس وقت وہی متاثرین احتجاج کر رہے ہیں۔
قبائلی علاقوں کے لیے پی ڈی ایم اے کے ترجمان احسان داوڑ کے مطابق جبکہ افغانستان سے سات ہزار سے زائد خاندان واپس آگئے ہیں اور اس وقت متاثرین کی تصدیق کا عمل شروع کیا جا رہا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ آج ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے شریف حسین اور اس علاقے سے تعلق رکھنے والے منتخب رکن صوبائی اسمبلی اور وزیر ٹرانسپورٹ شاہ محمد وزیر نے مظاہرین سے مزاکرات کیے ہیں جس میں یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ تمام متاثرین کی تصدیق کی جائے گی اور جن لوگوں کے علاقے اب تک شدت پسندوں سے صاف نہیں کیے گئے اور وہ اپنے علاقوں کو واپس نہیں جا سکے ان کی امداد دوبارہ شروع کر دی جائے گی ۔
شمالی وزیرستان میں 2014 میں فوجی آپریشن ضرب عضب شروع کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں اطلاعات کے مطابق کوئی دس لاکھ زیادہ افراد نے نقل مکانی کی تھی جنھوں نے شمالی وزیرستان کے قریب علاقے ، بنوں ، لکی مروت، کرک، ڈیرہ اسماعیل خان اور پشاور میں پناہ لی تھی ۔ ان متاثرین کے لیے کیمپ لگایا گیا لیکن بیشتر افراد نے اپنے طور پر مکان کرائے پر لیے یا اپنے رشتہ داروں کے پاس رہنے لگے تھے۔ شمالی وزیرستان کی بنوں کے ساتھ سرحد پر بکا خیل کیمپ میں بھی بڑی تعداد میں متاثرین کو پناہ دی گئی ہے ۔
فوجی آپریشن کے بعد 2018 میں حکام نے جو علاقے شدت پسندوں سے صاف کر دیے گئے تھے وہاں متاثرین کو واپس بھیجنا شروع کر دیا تھا اور واپسی کا یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔