سپریم کورٹ میں ججز کی تقرری کے لیے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس آج: ’جونیئر ججز کے تقرر پر سینیئر جج کا نہ بولنا کمزوری ظاہر کرتا ہے‘

    • مصنف, عبادالحق
    • عہدہ, صحافی

جسٹس فائز عیسیٰ اور وکلا تنظیموں کے اعتراضات کے باوجود نئے ججوں کی تقرری کے معاملے پر غور کے لیے سپریم کورٹ کے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 28 جولائی کو منعقد ہو رہا ہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں ہونے والے اس اجلاس میں عدالتِ عظمیٰ میں پانچ ججز کی تعیناتی کے لیے ناموں پر غور کیا جائے گا۔

پاکستان کی سپریم کورٹ کے کل ججوں کی تعداد 17 ہے جو نواز شریف کی وزارت عظمی کے دوسرے دور میں طے کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ سپریم کورٹ میں ایڈہاک جج مقرر کرنے کی گنجائش ہے اور یہ تقرر اس وقت کیا جاتا ہے جب سپریم کورٹ میں کام کا دباؤ زیادہ ہو اور مقدمات کو نمٹانے کیلیے اضافی ججوں کی ضرورت ہو۔

ان ججوں کی تقرری کا فیصلہ کرنے والے جوڈیشل کمیشن کے ارکان کی تعداد نو ہے جن میں اس وقت چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے علاوہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس سردار طارق، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منصور علی شاہ شامل ہیں۔ ان کے علاوہ سپریم کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج جسٹس سرمد جلال عثمانی، اٹارنی جنرل، وزیر قانون اور پاکستان بار کونسل کا ایک نمائندہ بھی اس کمیشن کے رُکن ہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے 25 جولائی کو چیف جسٹس کو ایک خط لکھا تھا جس میں انھوں نے اجلاس کو مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی، تاہم ابھی تک کی اطلاعات کے مطابق اجلاس کے وقت میں کوئی ردوبدل نہیں کیا گیا ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عدلیہ کی شیڈول تعطیلات میں جوڈیشل کمیشن کا اجلاس طلب کرنے پر اعتراضات اٹھائے تھے اور کہا تھا کہ سپریم کورٹ میں ججز کے تقرر سے پہلے مل بیٹھ کر یہ طے کرنا ہو گا کہ کیسے آگے بڑھا جائے۔

انھوں نے مزید لکھا کہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان اور سینیئر ججز کو نظر انداز کرنے سے پہلے چیف جسٹس کی نامزدگی کے طریقہ کار پر غور کیا جائے۔

یہی نہیں بلکہ پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار سمیت وکلا تنظیموں نے بھی اجلاس چھٹیوں کے بعد تک مؤخر کرنے اور جونیئر ججز کی تعیناتی پر جوڈیشل کمیشن کے رولز میں ترمیم کا مطالبہ کیا کر رکھا ہے۔

پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ ایسوسی ایشن نے اپنے اعلامیے میں زور دیا کہ سپریم کورٹ کے ججز کے تقرر کے وقت سینیارٹی کے اصول پر عمل کیا جائے۔ وکلا تنظیموں نے مشترکہ اعلامیہ میں کہا کہ یہ کوئی ذاتی ایجنڈا نہیں اور نہ ہی وہ کسی کے حق یا مخالفت میں ہیں لیکن پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار جونیئر ججز کے تقرر کے حق میں نہیں۔

جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں کن ناموں پر غور کیا جائے گا؟

سپریم کورٹ میں اس وقت ججز کی چار آسامیاں خالی ہیں اور ایک آسامی اگست میں جسٹس سجاد علی شاہ کی ریٹائرمنٹ سے خالی ہو جائے گی۔ اسی وجہ سے جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں پانچ ناموں پر غور کیا جائے گا۔

ان ججز میں پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس قیصر رشید، لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد وحید جبکہ سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس حسن اظہر، جسٹس شفیع صدیقی اور جسٹس نعمت اللہ پھلپھٹو شامل ہیں۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر حامد خان کے بقول جوڈیشل کمیشن کے زیر غور پانچ ناموں میں سے صرف ایک نام یعنی چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ قیصر رشید کا نام سینیارٹی کی بنیاد پر ہے جبکہ دیگر نام اس اصول کے مطابق نہیں۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد وحید سینیارٹی کے لحاظ پر اس وقت چوتھے نمبر پر ہیں جبکہ سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس حسن اظہر سینیارٹی لسٹ پر پانچویں، جسٹس شفیع صدیقی چھٹے اور جسٹس نعمت اللہ ساتویں نمبر پر ہیں۔

اس طرح لاہور ہائیکورٹ میں تین سینیئر ججوں اور سندھ ہائیکورٹ میں چار سینیئر ججوں کی سینیارٹی نظر انداز ہوئی۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد وحید خان اس وقت سینیارٹی کے اعتبار سے چوتھے نمبر پر ہیں۔ سینیارٹی کے لحاظ سے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس امیر بھٹی ،جسٹس ملک شہزاد احمد خان اور شجاعت علی خان ان سے سینیئر ہیں۔

سندھ ہائیکورٹ میں چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس احمد علی شیخ، سینیئر ترین جج جسٹس عرفان صداقت خان، جسٹس عقیل احمد عباسی اور جسٹس ندیم اختر سینیئر ججز ہیں۔

اس مرتبہ بھی لاہور ہائیکورٹ اور سندھ ہائیکورٹ کے وہی ججز دوبارہ نظر انداز ہوئے ہیں، جن کے ناموں پر گذشتہ برس بھی غور نہیں کیا گیا تھا۔

’جونیئر ججز کے تقرر پر سینیئر جج کا نہ بولنا کمزوری ظاہر کرتا ہے‘

حامد خان کی قیادت میں قائم وکلا گروپ کے مطابق ماضی میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار، آصف سعید کھوسہ اور گلزار احمد کے ادوار میں بھی سنیارٹی کی پاسداری نہیں گئی۔

حامد خان کہتے ہیں کہ جونیئر ججوں کے تقرر پر سینیئر جج کا نہ بولنا ان کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔

حامد خان نے بتایا کہ ایک مرتبہ انڈیا میں تین ججز نے اپنے سے جونئیر جج کی تقرری پر عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

حامد خان کے بقول ہائی کورٹ کے ایک جج کے اپنے عہدے پر ہی رہنے اور سپریم کورٹ نہ جانے سے دوسرے ججز کی حق تلفی ہوتی ہے اور وہ چیف جسٹس بننے کے حق سے محروم ہو جاتے ہیں۔

حامد خان نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کو نظر انداز کر کے سنیارٹی میں پانچویں نمبر پر آنے والے جج کو سپریم کورٹ میں مقرر کرنا زیادتی ہے۔

حامد خان نے نشاندہی کی کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کو بھی نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

’ان کا سپریم کورٹ میں تقرر نہ ہونے کی وجہ سے ان سے جونئیر ججز کی حق تلفی ہو رہی ہے اور وہ چیف جسٹس نہیں بن رہے ہیں۔‘

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر نے کہا کہ نظام کو چلانے کے لیے سینیارٹی کے اصول پر عمل ہونا چاہیے۔

’جو ایڈہاک جج کے طور پر کام کر سکتا ہے، ان کے مستقبل میں کام کرنے میں کیا قباحت ہے؟‘

لاہور ہائیکورٹ کے سابق جج جسٹس ریٹائرڈ عباد الرحمان لودھی نے بھی زور دیا کہ سپریم کورٹ میں ججز کے تقرر کے وقت سنیارٹی کو مد نظر رکھ جانا چاہیے اور ایسا نہ کرنے سے مایوسی پھیلتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ سنہ 1996 کے ’الجہاد کیس‘ میں ججز کے سپریم کورٹ میں تقرر کے لیے سنیارٹی کا اصول طے کیا گیا۔ ’یہ فیصلہ ابھی تک عدالتی فیصلے کے طور پر فعال ہے لیکن عملی طور پر غیر فعال ہو گیا ہے۔ اس پر عمل ہونا چاہیے۔‘

عباد الرحمان لودھی کے مطابق کئی مرتبہ چیف جسٹس یا سینیئر جج سپریم کورٹ جانے کے بجائے ہائیکورٹ میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

اٌن کے بقول سپریم کورٹ میں جانے سے ہائیکورٹ کا سینیئر جج سنیارٹی میں جونیئر ہو جاتا ہے اور اسی وجہ سے وہ ہائیکورٹ میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

جسٹس ریٹائرڈ عباد الرحمان لودھی کے مطابق سنیارٹی کے اصول پر عمل کرنے سے تجربہ کار جج سپریم کورٹ کا حصہ بنیں گے۔

انھوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ ایک جج کا سپریم کورٹ میں تقرر نہیں کیا گیا اور پھر وہیں انھیں ایڈہاک جج لگانے کے لیے سفارش کر دی گئی۔ وہ کہتے ہیں کہ ’جو ایڈہاک جج کے طور پر کام کر سکتا ہے، ان کے مستقبل میں کام کرنے میں کیا قباحت ہے؟‘

واضح رہے کہ گذشتہ برس چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس احمد علی شیخ نے سپریم کورٹ کا ایڈہاک جج مقرر ہونے سے معذرت کر لی تھی۔

جسٹس احمد علی شیخ کو سپریم کورٹ میں جج مقرر نہیں کیا گیا تھا بلکہ ان کی جگہ سندھ ہائیکورٹ کے جج جسٹس محمد علی مظہر کو سپریم کورٹ کا جج بنایا گیا، جو اپنے تقرر کے وقت سنیارٹی کے اعتبار سے سندھ ہائیکورٹ میں پانچویں نمبر پر تھے۔

گذشتہ برس ہی لاہور ہائیکورٹ کی خاتون جج جسٹس عائشہ اے ملک کو سپریم کورٹ کا جج مقرر کیا گیا اور وہ سینیارٹی کے اعتبار سے چوتھے نمبر پر تھیں۔

اعلیٰ عدلیہ میں سنیارٹی کا اصول کب طے ہوا؟

اعلیٰ عدلیہ میں سنیارٹی کا اصول سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے دور میں اُس وقت طے ہوا، جب چیف جسٹس پاکستان جسٹس سجاد علی شاہ کی سربراہی میں فل بینچ نے ججز کے بارے میں ایک فیصلہ دیا۔

سپریم کورٹ کے 26 مارچ 1996 کے ججز کیس یعنی ’الجہاد کیس‘ میں سنیارٹی کا اصول طے ہوا اور اس عدالتی فیصلے کے تحت سینیئر ترین جج ہی سپریم کورٹ کے جج مقرر ہونا شروع ہوئے تاہم سابق فوجی صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے دور میں سنیارٹی کے اصول کی پامالی کی گئی اور سنیارٹی کے اعتبار سے جسٹس خلیل الرحمان رمدے، جسٹس نواز عباسی کے بجائے 13ویں نمبر پر آنے والے جج جسٹس فقیر محمد کھوکھر کو سپریم کورٹ کا جج مقرر کیا گیا۔

اس فیصلے پر وکلا تنظیموں نے اُس وقت نہ صرف سخت رد عمل کا اظہار کیا تھا بلکہ اسے سپریم کورٹ میں چیلنج بھی کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

سنہ 2002 میں اُس وقت سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر حامد خان سمیت دیگر نے اس تقرری کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ریاض احمد شیخ کی سربراہی میں پانچ رکنی فل بینچ نے ان درخواستوں کو مسترد کر دیا تھا۔

پانچ رکنی بینچ کے سربراہ اور آُس وقت کے چیف جسٹس ریاض احمد شیخ نے فیصلہ لکھا تھا اور اس نکتہ کی تشریح کی کہ سینیارٹی کا اصول صرف چیف جسٹس پاکستان کی حد تک محدود ہے۔

فل بینچ نے قرار دیا تھا کہ ہائی کورٹس ججز کے سپریم کورٹ میں تقرر کے لیے سنیارٹی کا اصول لاگو نہیں ہوتا۔

سنیارٹی کے اصول کے برعکس سپریم کورٹ میں تقرر کا سلسلہ جاری رہا اور اس میں شدت اس وقت آئی جب پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس وقار سٹیھ نے سنیارٹی کے اصول پر خود کو سپریم کورٹ کا جج مقرر نہ کرنے قانونی چارہ جوئی کی۔

جسٹس وقار سٹیھ اُس سپیشل بینچ کا حصہ تھے جس نے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو غداری کے مقدمے میں سزائے موت سُنائی۔

جسٹس وقار سیٹھ نے اپنے وکیل حامد خان کے ذریعے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ حامد خان کے بقول اس مقدمے کو اس طرح زیر التوا رکھا گیا کہ اس کی چھ ماہ تک سماعت ممکن نہ ہو سکی۔

پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس وقار سٹیھ کی اپنی تقرری کی درخواست اُن کی وفات کے بعد ایک طرح سے سرد خانے میں چلی گئی۔