آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
خواتین کو سیاحتی مقامات پر جانے کی اجازت نہیں جمعیت علمائے اسلام کے جرگے کا فیصلہ
- مصنف, محمد زبیر خان
- عہدہ, صحافی
صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع باجوڑ میں جمعیت علماء اسلام ف کے ایک گرینڈ جرگہ نے خواتین کی سیاحت پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس کا اعلان جرگہ میں جمعیت علماء اسلام ف کے رہنما اور جمعیت علماء اسلام ف کے منتخب تحصیل ناظم نے کیا ہے۔
سوشل میڈیا پر مختلف وڈیو وائرل ہورہی ہے جس میں جمعیت علماء اسلام کے مختلف رہنماوں اور تحصیل ناظم یہ اعلان کرتے سنے جاسکتے ہیں کہ آئندہ خواتین کو سیاحتی مقامات پر جانے کی اجازت نہیں دی جائے گئی۔
جرگہ میں باجوڑ کے تحصیل ناظم حاجی سید بادشاہ نے تقریر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر انتظامیہ جرگے کے فیصلے کے مطابق فی الفور پابندی نافذ نہیں کرتی تو ہم خود آگے بڑھ کر اس پابندی کو نافذ کریں گے اور علاقے میں کسی قسم کی فخاشی اور عریانی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
رابطہ کرنے پر اسسٹنٹ کمشنر باجوڑ حمزہ ظہور نے بی بی سی کی نامہ نگار حمیرا کنول کو بتایا کہ خواتین کی کی نقل و حرکت پر کسی بھی سیاحتی مقام پر پابندی نہیں ہے۔
انھوں نے بتایا کہ کسی بھی فرد واحد یا تنظیم کو خواتین اور خاندانوں کی آزادی میں مداخلت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انسانی حقوق کے کارکناں کا کہنا ہے کہ ہر چیز کو فخاشی اور عریانی قرار دے دینا کوئی انصاف نہیں ہے۔ ملک میں قوانین موجود ہیں ان پر عمل در آمد ہونا چاہیے۔ ریاست کے اندر ریاست قائم نہیں ہونا چاہیے۔
جرگے میں کیا ہوا ہے؟
باجوڑ سے تعلق رکھنے والے صحافی احسان اللہ احسان کے مطابق جرگہ جعمیت علماء اسلام ف کے زیر انتظام منعقد کیا گیا تھا۔ اس جرگے میں لوگوں کی بڑی تعداد اور بالخصوص جمعیت علماء اسلام ف سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی تھی۔
جرگے میں خواتین کی سیاحت کے علاوہ دیگر امورپر بھی بات کی گئی تھی۔ جن میں باجوڑ کے محکموں میں ضلع کے باہر سے لوگوں کی بھرتیوں کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ بھرتیاں صر ف اور صرف باجوڑ سے کی جائیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
باجوڑ اور سابقہ فاٹا قبائیلی حال ہی میں ضم شدہ قبائیلی علاقہ جات میں بدامنی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا تھا کہ حکومت بدامنی کو قابو کرنے کے لیے سنجیدگی سے کوشش کرے اور بھرپور اقدامات اٹھائے۔
جرگے میں موجود قائدین جمعیت علماء اسلام ف کے رہنما مولانا عبدالرشید اور منتخب تحصیل ناظم حاجی سید بادشاہ نے باجوڑ کے سیاحتی مقامات میں خواتین کی سیاحت پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔
اس موقع پر انھوں نے الزام عائد کیا کہ مہمند ڈیم کے ساتھ قائم کردہ پارک میں عید کی تعطیلات کے دوران سر عام ناچ گانے کے پروگرام منعقد ہوئے ہیں۔ جو ہماری قبائیلی روایات کے برخلاف ہیں اور ان کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انتظامیہ اس پر خود پابندی لگائے ورنہ ہم خود آگے بڑھ کر اقدام کریں گے۔
احسان اللہ کے مطابق اس موقع پر جرگے میں موجود تمام لوگوں نے مولانا عبدالرشید اور حاجی سید بادشاہ کی تائید کی تھی۔
حاجی سید بادشاہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم سیاحت کے خلاف نہیں ہے مگر اس کو اصول و ضوابط کے تحت لانا چاہتے ہیں۔
خواتین کے لیے الگ پارک قائم کیے جائیں
حاجی سید بادشاہ کا کہنا تھا کہ عید کی تعطیلات کے دوران ڈیم کے ساتھ منسلک پارک میں قبائیلی روایات کے برخلاف فخاشی اور عریانی کا بازار گرم کیا گیا تھا۔ وہاں پر کھلے عام ڈانس ہوتے رہے تھے۔ جو ہم قبائیلیوں کے لیے قابل قبول نہیں ہیں۔ جس وجہ سے ہم اپنا موقف دے رہے ہیں۔
حاجی سید بادشاہ کہتے ہیں کہ ہمارا مطالبہ بڑا واضح ہے کہ کوئی بھی خاتون اپنے محرم خاوند، بھائی، والد کے علاوہ تفریحی مقامات پر نہیں جاسکتی ہے۔ ایسا کرنے پر سخت پابندی ہوگئی۔ انتظامیہ اگر یہ نافذ نہیں کرئے گئی تو ہم خود آگے بڑھ کر اس کو نافذ کریں گے۔
ہم چاہتے ہیں کہ خواتین کے لیے الگ سے پارک ہوں۔ الگ سے ایسے مقامات ہوں جہاں پر وہ تفریح کرسکیں۔ جہاں پر مردوں کا داخلہ ممنوع ہو۔
حاجی سید بادشاہ کا کہنا تھا کہ ہم خواتین کے حقوق کو بھی جانتے ہیں اور اس پر عمل در آمد بھی کرواتے ہیں۔ مگر فخاشی اور عریانی قبائیلی روایات کے برخلاف ہیں۔ اس کی اجازت نہیں ہوسکتی ہے۔
باجوڑ سے تعلق رکھنے والی انسانی حقوق کی کارکن افسانہ کا کہنا تھا کہ گزشتہ دونوں خواتین کے بازاروں پر جانے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ آج خواتین کی سیاحت پر پابندی عائد کی جارہی ہے کل تعلیمی اداروں میں بھی جانے پر پابندی عائد کردی جائے گئی۔
قوانین پر عمل در آمد کروایا جائے۔
افسانہ کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال نہ تو اچھی ہے اور نہ ہی قابل قبول ہے۔ ملک کے اندر قوانین موجود ہیں۔ ان قوانین پر عمل در آمد ہونا چاہیے۔ ہر ایک کو یہ اختیار نہیں ہونا چاہیے کہ وہ اٹھے اور مختلف سرگرمیوں کو فخاشی اور عریانی قرار دے کر ان پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کر دے۔
افسانہ کا کہنا تھا کہ ایسی سرگرمیوں پر پابندی کا مطلب علاقے اور قوم کو پیچھے کی طرف دکھیلنا ہے۔ اس کے خلاف قوانین کو حرکت میں آنا چاہیے۔ خواتین پرپابندی کے اعلانات کرنا اور اس پر عمل در آمد کے لیے طاقت کے استعمال کی بات کرنا قوانین توڑنے کے مترادف ہے۔
مزید پڑھیے
بلیو وین میں پروگرام آفسیر اور انسانی حقوق کی کارکن زرتاشہ عابد کے مطابق تقریباً دو ماہ پہلے خواتین پر بازاروں اور مارکیٹوں میں جانے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ مارکیٹوں میں جانے پر خواتین پر جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
زرتاشہ عابد کا کہنا تھا کہ حالیہ دونوں میں وومن اینڈ جنڈر کی ایک رپورٹ کے مطابق خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک میں پاکستان آخری نمبروں میں آرہا ہے۔ خواتین کے ساتھ پاکستان اور بالخوص قبائیلی علاقہ جات اور دور دراز کے علاقے میں بہت زیادہ امتیازی سلوک کیا جارہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے جرگوں کی ویسے بھی کوئی حیثیت نہیں ہے کہ ان میں جن کی تقدیر کے بارے میں فیصلہ کیا جارہا ہے اس میں خواتین کے ساتھ کوئی مشاورت نہیں کی گئی تھی۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ زندگی کے ہر شعبے میں خواتین کو پیچھے دکھیل کر یہ سوچیں کہ ترقی کرسکیں گے۔
زرتاشہ عابد کا کہنا تھا کہ بنیادی انسانی حقوق اور ملکی قوانین خواتین کو اس بات کی اجازت دیتی ہیں کہ خواتین اپنی سرگرمیاں جس میں سیاحت بھی شامل ہے جاری رکھ سکتی ہیں۔ ان پر پابندی نہیں لگائی جاسکتی ہے اور ایسی پابندی کو قبول بھی نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح لگ رہا ہے کہ طالبائزش نافذ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
کل کو کسی بچی کے سکول جانے پر کوئی واقعہ ہوا تو کیا تعلیمی اداروں میں جانے پر پابندی عائد کردی جائے گئی؟۔ اگر کسی گاڑی یا کار جس میں خواتین شامل ہوں اس کو حادثہ ہوگا تو کیا خواتین کے کار اور گاڑی میں سفر کرنے پر بھی پابندی عائد کردیں گے؟۔