راولپنڈی سے بلوچ طالبعلم لاپتہ، '31 بلوچ طالبعلم جبری طور پر لاپتہ کیے گئے ہیں'

- مصنف, فرحت جاوید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے صوبے بلوچستان کے پسماندہ علاقے تُربت سے تعلق رکھنے والے فیروز بلوچ کے بارے میں ان کے کزن تفصیل بتا رہے تھے کہ وہ ایسا ٹیچر بننا چاہتے تھے جیسے 'پاکستان کے بڑے شہروں کی بڑی یونیورسٹیز' میں ہوتے ہیں۔ مگر فیروز کا یہ خواب فی الحال مشکل لگ رہا ہے کیونکہ ایک بڑے شہر کی بڑی یونیورسٹی سے وہ خود ہی گُمشدہ ہیں۔
گذشتہ چند ماہ میں جہاں بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال ابتر ہوئی، ملک کے مختلف علاقوں میں زیرِتعلیم بلوچ طلبا کی جانب سے احتجاج کا سلسلہ بھی بڑھ گیا ہے۔
اس احتجاج کی دو وجوہات ہیں۔ ایک تو مبینہ جبری گمشدگیاں جن کا دائرہ یونیورسٹیز میں تعلیم حاصل کرنے والا طلبا تک پہنچ گیا ہے اور دوسرا ان طلبا کا یہ الزام ہے کہ بلوچستان سے تعلق کی بنیاد پر ان کی 'پروفائلنگ' کی جاتی ہے یا ان سے پوچھ گچھ کی جاتی ہے۔
حال ہی میں لاپتہ ہونے والے طالب علم 17 برس کے فیروز بلوچ ہیں۔ ان کی مبینہ جبری گمشدگی اور عدم بازیابی کے خلاف راولپنڈی میں بلوچ طلبا نے بلوچ سٹوڈنٹس کونسل کے زیرانتظام ایک احتجاجی کیمپ لگایا ہوا ہے۔
ان طلبا نے اتوار کے روز بھی احتجاجی مظاہرہ کیا اور ریاستی اداروں کی طرف سے تعاون نہ کرنے کی شکایت کی۔

فیروز بلوچ کون ہیں؟
17 برس کے فیروز بلوچ راولپنڈی کی پیر مہر علی شاہ ایرڈ ایگریکلچر یونیورسٹی میں بی ایڈ کے دوسرے سمسٹر کے طالب علم ہیں۔
ان کا تعلق بلوچستان کے علاقے تُربت سے ہے اور ان کے والد ایک سرکاری ملازم ہیں۔ ان کے ساتھیوں کے مطابق وہ راولپنڈی آنے سے پہلے ایک گیراج میں مزدوری کرتے تھے۔
احتجاج میں شریک ان کے کزن جو خود بھی یہاں طالب علم رہے ہیں اور اپنا نام نہیں بتانا چاہتے، کہتے ہیں کہ فیروز پڑھائی میں کمزور تھے اس لیے روزانہ رات نو بجے تک لائبریری میں بیٹھتے تھے۔ گیارہ مئی کو وہ ہاسٹل سے لائبریری کی جانب گئے جو یونیورسٹی میں ہی موجود ہے۔ مگر رات نوبجے کے بعد بھی وہ واپس نہ آئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس دوران ان کے ساتھیوں نے فون پر رابطے کیے مگر ان کا نمبر بھی بند ملا۔
فیروز بلوچ کے کزن کہتے ہیں کہ اگلے روز صبح گھر والوں سے رابطہ ہوا اور انھوں نے بھی یہی کہا کہ فیروز نے انھیں کوئی کال یا میسج نہیں بھیجا۔ 'اب ہمیں محسوس ہوا کہ شاید وہ بھی جبری طور پر لاپتہ کیے گئے ہیں۔ اس لیے ہم پولیس سٹیشن پہنچے مگر رات کے دس بجے تک ہماری بات نہیں سنی گئی۔
پولیس یہ ماننے کو تیار ہی نہیں تھی کہ فیروز بلوچ لاپتہ ہوئے ہیں۔ آخر کار اگلی صبح ہماری درخواست درج کی گئی'۔
فیروز بلوچ کے کزن نے ان کے بارے میں بتایا کہ وہ ایک بےضرر انسان تھے جو سوشل میڈیا بھی زیادہ استعمال نہیں کرتے تھے۔ 'فیروز کا صرف فیس بک اکاؤنٹ تھا جہاں وہ زیادہ پوسٹ نہیں کرتے تھے بس تین چار اپنی تصویریں لگائی ہوئی تھیں۔
ان کا نہ تو کوئی ٹوئٹر اکاؤنٹ تھا نہ ہی کسی اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر سرگرم تھے۔
وہ اتنے سست اور خود میں مگن رہنے والے تھے کہ میں ان کا کزن ہوں مگر مجھ سے بھی کبھی کبھار بات کرتے۔ ان کے تین چار دوست تھے اور وہ زیادہ وقت اپنے کمرے میں گزارتے تھے۔ ایک بچہ جو ہاسٹل کے دوسرے کمرے تک جانے سے بھی کتراتا ہو وہ کسی ریاست مخالف سرگرمی میں کیسے ملوث ہو سکتا ہے؟'

فیروز بلوچ کے کزن نے بتایا کہ ان کا تعلق ایک نہایت غریب گھرانے سے ہے اور فیروز تعلیم حاصل کرکے تربت میں تعلیم کا بہتر انتظام کرنا چاہتے تھے۔ فیروز بلوچ مہینے کے دس ہزار جیب خرچ لاتا تھا۔
مہینے کے آخر میں جب وہ ختم ہو جاتے تو وہ پریشان ہوتا تھا کہ اب گزارہ کیسے ہوگا۔ ان کی والدہ دستکاری کر کے انھیں کبھی کبھار پیسے بھیجتیں۔ وہ خود بھی ایک چھوٹے سے گاؤں کے پسماندہ سکول میں زیر تعلیم رہے تھے۔
اس لیے انھیں بہت احساس تھا کہ ان کے گاؤں میں کچھ بہتری آئے۔'
وہ کہتے ہیں کہ اگر ان کا کزن کسی ملک مخالف سرگرمی میں ملوث بھی ہوں تو 'عدالتیں ہیں، قانون موجود ہے۔ آپ انھیں عدالت میں لے آئیں۔ آپ جو بھی سزا دیں گے وہ ہمیں منظور ہے۔ مگر یہ کیا کہ ان کا پورا خاندان آج ایک کرب میں مبتلا ہے۔ ان کی والدہ ہسپتال میں داخل ہیں۔ وہ ہر روز بار بار فون کرتی ہیں اور مجھ سے یہ پوچھتی ہیں کہ ان کا بیٹا کہاں ہے، کس حالت میں ہے۔ وہ اتنا معصوم تھا کہ کسی سے آنکھ ملا کر یا اونچی آواز میں بات تک نہیں کرتا تھا۔ اسے نجانے کس حال میں رکھا گیا ہے؟'
'ہمیں احساس دلایا جاتا ہے کہ ہم کمتر لوگ ہیں'
احتجاجی کیمپ میں شریک بلوچ طلبا کا ایک بڑا شکوہ یہ بھی ہے کہ ان کے لباس کی بنیاد پر انھیں نشانہ بنایا جاتا ہے اور تضحیک آمیز جملے کسے جاتے ہیں۔
ایرڈ ایگریکلچر یونیورسٹی کے باہر احتجاج میں شریک بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ایک پختون طالب علم سردارزادہ اشرف نے بی بی سی سے بات کی۔
انھوں نے بتایا کہ وہ پی ایچ ڈی کے طالب علم ہیں اور احتجاج میں بلوچ طلبا سے اظہار یکجہتی کے لیے آئے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ انھیں اکثر اس لیے جملہ بازی کا سامنا کرنا پڑا کہ وہ بلوچستان کا ثقافتی لباس پہن کر آئے تھے: 'جب میرا پہلا دن تھا کلاس میں تو ایک پروفیسر نے مجھے کہا، 'آپ بلوچستان سے آئے ہو' میں نے ہاں میں جواب دیا۔ پھر وہ کہنے لگے کہ یار یہ تم نے کیا جنگلیوں والی شلوار پہنی ہوئی ہے۔ اب تم یہاں شہر میں ہو، کچھ تہذیب سیکھو۔'
یہیں موجود ایک اور طالب علم نے کہا کہ یونیورسٹی کے سامنے آئی ٹی کی عمارت میں ہمیں جانے کی اجازت صرف اسی صورت میں ہے جب ہم نے پینٹ شرٹ پہنی ہو یا سادہ شلوار قمیض۔ جبکہ سردارزادہ اشرف نے یہ الزام لگایا کہ گیٹ پر موجود چوکیدار تک انھیں اور ان جیسے دیگر طالب علموں کو یہ کہتے ہیں کہ 'ہم بلوچستان والے بہت سرپھرے ہو، ہم یہ سب نکال دیں گے۔'
یہیں موجود ایک اور طالب علم سے جب پوچھا کہ اس قسم کے رویوں پر ان کے دیگر ساتھیوں کا ردعمل کیا ہوتا ہے تو انھوں نے کہا کہ اکثر طلبا ہم سے کتراتے ہیں، جس کی وجہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا ساتھ دینے کی بنیاد پر انھیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ان کے مطابق 'ہمیں ٹی وی ڈراموں اور خبروں میں ایسا دکھایا گیا ہے کہ ایک بار ایک کلاس فیلو نے مجھے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ بلوچستان جائیں تو وہاں سے زندہ واپس نہیں آ سکیں گے'۔
خیال رہے کہ صوبائیت اور لسانی بنیادوں پر تفریق کے واقعات وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہتے ہیں۔ جیسا کہ خود بلوچستان میں ایسے متعدد واقعات ہوئے جب دیگر صوبوں سے تعلق رکھنے والے مزدوروں کو نشانہ بنایا گیا۔
'ہم سے بلاوجہ پوچھ گچھ کی جاتی ہے'

اس مظاہرے میں موجود کم از کم چھ طلبا سے ہم نے پوچھا کہ کیا حالیہ کچھ مہینوں میں ان سے پوچھ گچھ ہوئی ہے یا ان کی کسی بھی ایجنسی کی جانب سے پروفائلنگ کی گئی تو ان سبھی کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھ ذاتی طور پر ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا، لیکن انھوں نے یہ تصدیق کی کہ ان کے کئی ساتھی طالب علموں سے پوچھ گچھ کی گئی ہے۔
احتجاج کرتی بلوچ طالبہ حفصہ نے کہا کہ وہ اسلام آباد کی ایک نجی یونیورسٹی میں زیرتعلیم ہیں اور پنجاب کی مختلف یونیورسٹیز میں موجود ایسے طالب علموں کو جانتی ہیں جنھیں غیرضروری سوال جواب اور ہراسگی کا سامنا کرنا پڑا۔ 'اگر میں اپنی بات کروں تو میرے ساتھ ایسا (پروفائلنگ) نہیں ہوا ہے۔ لیکن دوسرے کئی طلبا کے ساتھ ہوا۔
خاص طور پر مرد طالب علموں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
ان کے فون لے لیے جاتے ہیں، چیک کیے جاتے ہیں، سوشل میڈیا دیکھا جاتا ہے۔ جبری طور پر لاپتہ کر دیا جاتا ہے، ایسے واقعات سے ہم سب میں خوف و ہراس پھیلتا ہے اور ہم جو تعلیم کی غرض سے یہاں آئے ہیں، تعلیم سے ہی دور ہوتے جا رہے ہیں۔'
احتجاجی کیمپ میں شریک وکیل اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکن بھی شریک تھے۔ انہی میں ایک ایمان زینب مزاری ہیں جو مبینہ جبری گمشدگی کا شکار افراد کی بازیابی کے لیے سرگرم رہتی ہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایمان مزاری نے کہا کہ اب تک وہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے '31 طلبا کے نام سامنے لا چکے ہیں جو جبری طور پر لاپتہ کیے گئے ہیں۔'

وہ کہتی ہیں کہ فیروز بلوچ کے کیس میں ان کے ساتھ تعاون نہیں کیا جا رہا۔ ان کے مطابق 'ہم نے پولیس کو کہا ہے کہ کم از کم لیگل ٹیم کو تو آپ سی سی ٹی وی فوٹیج دکھائیں تاکہ ہم شناخت کر سکیں، مگر ہمیں نہیں دکھائی جا رہی اور کہتے ہیں کہ وہ فوٹیج میں موجود ہی نہیں ہیں۔ یعنی ریاست چاہتی ہے کہ ہم یہ مان لیں کہ یہاں لوگ ہوا میں ہی غائب ہو جاتے ہیں۔'
ادھر بلوچ طلبا کہتے ہیں کہ وہ احتجاجی کیمپ جاری رکھیں گے اور اس معاملے پر ہراسگی کی پرواہ نہیں کریں گے، جب تک کہ ان کے ساتھی طلبا کی بازیابی کے لیے ٹھوس اقدامات نہیں کر لیے جاتے۔ ان طلبا نے اپنے پوسٹرز پر یہ تحریر بھی لکھ رکھی ہے کہ 'پنجاب آپ کی مہمان نوازی کا شکریہ'۔
دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران جسٹس اطہر من اللہ نے وزارت داخلہ کو اگلی سماعت پر کیس کی تفصیل فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔
اس کے ساتھ یہ ہدایت بھی کی ہے کہ بلوچ طلبا کی جانب سے پروفائلنگ کی شکایات کا ازالہ کرنے کے لیے ایک کمپلین سینٹر قائم کیا جائے۔







