آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
میکڈونلڈز کے فرائز اب صرف ریگلولر سائز میں دستیاب: ’ہم تو مارے گئے، مفتاح اسماعیل خدارا اس معاملے کو دیکھیں‘
کھانے پینے میں ہمیشہ سے کوئی نہ کوئی ایسی من پسند چیز ہوتی ہے جو آپ کو ایک ہی مقدار، ایک ہی ذائقے، ایک ہی جگہ کی پسند ہوتی ہے۔
یہ آپ کے محلے میں پچپن میں آنے والی آئس کریم کی گاڑی ہو، سڑک کنارے ریڑھی پر لگا شربت یا آپ کی والدہ کے ہاتھ کا بنا ہوا حلوہ۔
کسی دن اچانک وہ ریڑھی، وہ ذائقہ، وہ مقدار یا بنانے والا ہی غائب ہو جائے تو دل ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے گا اور عمر بھر اپنے بچوں کو بھی اس انجانے ذائقے کی کہانیاں سنائیں گے۔
ایسا ہی کچھ گذشتہ روز پاکستان میں میکڈونلڈز کے چاہنے والوں کے ساتھ ہوا جس کے بعد ان میں سے اکثر افراد خاصے افسردہ دکھائی دے رہے ہیں اور یہاں تک کہ کچھ تو اسے ’قیامت قریب آنے کی نشانی‘ قرار دے رہے ہیں۔
میکڈونلڈز نے اعلان کیا ہے کہ لارج فرائز (یعنی عام فہم زبان میں آلو کے فنگر چپس) اب سے ’سپلائی چین کے مسائل‘ کے باعث میسر نہیں ہوں گے اور صرف ریگولر فرائز ہی خریدے جا سکیں گے۔
ان کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’سپلائی چین کے مسائل کے باعث ہمیں مشکل فیصلے لینے ہوں گے۔ ہر دل پسند اور دنیا بھر میں مقبول میک فرائز میں اب ہم صرف ریگولر فرائز ہی پیش کر سکیں گے۔‘
’آپ اب بھی میڈیم اور لارج میلز ریگولر فرائز کے ساتھ آرڈر کر سکیں گے جن کی قیمت تبدیل کی جائے گی۔ ہم اس صورتحال پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
اس اعلان کے ساتھ ہی جیسے پاکستان میں میکڈونلڈز کے مداحوں کو شدید صدمہ پہنچا ہو، کوئی ایک سے زیادہ فرائز آرڈر کرنے کی بات کرنے لگا، کچھ لوگ شہباز شریف حکومت پر تنقید اور کچھ مفتاح اسماعیل کی توجہ اس جانب دلوانے لگے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایسے میں یہ بتانا مشکل ہے کہ پاکستان میں میکڈونلڈز کی جانب سے لارج اور میڈیم سائز فرائز کی فراہمی منقطع کرنے کے پیچھے پاکستانی حکومت کی امپورٹ پالیسی کا کوئی عمل دخل ہے یا نہیں لیکن یہاں یہ بات ضرور اہم ہے کہ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔
اس سے قبل گذشتہ سال کے آخر میں میکڈونلڈز کو جاپان میں ایسے ہی بحران کا سامنا کرنا پڑا تھا جس کے بعد فرائز کے سائز صرف ریگولر میں ہی دستیاب تھے۔
میکڈونلڈز کی جانب سے تب بھی اس کی وجہ آلوؤں کی عدم دستیابی اور شپمینٹ میں تاخیر قرار دیا گیا تھا۔ میکڈونلڈز کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا تھا کہ وہ عام طور پر آلو کینیڈا میں وینکوور کی بندرگاہ کے قریب سے درآمد کرتا ہے۔ ان کی جانب سے اس تاخیر کی وجہ کینیڈا میں گذشتہ سال کے سیلاب اور عالمی وبا بتائی گئی تھی۔
’میکڈونلڈز کی اپنے فرائز سرانجام دینے میں کوتاہی‘
سوشل میڈیا پر جہاں لوگوں کو صدمہ پہنچا اور انھوں نے شکایت کی وہاں کچھ لوگ یہ بھی پوچھتے رہے کہ میکڈونلڈز کو ہر چیز درآمد کیوں کرنی پڑتی ہے، وہ اسے پاکستان میں کیوں پیدا نہیں کرتا۔
جواد خان نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’میں سوچتا ہوں کہ ایسا کیوں ہے کہ حکومت یا عوامی سطح پر یہ مطالبہ کیوں نہیں کیا جاتا کہ میکڈونلڈز مکمل طور پر اپنی ہر چیز مقامی سطح پر ہی پیدا کرے۔‘
فیضان صدیقی نامی صارف نے لکھا کہ ’گولڈن آرچز (میکڈونلڈز کا لوگو) یہاں 1998 سے ہے اور تقریباً 24 برسوں میں وہ آلوؤں یا کسی اور شہ کا ایک بھی مقامی ذریعہ نہیں بنا سکے۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ ہم کھپت کے اعتبار سے تو بہترین ہیں لیکن ہم پیداوار کے حساب سے کبھی بھی اچھا ذریعہ نہیں رہے۔‘
تاہم ان کو جواب دیتے ہوئے کچھ صارفین نے اس کی وجوہات بتائیں۔ صارف بلال خان نے لکھا کہ ’نہ میکڈونلڈز بلکہ تمام ملٹی نیشنل فوڈ چینز ہی فرائز امریکہ، یورپ، مشرقِ وسطیٰ سے درآمد کرتے ہیں اور پیپسی کو چپس لیز کے لیے سب زیادہ آلو درآمد کرتا ہے۔
’آلو اور فرائز درآمد کرنے کی وجہ مخصوص اقسام کی عدم دستیابی ہے جو صرف مخصوص موسم میں اگائے جا سکتے ہیں اس لیے امریکہ، کینیڈا اور یورپ ان کی پیداوار کے لیے موزوں ہوتا ہے اور یہاں سے عالمی مارکیٹ کی 75 فیصد ضرورت پوری کی جاتی ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے
صارف وقار نے لکھا کہ وہ لوگ جو یہ پوچھ رہے ہیں کہ میکڈونلڈز مقامی پاکستانی اشیا کیوں استعمال نہیں کرتا، ان کے لیے عرض ہے پاکستان کوئی بھی ایسی چیز نہیں پیدا کرتا جو بین الاقوامی فوڈ سیفٹی اور سکیورٹی کے معیار پر پورا اترے۔‘
حنان الرحمان نامی ایک صارف نے لفظوں کے ساتھ خوب کھیلا، انھوں نے لکھا کہ ’میکڈونلڈز کی اپنے فرائز سرانجام دینے میں کوتاہی۔‘
ایک صارف نے گھبرائے ہوئے انداز میں لکھا ’ہم تو مارے گئے، مفتاح اسماعیل خدارا اس معاملے کو دیکھیں۔‘
رامین نے لکھا کہ ’کل سے سوچ رہی ہوں کہ اب مجھے دو ریگولر فرائز لینے پڑیں گے یا تین تاکہ لارج فرائز کی کمی پوری کی جا سکے۔‘
ایک صارف نے لکھا کہ ’لوگ اس بارے میں ایسے ردِ عمل دے رہے ہیں جیسے گھربار لٹ گیا ہو۔ دیگر پاکستانیوں کے لیے خرچہ پورا کرنا مشکل ہو رہا ہے اور آپ میکفرائز پر غصہ کر رہے ہیں۔ بازار سے آلو لاؤ اور گھر میں بناؤ۔‘
فہد نامی صارف نے لکھا کہ ’معیشت کساد بازاری کی جانب بڑھ رہی ہے، آمدن مہنگائی کے حساب سے پوری نہیں ہوتی۔ میکڈونلڈز ہر کسی کو میکفرائز بھی نہیں دے پا رہا، ہمیں پاکستان میں استحکام چاہیے۔
ایک صارف نے لکھا کہ ’حکومت تو امپورٹڈ ہے لیکن فرائز نہیں۔‘ حفیظ نے لکھا کہ ’مجھے کیا میں تو غریب ہوں۔‘