پاکستان میں پولیو: کیا ’جعلی فنگر مارکنگ‘ اور ’ویکسین پلانے سے انکار‘ شمالی وزیرستان میں بچوں کے متاثر ہونے کی وجہ ہے؟

    • مصنف, عمر دراز ننگیانہ
    • عہدہ, بی بی سی اردو، شمالی وزیرستان

وہ بالکل تندرست پیدا ہوئے۔ چند ماہ قبل ہی انھوں نے اپنا پہلا قدم اٹھایا۔ آنے والے دنوں میں انھیں اپنے بہن بھائیوں اور گھر کے دوسرے بچوں کے ساتھ بھاگنا دوڑنا اور کھیلنا کودنا تھا لیکن اب ایسا ممکن ہو پائے، یہ یقین سے نہیں کہا جا سکتا۔

محمد صالح کی عمر ابھی صرف ایک برس اور چار ماہ ہے لیکن ان کی بائیں ٹانگ کمزور ہو رہی ہے۔ اس میں پڑتا ہو خم واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

حال ہی میں انھیں ٹانگ اور کمر میں شدید درد کی تکلیف ہوئی۔ ان کی ٹانگیں اور بازو اکڑ جاتے اور درد اس قدر شدید ہوتا کہ وہ رات بھر سو نہیں پاتے تھے۔ گھر والے انھیں ڈاکٹر کے پاس لے کر گئے۔ ان کے نمونے ٹیسٹ کے لیے بھجوائے گئے۔

محمد صالح کا خاندان صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں آباد ہے۔ حال ہی میں شورش زدہ اس علاقے میں کئی بچوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہو چکی تھی۔ محمد صالح بھی ان بچوں میں شامل ہو گئے جب ان کے ٹیسٹ کے نتائج سامنے آئے۔

ڈاکٹر نے ان کے گھر والوں کو بتایا کہ ان کی ٹانگوں اور جسم کے پٹھوں میں کمزوری اور درد کی وجہ پولیو وائرس ہے۔ محمد صالح سمیت شمالی وزیرستان میں رواں برس پولیو وائرس کا شکار ہونے والے بچوں کی تعداد اب تک 11 ہو چکی ہے۔

ایک ہی علاقے سے پولیو کے اتنے زیادہ متاثرین کا سامنے آنا انسدادِ پولیو کے لیے کام کرنے والے محکمہ صحت کے اداروں کے لیے تشویش کا باعث ہے کیونکہ گزشہ برس پاکستان میں صرف ایک پولیو کا کیس صوبہ بلوچستان سے سامنے آیا تھا۔

حکام توقع کر رہے تھے کہ اگر رواں برس ملک میں پولیو کا کوئی کیس سامنے نہیں آتا تو پاکستان پولیو سے پاک ہونے والے ممالک میں شامل ہونے کی طرف پہلا قدم اٹھا لے گا۔ لیکن اب ایسا نہیں ہو پائے گا۔

پولیو سے پاک قرار دیے جانے کے لیے ضروری ہے کہ مسلسل کم از کم تین سال تک ملک میں پولیو کا ایک بھی کیس سامنے نہ آئے اور ماحولیاتی نمونے بھی پولیو وائرس سے پاک رہیں۔ اس ہدف کے حصول کے لیے پولیو ویکسین کی مہمات مسلسل جاری تھیں۔ حکام کے لیے یہی زیادہ تشویش کی بات تھی۔

سکیورٹی کے حالات خراب ہونے کے باوجود بھی شمالی وزیرستان میں پولیو ویکسین کی مہمات رکی نہیں تھیں۔ تو محمد صالح کو وائرس کیسے اور کیوں لگا؟

ڈاکٹروں کے پوچھنے پر ان کے گھر والوں نے بتایا تھا کہ محمد صالح نے ان مہمات کے دوران پولیو کے قطرے پیے تھے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے محمد صالح کے رشتہ دار شہید اللہ نے بتایا کہ ’ڈاکٹر نے انھیں بتایا تھا کہ کبھی کبھار پولیو کی ویکسین پینے کے باوجود بچہ پولیو کا شکار ہو سکتا ہے۔‘

اگر شہید اللہ کے دعوے کو درست مانا جائے تو پولیو ویکسین کی افادیت کے حوالے سے سوالیہ نشان ابھرتا ہے۔

لیکن کیا واقعتاً ایسا ممکن ہے؟

پاکستان میں انسدادِ پولیو کے لیے کام کرنے والے محکمہ صحت کے حکام کہتے ہیں کہ ایسا ممکن نہیں۔ جس بچے نے پولیو کی ویکسین باقاعدگی سے لے رکھی ہو یا مسلسل لے رہا ہو وہ پولیو وائرس سے متاثر نہیں ہوتا۔

صوبائی سطح پر پولیو کے خاتمے کے قومی پروگرام پر عملدرآمد یقینی بنانے کے ذمہ دار پروونشل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (پی ای او سی) پشاور کے ڈپٹی کوارڈینیٹر محمد ذیشان خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پولیو وائرس کے خلاف ویکسین کی افادیت کے حوالے سے کوئی دو رائے نہیں۔

’پولیو ویکسین مکمل طور پر مؤثر اور محفوظ ہے اور پوری دنیا میں یہی ویکسین استعمال ہو رہی ہے۔ پاکستان میں بھی آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کہیں سے بھی بچوں میں پولیو سے معذوری کے واقعات سامنے نہیں آ رہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ویکسین مؤثر ہے۔‘

تو شمالی وزیرستان کے محمد صالح وائرس سے کیوں متاثر ہوئے؟

پی ای او سی کے ڈپٹی کوارڈینیٹر محمد ذیشان خان نے بتایا کہ ان کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق محمد صالح نے نہ تو معمول کے حفاظتی ٹیکہ جات لگوائے تھے اور نہ ہی کسی بھی پولیو ویکسینیشن مہم کے دوران پولیو ویکسین کے قطرے پیے تھے۔

’ہمارے ریکارڈ کے مطابق یہ بچہ مسلسل تین پولیو کیمپینز کے دوران ’ناٹ اویلیبل‘ یعنی غیر موجود ظاہر ہو رہا ہے اور اس نے ویکسین کی ایک بھی خوراک نہیں لی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ محمد صالح کے رشتہ دار کا دعوٰی کہ انھوں نے قطرے پی رکھے تھے ’انتہائی مشکوک ہے۔‘ محمد ذیشان خان کا کہنا تھا محمد صالح اور ان جیسے دیگر متاثرین کے پولیو وائرس کا شکار ہونے کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ انھوں نے ویکسین نہیں لے رکھی تھی۔

ان بچوں کے جسم میں ویکسین کیوں نہیں پہنچ پاتی؟

ڈپٹی ڈائریکٹر پی ای او سی پشاور محمد ذیشان خان کے مطابق جو بچے ویکسین نہیں لیتے ان کے جسم میں پولیو وائرس کے خلاف قوتِ مدافعت انتہائی کم ہوتی ہے۔

’پسماندہ یا ایسے علاقے جہاں بچے پہلے ہی سے غذائیت کی کمی کا شکار ہوں وہاں اگر بچے پولیو ویکسین نہیں لے رہے تو ان کے متاثر ہونے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں کیونکہ وائرس کے خلاف ان کی قوتِ مدافعت پہلے ہی بہت کم ہوتی ہے۔‘

محمد ذیشان کے مطابق ایسے بچے اس لیے ویکسین نہیں لے پاتے کہ ان کے والدین انھیں ویکسین پلانے سے انکار کر دیتے ہیں۔ اسے تکنینی اصطلاح میں ’ویکسین ریفیوزل‘ کا نام دیا جاتا ہے۔

شمالی وزیرستان میں والدین کی طرف سے بچوں کو ویکسین نہ پلانے کی ایک دوسری صورت بھی حکام کے مشاہدے میں آئی ہے۔ ’جعلی فنگر مارکنگ‘ یعنی پولیو مہم کے دوران بچے کو ویکسین پلائے بغیر ہی پولیو ورکر اس کی انگلی پر سیاہی کا نشان لگا دیتا ہے۔

اس طرح ظاہر یہ کیا جاتا ہے کہ مہم کے دوران اس بچے نے ویکسین پی لی تھی جبکہ حقیقت میں اس نے ویکسین نہیں پی ہوتی۔

والدین کیوں چاہیں گے کہ ان کا بچہ معذور ہو جائے؟

پولیو کے مہلک ہونے اور اس کے خطرات کے حوالے سے حکومت ایک طویل عرصے سے آگاہی مہم چلا رہی ہے۔ ساتھ ہی پولیو ویکسین کے مؤثر، محفوظ اور ’حلال‘ ہونے کے حوالے سے بھی حکومت لوگوں کو بار بار آگاہ کر چکی ہے۔

تو کیا وجہ ہے کہ یہ دیکھتے ہوئے کہ پولیو ان کے بچوں کی جان لے سکتا ہے یا انھیں زندگی بھر کے لیے معذور کر سکتا ہے اور اس سے بچاؤ کا واحد ذریعہ ویکسین ہے، بعض والدین بچوں کو پولیو ویکسین پلانے سے انکاری ہیں؟

ڈپٹی کوارڈینیٹر محمد ذیشان خان کے خیال میں اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ بعض والدین غلط اور گمراہ کن معلومات کی بنا ہر ویکسین کے حوالے سے یہ تاثر قائم کر لیتے ہیں کہ ویکسین حلال نہیں ہے یا مؤثر نہیں ہے۔

’ایسی باتوں میں سراسر کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔ ملک کے جید علما فتوے دے چکے ہیں کہ ویکسن بالکل حلال ہے اور اس کے مؤثر اور محفوظ ہونے کے حوالے سے کوئی شک و شبہہ نہیں ہے۔‘

تو ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا شمالی وزیرستان میں لوگوں تک یہ پیغام نہیں پہنچ پایا یا پھر وجہ کچھ اور ہے۔

گھر والے بچوں کو کہتے ہیں قطرے تھوک دینا

شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی ایک گاؤں حیدر خیل میں پولیو ویکسینیشن کیمپین کے ایریا انچارج نجات اللہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی ٹیمیں جب پولیو مہم کے دوران قطرے پلانے نکلتی ہیں تو بعض والدین کی طرف سے انھیں شدید قسم کے ردِ عمل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

’گھر والے بچوں کو کہتے ہیں کہ جو قطرے تمہیں پلائے ہیں وہ منھ دوسری طرف کر کے تھوک دو۔ وہ بچوں کو کہتے ہیں اس میں خنزیر کا گوشت استعمال ہوتا ہے۔ کئی قسم کے حربے استعمال کرتے ہیں یہاں پر۔‘

نجات اللہ کا کہنا تھا کہ انھوں نے اپنے پولیو ورکرز کو ہدایات دے رکھی ہیں کہ اگر وہ ایسا کوئی واقعہ دیکھیں تو اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ اس بچے کو دوبارہ قطرے پلائیں۔

تاہم نجات اللہ کے مطابق اس حکمتِ عملی کے نتیجے میں اگلی مہم میں بعض والدین یہ بہانہ بنا لیتے ہیں کہ بچے گھر پر نہیں ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ میر علی کے علاقے میں ہر پولیو مہم کے دوران 70 سے 80 ایسے واقعات سامنے آ جاتے ہیں جہاں والدین بچوں کو قطرے نہیں پلاتے۔

والدین کے انتہائی ردِ عمل کی وجہ کیا ہے؟

حیدر خیل کے ایریا انچارج نجات اللہ کے مطابق بچوں کے والدین مختلف قسم کی غلط توجیہات پیش کرتے ہیں۔ ’کوئی کہتا ہے یہ قطرے بچوں میں بے حیائی پیدا کرتے ہیں تو کوئی کہتا ہے ان سے بچے جلدی جوان ہو جاتے ہیں۔‘

نجات اللہ نے بتایا کہ جب ان کے ورکرز قطرے پلانے جاتے ہیں تو بعض گھروں سے جواب آتا ہے کہ ’آپ لوگ ہر روز ڈبے اٹھا کر آ جاتے ہو۔ دوسری بیماریاں بھی ہیں وزیرستان میں لیکن تم لوگ صرف پولیو کے قطرے پلانے آ جاتے ہو۔‘

تاہم نجات اللہ کے مطابق جہاں بعض والدین قطرے پلانے سے انکار کرنے کے لیے مذہب کا سہارا لیتے ہیں وہیں کئی لوگ ایسے ہیں جن کے حکومت سے مطالبات ہوتے ہیں جن کو منوانے کے لیے وہ پولیو مہم کا بائیکاٹ کر دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

تو حکومت ایسے ردِ عمل کا سدِ باب کیوں نہیں کر پائی؟

پی ای او سی پشاور کے کوارڈینیٹر آصف رحیم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ویکسین رفیوزل کی کئی وجوہات ہوتی ہیں جن میں ایک یہ بھی ہے کہ لوگ حکومت سے اپنے کام کروانا چاہتے ہیں۔

’کوئی کہتا ہے کہ جی ہمارے علاقے میں سڑک بنوائیں یا کہیں ٹیوب ویل لگوانا چاہتے ہیں تو وہ پولیو مہم کو بائیکاٹ کر لیتے ہیں۔‘

تو کیا لوگ پولیو کے قطروں کو لے کر حکومت کو بلیک میل کرتے ہیں؟ اور کیا حکومت بلیک میل ہو جاتی ہے؟ آصف رحیم کہتے ہیں کہ وہ اسے بلیک میل تو نہیں کہیں گے۔ ان کے خیال میں بعض مقامات پر لوگوں کے مطالبات یا ان کی شکایات جائز بھی ہوتی ہیں۔ یہ مقامی حکام کے لیے ایک موقع بھی ہوتا ہے کہ انھیں لوگوں کے مسائل کا پتہ چلتا ہے اور وہ ان کے حل کے لیے کام کر سکتے ہیں۔

کوارڈینیٹر پی ای او سی پشاور آصف رحیم کے مطابق حکومت اب اس بات کو یقینی بنائے گی کہ اس نوعیت کے مسائل پولیو مہم کی راہ میں رکاوٹ نہ بنیں۔ ’اب سے یہ ہو گا کہ ایسے مسائل کا مقامی سطح پر حل کر لیا جائے گا۔‘

تاہم حکومت کے لیے ایک نیا مسئلہ جعلی فنگر مارکنگ کا ہے جو شمالی وزیرستان میں حالیہ کیسز سامنے آنے کے بعد سر اٹھا کر کھڑا ہے۔

پولیو ورکرز جعلی فنگر مارکنگ کرتے ہی کیوں ہیں؟

حیدر خیل کے ایریا انچارج نجات اللہ نے یہ ماننے سے انکار کیا کہ ان کے علاقے میں پولیو ورکر جعلی فنگر مارکنگ کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس حوالے سے مہم کے دوران کڑی نظر رکھتے ہیں۔ ’جو لوگ اس قسم کا کام کرتے ہیں انھیں قیامت کے دن اللہ کو جواب دینا ہو گا۔‘

تاہم ڈپٹی کورڈینیٹر پی ای او سی پشاور محمد ذیشان خان نے اس بات کا اعتراف کیا کہ حکام کے علم میں جعلی فنگر مارکنگ کے واقعات آئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی سیمپل میں پولیو وائرس شمالی وزیرستان اور ارد گرد کے علاقوں میں گزشتہ برس دسمبر کے مہینے ہی سے سامنے آنا شروع ہو گیا تھا۔

’تو یہ ظاہر کرتا تھا کہ کہیں نہ کہیں پر جعلی فنگر مارکنگ ہو رہی ہے اور کہیں نہ کہیں بچے قطرے نہیں پی رہے۔ اور پھر یہ صرف وقت کی بات تھی کہ پولیو کا کیس سامنے آیا۔ اس کے بعد ہم نے اس بات کی نشاندہی کی کہ کون سے علاقے میں یہ (فیک فنگر مارکنگ) سب سے زیادہ ہے۔‘

محمد ذیشان نے بتایا کہ اس کے بعد ایسے واقعات کے ذمہ دار پولیو ورکرز کو پکڑا بھی گیا۔ ان میں جن کو کاؤنسلنگ کی ضرورت تھی ان کی کاؤنسلگ کی گئی اور اس کے علاوہ محکمہ اس حوالے سے تادیبی کارروائی کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیو ورکرز مقامی افراد ہوتے ہیں۔ ان کو والدین اس بات پر آمادہ کر لیتے ہیں کہ آپ قطرے پلائے بغیر نشان لگا دیں۔

محمد ذیشان خان کا کہنا تھا کہ اس عمل میں کوئی پولیو ورکرز کی طرف سے کوئی معاشی فائدہ حاصل کرنے کے کوئی شواہد سامنے نہیں آئے۔ انھوں نے بتایا کہ میر علی کے جن تین علاقوں سے رواں برس پولیو کے مریض سامنے آئے ہیں ان علاقوں میں جعلی فنگر مارکنگ ’تقریباً ختم ہو چکی ہے۔‘

جعلی فنگر مارکنگ کا نقصان کیا ہوتا ہے؟

حکام کے مطابق اس کا سیدھا جواب یہ ہے کہ اس طرح پولیو کا وائرس ماحول میں موجود رہتا ہے اور آگے پھیل سکتا ہے۔ پولیو کا وائرس انسان کے منھ کے ذریعے جسم میں داخل ہوتا ہے اس کی انتڑیوں میں پہنچ کر افزائش کرتا ہے۔ متاثرہ انسان فضلے کے ذریعے اس کو ماحول میں خارج کرتا ہے۔

جب پولیو ویکسین نہ لی جائے تو وائرس مرتا نہیں اور فضلے کے ذریعے ماحول میں پہنچ سکتا ہے جہاں سے اس کے پھیلنے اور افزائش کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کسی علاقے میں ماحولیاتی سیمپلز میں وائرس کی موجودگی کا پتہ چلے تو اس علاقے میں اضافی پولیو مہمات چلائی جاتی ہیں۔

اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ خاص طور پر پانچ برس سے کم عمر کے بچوں میں وائرس کے خلاف قوتِ مدافعت کو بڑھایا جائے اور انھیں متاثر ہونے سے بچایا جائے۔

کیا ایک بار بھی قطرہ پی کر بچہ محفوظ ہو جاتا ہے؟

محکمہ صحت کے حکام کے مطابق شمالی وزیرستان سمیت کئی علاقوں میں بعض افراد اس بات پر اعتراض کرتے ہیں کہ پولیو کے قطرے ہر مہینے یا بار بار کیوں پلائے جاتے ہیں۔ یہ بھی ویکسین رفیوزل کی ایک وجہ بنتی ہے۔

پاکستان انسدادِ پولیو پروگرام کے مطابق مختلف لوگوں کے جسم میں وائرس کے خلاف قوتِ مدافعت پیدا ہونے کی صلاحیت مختلف ہوتی ہے۔ کچھ بچوں میں یہ مدافعت محض پانچ یا چھ خوراکیں لینے کے بعد ہی پیدا ہو جاتی ہے جبکہ کچھ بچوں کو دس سے بھی زیادہ خوراکوں کی ضرورت پڑتی ہے۔

’اس لیے یہ ضروری ہے کہ پانچ سال سے کم عمر کا ہر بچہ ہر پولیو مہم کے دوران قطرے ضرور پیے تاکہ وہ وائرس سے محفوظ رہ سکے۔‘

یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ایک بعد ایک پولیو مہم دیکھنے میں آتی ہے۔ پولیو کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ ہر مہم کے دوران پاکستان کے 95 فیصد بچوں تک ویکسین پہنچائی جا سکے۔ ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ ایک ضمنی مہم فوری طور پر کی جائے جس میں باقی پانچ فیصد بچوں تک بھی پہنچا جائے جن کی تعداد تقریباً 20 لاکھ کے قریب ہے۔

تاہم ان مہمات کے دوران اگر بچے والدین کی طرف سے رفیوزل یا جعلی فنگر مارکنگ کی وجہ سے ویکسین لینے سے رہ جائیں تو پولیو کے خاتمے کے لیے کیے جانے والے عمل کی افادیت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔

یاد رہے کہ دنیا میں صرف پاکستان اور افغانستان وہ دو ملک ہیں جو اب تک پولیو سے پاک نہیں ہو پائے۔