پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں برقرار مگر قبل از وقت مبارکباد اور کریڈٹ لینے پر بحث

،تصویر کا ذریعہFATF/TWITTER
منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کی مالی معاونت کے نگراں عالمی ادارے ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھتے ہوئے رواں سال اکتوبر کے دوران ’آن سائٹ وزٹ‘ کے بعد حتمی فیصلے کا عندیہ دیا ہے۔
پاکستان نے اس خبر کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ’خوش آئند پیش رفت‘ قرار دیا ہے۔
تاہم اگر پاکستانی سوشل میڈیا اور مقامی ذرائع ابلاغ کی بات کی جائے تو ’باوثوق ذرائع‘ سے چلنے والی اُن خبروں اور واٹس ایپ میسجز کی بنیاد پر قبل از وقت جشن منانا شروع کر دیا گیا تھا کہ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال دیا ہے جس کا باقاعدہ اعلان جمعہ کی شام کر دیا جائے گا۔
اور اس دوران یہ بحث بھی شروع ہو گئی تھی کہ اس اہم کامیابی کا سہرا کس کے سر بندھنا چاہیے۔
اگرچہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے پلینری اجلاس میں پاکستان کی کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے گرے لسٹ سے نکالنے یا مزید رکھنے کا فیصلہ پاکستان کے مقامی وقت کے مطابق جمعہ کی شام ساڑھے سات بجے سنایا جانا تھا مگر گذشتہ روز سے ہی پیشگوئیوں، افواہوں اور مبارکبادوں کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا۔
حتیٰ کہ وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر کو جمعہ کی صبح یہ وضاحت پیش کرنا پڑی کہ ایف اے ٹی ایف کی جانب سے اجلاس کے بعد بیان جاری کیا جائے گا اور ’نتائج کی پیشگوئی اور قیاس آرائیوں پر مبنی اطلاعات سے گریز کیا جائے۔‘
ایف اے ٹی ایف کے صدر نے پاکستان کے حوالے سے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اہداف حاصل کر لیے ہیں مگر اسے گرے لسٹ میں برقرار رکھا گیا ہے۔ منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کی مالی مدد پر نظر رکھنے والے ادارے کا کہنا تھا کہ ان کی ٹیم رواں سال اکتوبر میں ملک کا دورۂ کرے گی جس کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
جمعرات کی شام سے ہی ٹوئٹر پر ’تھینک یو عمران خان‘ ٹرینڈ کر رہا تھا جس کے تحت صارفین اور پی ٹی آئی رہنما گرے لسٹ سے نکلنے کا سہرا عمران خان کے سر باندھتے نظر آئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سابق وزیر اعظم عمران خان نے جمعہ کی شام فیصلہ سامنے آنے کے بعد ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’میری حکومت آئی تو بلیک لسٹ میں شمولیت کے سنگین خطرات منڈلا رہے تھے۔۔۔ اپریل میں عملدرآمد رپورٹ جمع کروائی جس کی بنیاد پر اب فیٹف نے پاکستان کا ایکشن پلان مکمل قرار دیا ہے۔‘
سابق وزیر داخلہ شیخ رشید نے ایف اے ٹی ایف کے کسی اعلان کا انتظار کیے بغیر ہی ’ساری قوم کو مبارک‘ دی اور کہا کہ ’سارا سہرا عمران خان، پاک فوج، وزارت داخلہ اور ذیلی اداروں کو جاتا ہے۔‘
اور نامعلوم ذرائع کے ایسے پیغامات بھی واٹس ایپ پر دھڑا دھڑ فارورڈ کیے جاتے رہے جن میں لکھا گیا تھا کہ ’پاکستان کی کوششیں رنگ لے آئیں‘۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
کریڈٹ لینے کی بحث جو ایف اے ٹی ایف کے اعلان سے پہلے ہی شروع ہوگئی تھی
حنا ربانی کھر نے جمعہ کو ایک انٹرویو میں کہا کہ ’ہمارا کام اپنا کیس پیش کرنا، تکنیکی جائزے لینا اور سفارتی سطح پر روابط قائم کرنا تھا۔۔۔ جو ہم نے کیا۔‘ اُن کا کہنا تھا کہ ’پاکستان نے ایک طویل سفر طے کیا ہے اور اس کے مقاصد کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ پاکستان کی ریاست مشکل میں آتی ہے اور اسے مشکل سے نکالا جاتا ہے۔ ’جس نے جتنا کریڈٹ لینا ہے وہ لے لے، ہمارا کام ہے پاکستان کے لیے کام کرنا۔ ہم کام جاری رکھیں گے اور ہمیں اس بات کی فکر نہیں ہے کہ کون کریڈٹ لیتا ہے۔‘
ادھر مسلم لیگ ن کی اتحادی حکومت کے متعدد رہنماؤں نے بھی اس معاملے پر تبصرے جاری رکھے۔ حنا پرویز بٹ نے ٹوئٹر پر کہا کہ ’آج گرے لسٹ سے نکلنے کا کریڈٹ لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔۔۔ ان کی عقل پر صرف ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔‘
وہ مزید کہتی ہیں کہ ’اسامہ بن لادن کو شہید کہنے والا آج کہتا ہے پاکستان گرے لسٹ سے میری وجہ سے نکل رہا ہے۔‘
جبکہ سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ ’پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے خارج کرنے کے فیصلے پر پی ڈی ایم والے کس منھ سے خوشی منا رہے ہیں جنھوں نے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں ایف اے ٹی ایف کے مطالبے پر کی جانے والی اہم قانون سازیوں کی مخالفت میں ووٹ دیا تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter
’وہ افسران حقیقی ہیرو ہیں جنھوں نے مختلف سرکاری محکموں میں دن رات کام کیا‘
کریڈٹ کس کو دیا جائے، اس بحث پر امور خارجہ کے تجزیہ کار مائیکل کوگلمین نے تبصرہ کیا کہ ’پاکستان کو 2018 کے اوائل میں ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ڈال دیا گیا تھا جب مسلم لیگ ن کی حکومت تھی۔ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کی کوششوں کا جائزہ اس وقت لیا جب پی ٹی آئی کی حکومت تھی۔ تو اس کا مطلب یہ فیصلہ پی ٹی آئی کے دور پر مبنی ہو گا۔‘
تاہم وہ کہتے ہیں کہ ’فوج بھی اس کا کریڈٹ لے سکتی ہے کیونکہ انھوں نے کئی اقدامات کیے تاکہ پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالا جا سکے۔ مگر پی ڈی ایم نے ایسے کوئی اقدام نہیں کیے۔‘
سابق وزیر خارجہ شوکت ترین بھی ان افراد میں شامل تھے جنھوں نے قبل از وقت مبارکباد کا اعلان کیا اور اس کا کریڈٹ سابق وزیر حماد اظہر کو دیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’گذشتہ دو برسوں میں مضبوط معاشی نتائج دینے اور کامیابی سے کووِڈ وبا اور ایف اے ٹی ایف کو سنبھالنے کے بعد سوال یہ ہے کہ عمران خان کی حکومت کیوں تبدیل کی گئی؟‘
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہTwitter
پی ٹی آئی رہنما حماد اظہر کہتے ہیں ’گذشتہ تین سالوں کے دوران 34 ایکشن آئٹمز کی تکمیل اُن افسران کی ٹیم ورک اور محنت کا نتیجہ ہے جنھوں نے مختلف سرکاری محکموں میں دن رات کام کیا۔ وہی حقیقی ہیرو ہیں۔‘
صحافی حامد میر کا خیال ہے کہ اس کا کریڈٹ فوج کو جاتا ہے۔ انھوں نے اپنی ایک ٹویٹ میں دعویٰ کیا کہ ’پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکالنے کے لیے جی ایچ کیو میں 2019 میں سپیشل سیل قائم کیا گیا، اس وقت صرف پانچ نکات پر پیشرفت تھی۔‘
’اس سیل نے 30 سے زائد وزارتوں اور ایجنسیز کے درمیان کوآرڈینیشن کی اور تمام 34 نکات پر عمل درآمد کروا کر پاکستان کو گرے لسٹ سے نکلوایا۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter
’اب گرے لسٹ میں برقرار رہنے کا کریڈٹ کون لے گا؟‘
سوشل میڈیا صارفین کی رائے بھی اس حوالے سے بٹی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ صارفین کی ایک بڑی تعداد جہاں تحریک انصاف اور فوج کو اس پیشرفت کا کریڈٹ دے رہے ہیں وہیں بعض کا خیال ہے کہ اتحادی حکومت کے وزرا نے اس حوالے سے اقدامات کیے۔
جیسے طیبہ نامی صارف کا کہنا تھا کہ ’ایک بات پھر مسلم لیگ ن کے دور میں پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکال دیا گیا۔ مشکل فیصلوں کے بہترین نتائج آنا شروع ہو گئے ہیں۔‘
تاہم اس تمام بحث پر صحافی اقرار الحسن نے تبصرہ کیا کہ ’اب جب کہ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے اکتوبر تک انتظار کرنا ہے تو ن لیگ اور تحریکِ انصاف میں سے اس کا کریڈٹ کون لے گا؟‘

،تصویر کا ذریعہTwitter
ساجدہ احمد نامی صارف نے اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان کے ایف اے ٹی ایف سے نکلنے والی خبر غلط ثابت ہوئی. پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں برقرار ہے. کریڈٹ لینے کے چکر میں موجودہ حکومت نے قبل از وقت خبریں چلا دی۔‘
عدنان شفیق کہتے ہیں کہ ’پاکستان گرے لسٹ میں برقرار، کریڈٹ کس کو دینا ہے؟‘
علی معین نوازش کی رائے ہے کہ جب بات ’آئی ایم ایف سے خراب معاہدوں‘ کی ہو تو کوئی اس کا کریڈٹ نہیں لینا چاہتا۔










