وزیرِ اعلیٰ پنجاب کا انتخاب: جب ڈپٹی سپیکر کی 'لیکن۔۔۔' پر ہال میں سناٹا چھا گیا

    • مصنف, سحر بلوچ، عمر دراز ننگیانہ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈٹ کام، لاہور

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیرِاعلیٰ کے انتخاب کے لیے اجلاس شروع ہونے میں ابھی چند گھنٹے باقی تھے جب پاکستان تحریکِ انصاف اور ان کی اتحادی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ق) نے اپنے اراکینِ کو اسمبلی پہنچا دیا۔ انھیں لاہور کے ایک نجی ہوٹل سے بسوں میں بھر کر لایا گیا۔

اور اب انھیں انتظار تھا کہ چار بجیں، اجلاس شروع ہو اور وہ اپنے امیدوار چوہدری پرویز الٰہی کو منتخب کروانے کے لیے ووٹ دیں۔

ق لیگ کے پنجاب کے صدر اور سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی خود اور ان کے صاحبزادے سابق وفاقی وزیر مونس الٰہی بھی لگ بھگ اسی وقت اسمبلی پہنچ گئے، ان کے لیے بظاہر یہ ایک سیدھا سادہ الیکشن تھا۔

ان کے پاس ’نمبر‘ پورے تھے یعنی انھیں اپنے حریف پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما حمزہ شہباز پر عددی برتری حاصل تھی۔ پنجاب کے حالیہ ضمنی انتخابات میں پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی بھاری جیت کے بعد ان کے ممبران کی تعداد 186 ہونا چاہیے تھی۔

حمزہ شہباز اور ان کے حمایتیوں کی کل تعداد 179 بنتی تھی۔ یوں اگر الیکشن بغیر کسی ’سرپرائیز‘ کے ہوتا تو چوہدری پرویز الٰہی آرام سے وزیرِاعلٰی کے منصب پر فائض ہوتے۔ مگر کیا کوئی ’سرپرائیز‘ ہو سکتا تھا؟

حمزہ شہباز یا ن لیگ ایسا کیا کر سکتے تھے کہ وہ بظاہر ہارے ہوئے اس انتخاب کو جیت پائیں یا چوہدری پرویز الٰہی کی جیت میں کوئی رکاوٹ ڈال سکیں؟

یہ سوال نہ صرف پی ٹی آئی اور ق لیگ کے اراکین کے ذہنوں میں تھا، یہی سوال پنجاب اسمبلی کے احاطے میں موجود صحافیوں کی ایک بڑی تعداد کے درمیان بھی گردش کر رہا تھا۔ تاہم کسی کے پاس کوئی تصدیق شدہ جواب موجود نہیں تھا۔

کیا کوئی ’ترپ کا پتہ‘ تھا؟

سرگوشیاں یہ ہو رہی تھیں کہ ن لیگ کے پاس کوئی ’ترپ کا پتہ‘ موجود ہے ضرور۔ اور پھر یہ بات پتہ چلی کہ سابق صدر آصف علی زرداری گذشتہ رات کی دو ملاقاتوں کے بعد ایک مرتبہ پھر ق لیگ کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین سے ملاقات کرنے پہنچ چکے تھے۔

لیکن زرداری اگر ایک دو روز میں کچھ نہیں کر پائے تھے تو اب الیکشن سے محض چند گھنٹے قبل ایسا کیا کر سکتے تھے کہ وہ ’گیم‘ بدل دیں؟ زیادہ تر صحافی یہ ماننے کو تیار نہیں تھے کہ زرداری کچھ بڑا کر پائیں گے۔

خود چوہدری پرویز الٰہی اور مونس الٰہی نے بظاہر زرداری سے ملنے سے انکار کیا تھا۔ اسمبلی پہنچنے پر مونس الٰہی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اس سوال پر حیرانی کا اظہار کیا تھا کہ کیا ان کی جماعت کے اراکین حمزہ شہباز کو ووٹ دے سکتے ہیں۔

’یہ خبر کس نے اڑائی ہے۔ ایسی کوئی بات ہی نہیں ہے۔‘ پی ٹی آئی کے اسمبلی پہنچنے والے اراکین میں ڈاکٹر یاسمین راشد نے تو سوال مکمل ہونے سے پہلے ہی بول دیا تھا کہ ’ہماری مکمل جیت ہو گی۔‘

ن لیگ والے کہاں رہ گئے تھے؟

اور ادھر ن لیگ کو جیسے اسمبلی ہال پہنچنے کی کوئی جلدی نہیں تھی۔ ان کے ممبران ایک نجی ہوٹل میں موجود تھے اور وہیں حمزہ شہباز بھی پہنچ گئے۔ یہاں اسمبلی ہال میں ان کے انتظار میں کئی پی ٹی آئی کےممبران اپنی کرسیوں پر بیٹھے باقاعدہ سو چکے تھے۔

جوں جوں وقت گزر رہا تھا، اسمبلی کے احاطے اور گیلریوں میں سرگوشیاں تیز ہو رہی تھیں۔ پھر یوں ہوا کہ چار بجنے سے کچھ پہلے ق لیگ رہنما مونس الٰہی اسمبلی سے نکل گئے۔ جاتے ہوئے انھوں نے صحافیوں بات تو نہیں کی تاہم ان کے چہرے پر پریشانی عیاں تھی۔

اس سے قبل یہ خبر اڑ چکی تھی کہ ن لیگ کے پاس ’کوئی خط موجود ہے جس کے بعد پی ٹی آئی کے امیدوار چوہدری پرویز الٰہی ویسے ہی معطل ہو جائیں گے۔‘

لیکن یہ کیسا خط تھا، کہاں سے آیا، اس میں ایسا کیا تھا، سوال زیادہ اور جواب ناپید۔ کھوج لگانے کی کوشش کی جا رہی تھی، تصدیق کی جا رہی تھی لیکن کوئی مصدقہ اطلاع کسی کے پاس نہیں تھی۔

پنجاب اسمبلی کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی۔ غیر متعلقہ افراد کا داخلہ منع کر دیا گیا تھا۔ اسمبلی کی اپنی سکیورٹی بھی مستعدی سے صرف متعلقہ افراد کو اندر جانے کی اجازت دے رہی تھی۔

پھر چار بجے اور اس کے کچھ ہی دیر بعد ن لیگ کے اراکینِ اسمبلی کو لے کر آنے والے بسوں کی آمد ہوئی۔ جب ان کے ممبران نے باری باری بسوں سے اترنا شروع کیا تو وہ ’جیت کا نشان‘ بنا رہے تھے اور چند ایک کارکنان نے اپنے امیدوار کے حق میں نعرے بھی بلند کیے۔

آخری بس سے سب سے آخر میں حمزہ شہباز نیچے اترے تو ان کے ممبران اور کارکنان نے زور دار نعرہ بازی کی۔ کچھ لوگوں نے جوش میں انھیں کندھے پر بھی اٹھایا۔ وہ سب لوگ اپنی ممکنہ ’جیت‘ دعویٰ کرتے اسمبلی میں داخل ہو گئے۔

وہ خط کا کیا ہوا؟

لیکن ن لیگ کے ممبران سیدھے اسمبلی ہال کے اندر نہیں گئے۔ اسمبلی میں ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری بھی نہیں پہنچے تھے۔ اب بھی اندر پی ٹی آئی کے کچھ اراکین سو رہے تھے تو کچھ خوش گپیوں میں مصروف تھے۔

اسمبلی ہال کے باہر اور گیلریوں میں اب سرگوشیاں کم اور تجسس زیادہ پایا جاتا تھا اور اس کی وجہ وہی ’خط‘ تھا۔ گذشتہ چند منٹوں میں اس خط کے خدوخال کچھ واضح ہوئے تھے۔

پہلے تو مقامی ٹی وی چینلوں پر مونس الٰہی کے حوالے سے یہ خبر چلی کہ ’ہم ہار گئے، عمران خان بھی ہار گئے۔‘ پھر معلوم ہوا کہ وہ خط دراصل ق لیگ کے سربراہ چوہدری شجاعت کی طرف سے ڈپٹی سپیکر کو لکھا گیا تھا۔

اس کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ اس میں چوہدری شجاعت حسین نے لکھا تھا کہ ’ان کی جماعت کے ممبران پی ٹی آئی کے امیدوار کو ووٹ نہیں دیں گے۔ یوں ان کے ووٹ شمار نہیں ہوں گے اور ن لیگ کا امیدوار جیت جائے گا۔‘

خود ن لیگ اور ق لیگ کی قیادت سے اس بات کی تصدیق کرنے کی کوشش کی گئی مگر انھوں نے سرکاری طور پر اس حوالے سے لا علمی کا اظہار کیا۔ ہال کے اندر ن لیگ یا ڈپٹی سپیکر کے آنے کے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے تھے۔

پولیس، ڈپٹی سپیکر اور ن لیگ کی ایک ساتھ آمد

پھر سات بجنے میں چند منٹ باقی تھے جب سلیٹی شرٹس میں ملبوش درجن بھر سے زیادہ پولیس اہلکار باہر سے تیزی کے ساتھ اسمبلی ہال کے اندر جاتے دکھائی دیے۔ اگلے چند لمحوں میں وہ ڈپٹی سپیکر کے ڈیسک کے پیچھے کھڑے تھے۔

اس کے ساتھ ہی ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری بھی اندر داخل ہوئے اور انھوں نے اپنی نشست سنبھال لی۔ ان کے پہنچنے سے تھوڑی دیر پہلے ن لیگ کے ممبران بھی اپنی کرسیوں پر پہنچ گئے۔

تلاوت ہوئی، اجلاس کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ خط کا کوئی ذکر نہیں ہوا۔ ڈپٹی سپیکر کے کسی عمل سے اس بات کا اشارہ بھی نہیں ملا کہ ان کے پاس ایسا کوئی خط موجود ہو گا۔

اجلاس کی کارروائی بالکل معمول کے مطابق تھی۔ آغاز ہی میں ن لیگ کے ایک رکن خلیل طاہر سندھو نے نکتہ اعتراض اٹھانا چاہا۔ ڈپٹی سپیکر نے پہلے تو انھیں منع کیا پھر دو منٹ دے دیے۔

ن لیگ کے رکن نے پی ٹی آئی کے دو ممبران کے حوالے سے اعتراض کیا کہ وہ قانونی طور پر اجلاس میں نہیں بیٹھ سکتے تھے۔

ان کے خیال میں ضمنی انتخابات میں ملتان سے کامیاب ہونے والے زین قریشی بیک وقت قومی اسمبلی کے بھی ممبر تھے اور صوبائی اسمبلی کے بھی، وہ دو نشستیں نہیں رکھ سکتے تھے۔ اور یہ بھی کہ لاہور کے حلقہ 167 سے کامیاب ہونے والے پی ٹی آئی کے رکن کا حتمی نوٹیفیکیشن نہیں ہوا تھا۔

زین قریشی کا ووٹ سب سے پہلے لیا جائے

تاہم ن لیگ کے رہنما خلیل طاہر سندھو کی بات بنی نہیں۔ ق لیگ کے سابق صوبائی وزیرِ قانون بشارت راجہ نے ان کو جواب دیتے ہوئے قانونی نقطے کی وضاحت دی جس کے بعد ڈپٹی سپیکر نے حکم صادر کیا کہ پی ٹی آئی کے ان دونوں ممبران کے ووٹ شمار ہوں گے۔

’جب کوئی ممبر ایک اسمبلی میں حلف اٹھا لیتا ہے تو قانوناً اس کی دوسری رکنیت خودبخود ختم ہو جاتی ہے۔‘

ن لیگ کے رکن کو بیٹھ جانے کا کہتے ہوئے ڈپٹی سپیکر نے ملتان سے کامیاب ہونے والے زین قریشی کے بارے میں کہا کہ ’وہ قومی اسمبلی کی نشست چھوڑ کر آئے ہیں، وہ ہمارے ساتھ آنا چاہتے ہیں۔۔۔بلکہ ان کا ووٹ سب سے پہلے لیا جائے۔‘

اس پر پی ٹی آئی کے ممبران نے ڈیسک بجا کر ان کی بات کی حمایت کی۔ اب ڈپٹی سپیکر نے وزیرِاعلٰی کے انتخاب کا باقاعدہ اعلان کیا اور اس کے بعد ممبران کو اتنخاب کا طریقہ کار بتایا گیا۔ ہال کے دونوں جانب موجود گیلریوں کو دونوں امیدواروں کے لیے مختص کر دیا گیا۔

’کتھے گیا تہاڈا خط‘

جس گیلری پر انگریزی میں 'آئیز' درج تھا وہاں حمزہ شہباز اور جس پر ’نوز‘ درج تھا اس کو چوہدری پرویز الٰہی کے لیے مختض کیا گیا۔ جو بھی اراکین جس کو ووٹ دینا چاہیں وہ اس کی گیلری میں جا سکتے تھے۔ اراکین کو بلانے کے لیے پانچ منٹ تک گھنٹیاں بجانے کا آغاز ہوا۔

اس سے قبل مغرب کی اذان ہو چکی تھی۔ کچھ ممبران نے ہال کے اندر ہی نماز پڑھنا شروع کی۔ وہیں ن لیگ کے امیدوار حمزہ شہباز بھی موجود تھے۔ انھوں نے سات سے آٹھ ممبران کی نماز کے لیے امامت بھی کی۔ ہال میں موجود ن لیگ کے اراکین انتہائی مطمئن اور پر جوش نظر آ رہے تھے۔

دوسری طرف حزبِ اختلاف کی صفوں میں بھی زیادہ اضطراب دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ اور ’خط‘ کا بھی کچھ پتہ نہیں تھا۔ بظاہر یہ سیدھا سادہ الیکشن ہونے جا رہا تھا۔

جو صحافی پہلے ہی ’خط‘ والی بات ماننے کو تیار نہیں تھے انھیں اب یقین ہو چلا تھا کہ یہ سب جھوٹی خبر تھی۔ گیلری میں موجود ایک صحافی نے دوسرے ساتھی کو مخاطب کر کے یہ کہہ بھی دیا کہ ’ہاں جی کتھے گیا تہاڈا خط (کہاں گیا آپ کا خط)۔‘ وہ جواباً مسکرا دیے۔

نماز کے بعد بھی چند منٹ تک گھنٹیان بجیں جب تمام اراکین ہال میں پہنچ گئے تو تمام دروازے بند ہوئے اور الیکشن کے عمل کا باقاعدہ آغاز ہوا۔

کیا اب ’خط‘ کے لیے بہت دیر ہو چکی تھی؟

ڈپٹی سپیکر اب اطمینان کے ساتھ کارروائی کا جائزہ لے رہے تھے۔ ایک جانب چوہدری پرویز الٰہی اپنی نشست پر اطمینان کے ساتھ براجمان تھے۔ ان کی جماعت کے دس اراکین بھی اپنا ووٹ ڈالنے کے لیے قطار میں کھڑے تھے۔

تھوڑی دیر بعد چوہدری پرویز الٰہی اپنی نشست سے اٹھے اور ٹہلتے ہوئے اپنی گیلری کی جانب بڑھے۔ اتنے میں سیکریٹری پنجاب اسمبلی بھی اپنی نشست سے اٹھ کر ان کے پاس پہنچ گئے۔ چند منٹ تک ان دونوں کے درمیان کچھ بات چیت بھی ہوتی رہی۔

اس کے بعد چوہدری پرویز الٰہی بھی اپنی ووٹ ڈالنے والی گیلری میں چلے گئے۔ ووٹنگ کا عمل لگ بھگ ڈیڑھ گھنٹے میں مکمل ہوا۔ ڈپٹی سپیکر نے سیکریٹری پنجاب اسمبلی کو ووٹ گننے کا حکم دیا۔ اور مزید دو منٹ کے لیے گھنٹیاں بجائی گئیں۔

'خط' ابھی تک سامنے نہیں آیا تھا۔ کچھ صحافی اب بھی مصر تھے کہ خط موجود ہے اور نتیجے کے بعد سامنے آئے گا۔

لیکن سوال یہ تھا کہ اب تک تو ق لیگ کے اراکین چوہدری پرویز الٰہی کو ووٹ دے چکے تھے، کسی خط کے ذریعے ان کو ایسا کرنے سے روکا تو نہیں گیا تھا، تو اب ایسے کسی خط کیا کیا وقعت ہو گی؟ کیا ڈپٹی سپیکر اس کی بنیاد پر ق لیگ کے ممبران کے ووٹ مسترد کر دیں گے؟

ڈپٹی سپیکر کی 'لیکن۔۔۔' اور پھر سناٹا

نتیجہ ڈپٹی سپیکر کے ہاتھ میں پہنچ چکا تھا۔ ساتھ ہی ان کے عقب میں کھڑے پولیس کے جوان ان اچانک سے ان کے ڈیسک کے سامنے دیوار بنا کر کھڑے ہو گئے۔ چند صحافیوں نے مسکرا کر ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ کیا واقعی کچھ ہونے والا تھا؟

لیکن ڈپٹی سپیکر نے نتیجہ سنانا شروع کر دیا۔ پہلے ن لیگ کے امیدوار حمزہ شہباز کو ملنے والے ووٹوں کا بتایا گیا، وہ کل 179 بنے تھے۔ اتنے ہی کی توقع تھی۔ یعنی کوئی 'سرپرائیز' نہیں ہوا۔ لیکن اس پر بھی ن لیگ کے ممبران نے ڈیسک بجائے۔

پھر ڈپٹی سپیکر نے پی ٹی آئی کے امیدوار چوہدری پرویز الٰہی کو ملنے والے ووٹوں کی تعداد بتائی۔ انھوں نے بتایا کہ پرویز الٰہی کو 'پی ٹی آئی کے 176 اور ق لیگ کے دس ووٹ ملے ہیں۔' یوں ان کو کل 186 ووٹ ملے تھے۔

ابھی شاید پی ٹی آئی کے اراکین 'جیت' کی خوشی میں ڈیسک بجانا ہی چاہتے تھے کہ ڈپٹی سپیکر نے کہا 'لیکن۔۔۔'

ساتھ ہی ہال میں مکمل سناٹا چھا گیا۔ جسے انگریزی میں کہتے ہیں 'پِن ڈراپ سائلینس۔'

ڈپٹی سپیکر نے اپنی جیب سے ایک کاغذ نکالا اور اپنی بات آگے بڑھائی۔ 'تمام ممبران میری بات غور سے سنیں۔ مجھے ق لیگ کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کا ایک خط موصول ہوا ہے۔ تمام میڈیا، تمام ممبر دیکھ اور سن رہے ہیں۔ میں یہ خط پڑھ کر سناتا ہوں۔'

تو یہ وہ خط تھا؟

پھر انھوں نے خط لہرایا اور پڑھنا شروع کیا۔ اس میں لکھا تھا کہ چوہدری شجاعت حسین نے بطور سربراہ پاکستان مسلم لیگ اپنے تمام دس اراکین کو یہ ہدایات جاری کیں تھیں کہ وہ ن لیگ کے امیدوار حمزہ شہباز کو ووٹ دیں گے۔ ساتھ ہی دس ممبران کے نام بھی درج تھے۔

تو یہ وہ خط تھا۔ اور واقعتاً خط موجود تھا۔ اب ڈپٹی سپیکر یہ کہنے جا رہے تھے کی سپریم کورٹ کے ایک سابقہ فیصلے کی روشنی میں وہ ق لیگ کے دس ممبران کے ووٹ مسترد کرنے جا رہے تھے کیونکہ انھوں نے اپنے پارٹی سربراہ کی ہدایات کے برعکس ووٹ دیا تھا۔

اس سے پہلے ہی سابق صوبائی وزیر بشارت راجہ اپنی نشست پر کھڑے ہو گئے۔ انھوں نے ڈپٹی سپیکر سے کہا کہ ’آپ ایسا نہیں کر سکتے۔‘ ڈپٹی سپیکر نے پوچھا کیوں نہیں کر سکتا۔

’کیونکہ قانونی اور آئینی طور پر چوہدری شجاعت حسین پارٹی کے ممبران کو ووٹ دینے کی ہدایات دینے کا اختیار نہیں رکھتے۔‘

راجہ بشارت نے کہا کہ ’یہ اختیار جماعت کے پارلیمانی لیڈر کے پاس ہوتا ہے اور وہ اپنے ممبران کو چوہدری پرویز الٰہی کو ووٹ ڈالنے کا کہہ چکے ہیں۔‘

ڈپٹی سپیکر نے فوراً جواب دیا کہ انھوں نے بذاتِ خود ٹیلیفون پر چوہدری شجاعت سے خط کی تصدیق کی تھی اور سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کو سامنے رکھتے ہوئے نتائج کا اعلان کرنے جا رہے ہیں۔

’آپ اگر اس کو چیلنج کرنا چاہتے ہیں تو کر لیجیے گا لیکن میں سپریم کورٹ کے ایک حکم کی رو سے نتائج کا فیصلہ سنا رہا ہوں۔‘

چوہدری بشارت نے کہا ’ہم اس کو چیلنج کریں گے لیکن آپ غلط کر رہے ہیں۔‘ ڈپٹی سپیکر بولے ’میں ٹھیک کر رہا ہوں۔‘

یہ بھی پڑھیے

کیا چوہدری پرویز الٰہی کو پہلے سے خط کا علم تھا؟

پھر احتجاج جاری رکھتے ہوئے راجہ بشارت اور باقی تمام ممبران نے سنا کہ ڈپٹی سپیکر نے ق لیگ کے تمام دس ووٹ مسترد کر دیے۔ اس طرح چوہدری پرویز الٰہی کو ملنے والے باقی ووٹ 176 بچے۔ ان کے مقابلے میں حمزہ شہباز کو ملنے والے ووٹوں کی تعداد 179 تھی۔

یوں حمزہ شہباز کامیاب قرار پائے اور ان کی جماعت نے ہال کے اندر ہی جشن منانا شروع کر دیا۔ انھوں نے حمزہ شہباز کو کندھوں پر اٹھا لیا۔ یہ تمام کارروائی محض چند منٹوں کے اندر ہوئی۔ ڈپٹی سپیکر اجلاس ختم کر کے جا بھی چکے تھے۔

حزبِ اختلاف کے بنچوں پر پی ٹی آئی کے چند ممبران یوں مایوس بیٹھے دکھائی دیے۔ چوہدری پرویز الٰہی بھی اپنی نشست پر بیٹھے تھے۔

چند منٹوں کے توقف سے انھوں نے ہاتھ کے اشارے سے حزبِ اختلاف کے تمام ممبران کو اپنی نشستوں پر بیٹھ جانے کو کہا۔ وہ غالباً اپنی آئندہ کی حکمتِ عملی طے کرنا چاہتے تھے۔

اسمبلی ہال کے باہر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے رہنما شفقت محمود نے کہا کہ ’چوہدری پرویز الٰہی کو پہلے سے اس خط کے بارے میں علم نہیں تھا۔‘ انھوں نے ارادہ ظاہر کیا کہ وہ اس انتخاب کے عمل اور اس کے نتیجے کو عدالت میں چیلنج کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ہال کے باہر ن لیگ کے ممبران کا جشن جاری تھا۔دوسری جانب پی ٹی آئی کی آئندہ کی حکمت عملی جلد ہی واضح ہو چکی تھی۔ جمعے کی رات ہی کو ان کے وکلا اور ممبران پنجاب اسمبلی سے سیدھا سپریم کورٹ کی لاہور رجسٹری کے باہر پہنچ چکے تھے۔