آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
یوٹیوب پر طلبہ کی رہنمائی کرنے والے نوجوان عبداللہ خٹک کی موت پر سوشل میڈیا صارفین کا اظہارِ افسوس
’پخیر! میں عبداللہ خٹک ہوں، آغا خان یونیورسٹی پاکستان میں میڈیکل سیکنڈ ایئر کا سٹوڈنٹ۔ اس چینل کے ذریعے میرا مقصد طلبہ کی حوصلہ افزائی کرنا ہے تاکہ وہ اس کریئر کو حاصل کر سکیں جس کے بارے میں وہ پُرجوش ہیں اور اس کے لیے ان کی رہنمائی کرنا ہے۔ میں آپ لوگوں کو میڈیکل کے طالب علم کی حیثیت سے اپنے اس سفر میں ساتھ لے جانا چاہتا ہوں۔ امید ہے آپ لطف اندوز ہوں گے۔‘
یہ مختصر تعارف تھا عبداللہ خٹک نامی نوجوان یوٹیوب بلاگر کا ان کے یوٹیوب چینل پر۔ ان کے اس چینل کے 86 ہزار سے زیادہ سبسکرائبر ہیں اور انسٹا گرام پر بھی ان کے ایک لاکھ سولہ ہزار سے زائد فالوورز ہیں۔
بدھ کی صبح ان کے مداحوں اور فالورز کے لیے بری خبر لے کر آئی کیونکہ منگل کی رات وہ موٹر سائیکل حادثے میں زخمی ہونے کے بعد جانبر نہ ہو سکے۔ ان کی عمر اکیس برس تھی۔
عبداللہ خٹک پاکستانی نوجوان طلبہ میں کافی مقبول تھے۔ کیونکہ وہ نہ صرف اپنے تعلیمی کریئر کے بارے میں ان سے باتیں شئیر کرتے تھے بلکہ ان کی رہنمائی بھی کرتے تھے۔ عبداللہ خٹک کا تعلق پشاور سے تھا اور وہ تین سال قبل تعلیم کے لیے کراچی منتقل ہوئے تھے۔ ان کے یوٹیوب پر نہ صرف طلبا کی تعلیمی رہنمائی سے متعلق ویڈیوز ہوتی تھیں بلکہ وہ سیر و تفریح سے متعلق بھی ویڈیوز اپ لوڈ کرتے تھے۔
سوشل میڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد نے ان کی موت کو ایک دھچکہ قرار دیا اور کہا کہ وہ ایک ذہین طالب علم اور ہر دلعزیز سوشل میڈیا شخصیت تھے۔ نہ صرف ٹوئٹر اور انسٹا گرام بلکہ فیس بک کی نیوز فیڈ کے علاوہ مختلف گروپس میں بھی عبداللہ خٹک کی موت پر اظہار افسوس کیا جا رہا ہے۔ ان کا نام اس بدھ کی صبح سے ہی ٹاپ ٹرینڈز میں شامل ہے۔
سوشل میڈیا سوگوار
ان کے کئی سکول اور کلاس فیلوز بھی سوشل میڈیا پر اپنے دکھ کا اظہار کرتے نظر آئے ۔ انہی میں سے ایک ٹوئٹر صارف زینی کاکاخیل کا کہنا تھا ’عبداللہ ایک قابل طالب علم تھے انھوں نے اپنا اے لیول روٹس میلینیئم سکول پشاور سے کیا تھا۔ وہ ہمارے سکول کے پہلے طالب علم تھے جنھیں آغا خان یونیورسٹی میں سو فیصد سکالر شپ پر داخلہ ملا۔ وہ اس وقت ایم بی بی ایس کے تیسرے سال میں تھے۔‘
عادل حیدر کا کہنا تھا کہ ’وہ ایک سپر سٹار تھا۔ آج آڈیٹوریم میں جمع ہو کر سب نے اس کی زندہ دل مسکراہٹ، زندگی کے لیے جذبے اور بے مثال مہربان طبیعت کو یاد کیا۔۔۔‘
ان کا مزید کہنا تھا ’ہمارے دل آج بہت بوجھل ہیں، ہم سب ان کی بہت کمی محسوس کر رہے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک اور ٹوئٹر صارف فضہ احسن کا کہنا تھا ’میں اس المناک نقصان پر دکھی ہوں۔ مجھے یاد ہے کہ وہ کتنے مہذب تھے اور آغا خان یونیورسٹی کے بارے میں رہنمائی فراہم کرتے تھے۔ ان کے دوست کے مطابق وہ ایک پیدل چلنے والے شخص کو بچاتے ہوئے جان سے چلے گئے۔‘
ایک اور صارف فاطمہ ایوب کا کہنا تھا ’میں عبداللہ خٹک کی وفات کی خبر کو قبول نہیں کر پا رہی۔ میں ان کے وی لاگز دیکھتے ہوئے بڑی ہوئی ہوں، ان کے یو ٹیوب چینل کی کوششیں، ان کے اے لیول کے گریڈز، آغا خان یونیورسٹی میں داخلے کے لیے ان کی محنت۔ ایک منٹ آپ یہاں ہوتے ہیں اور اگلے ہی منٹ آپ چھ فٹ زمین کے اندر۔‘
اس پر عمران علی کا کہنا تھا ’ان کے سکول کے دور کے وی لاگز بہت خوبصورت تھے۔ وہ ایک خالص انسان تھے۔‘
اویس نامی صارف کا کہنا تھا ’وہ میڈیکل کے طلبہ کے لیے ایک انسپریشن تھے۔‘
حسن خان کا کہنا تھا ’ یو ٹیوبر عبداللہ خٹک نے بہت اچھے کام کیے، بہت سے میڈیکل کے طلبہ کی مدد کی۔ میڈیکل کے طلبہ کے لیے ’سٹڈی ود می‘ (میرے ساتھ پڑھیے) کے عنوان سے بھر پور محنت سے ویڈیوز بنائیں۔ وہ ہمارے دلوں میں ہمیشہ رہیں گے۔‘