آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
دعا زہرہ: یوٹیوب انٹرویو میں جام شیریں کی ’تشہیر‘، قرشی کا لاتعلقی کا اظہار اور سوشل میڈیا پر ردعمل
پاکستان میں دعا زہرہ کیس میں سندھ ہائیکورٹ کے حکم کے بعد ابھی اس معاملے سے توجہ ہٹنا شروع ہی ہوئی تھی کہ عدالتی فیصلے کے چند روز گزرنے پر ’پسند کی شادی کرنے والی‘ دعا نے اپنے شوہر ظہیر احمد کے ساتھ ایک انٹرویو دیا جس میں کہا گیا کہ دونوں چند برس قبل معروف موبائل گیم ’پب جی‘ کے پلیٹ فارم پر ملے تھے۔
لیکن زنیرہ ماہم کے یوٹیوب چینل پر یہ انٹرویو نشر ہونے کے بعد ایک طرف اس میں کی گئیں حیران کر دینے والی باتیں زیر بحث ہیں تو دوسری طرف سوشل میڈیا صارفین اس میں ایک میٹھے مشروب ’جام شیریں‘ کی تشہیر پر اس کے بائیکاٹ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ بعض سوشل میڈیا صارفین یہ پوچھتے دکھائی دیے کہ ’کیا یہ انٹرویو اور شادی جام شیریں نے سپانسر کی تھی؟‘
اس پر جامِ شیریں بنانے والی کمپنی قرشی پاکستان نے وضاحتی پیغام میں تسلیم کیا کہ انٹرویو کے دوران اپنے برانڈ کو نمایاں کر کے دکھائے جانے پر انھیں حیرانی ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ ’(ویڈیو میں مشروب رکھنے کے حوالے سے) ہم سے اجازت نہیں لی گئی اور اس پر کارروائی کی جائے گی۔‘
خیال رہے کہ صوبہ پنجاب سے بازیاب کروائی جانے والی لڑکی دعا زہرہ کے والدین نے اپنی بیٹی کی کم عمری میں زبردستی شادی اور اغوا کا الزام ظہیر اور ان کے خاندان پر لگایا تھا تاہم گذشتہ ہفتے کے دوران سندھ ہائیکورٹ نے دعا زہرہ کا معاملہ نمٹاتے ہوئے حکم دیا تھا کہ وہ اپنی مرضی سے جس کے ساتھ جانا چاہے یا رہنا چاہے رہ سکتی ہیں، جس پر دعا نے ظہیر کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا۔
’کیا یہ انٹرویو جام شیریں نے سپانسر کیا؟‘
اینکر زنیرہ ماہم کی جانب سے لیے گئے انٹرویو میں دعا زہرہ نے اپنے والدین سے مطالبہ کیا کہ وہ انھیں اور ظہیر کو قبول کر لیں۔ تاہم انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اُن کے والدین ان کی شادی کسی اور سے کرنا چاہتے تھے اور خاندان میں کسی زمین کا تنازع چل رہا تھا۔ دعا نے یہ بھی کہا کہ کراچی سے ان کی روانگی کے بارے میں ظہیر کو معلوم نہیں تھا مگر اس کے باوجود انھوں نے انھیں قبول کیا۔
مگر ان ’انکشافات‘ کے بیچ و بیچ ایک موقع پر اینکر زنیرہ کہتی ہیں کہ ’گرمی بہت زیادہ ہے۔۔۔ دعا نے ہمارے لیے جام شیریں بنایا ہے۔ اپنے لیے ایک گلاس اور میرے لیے ایک گلاس۔ ظہیر کے لیے کوئی گلاس نہیں بنایا۔‘
ان کے پوچھنے پر کہ ظہیر کے لیے جام شیریں کیوں نہیں بنایا، دعا کہتی ہیں کہ ’میں ظہیر کو بنا کر پہلے ہی پلا چکی ہوں۔‘
پھر کچھ وقفے بعد اینکر کہتی ہیں کہ ’دعا، آپ نے پہلے مجھے کولڈ ڈرنک پلائی تھی اب جام شیریں۔ آپ بتائیں آپ کا پسندیدہ ڈرنک کون سا ہے؟‘ اس پر دعا نے ہنستے ہوئے جواب دیا ’جامِ شیریں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تو اس طرح انٹرویو کے دوران بظاہر جان بوجھ کر جام شیریں کا بار بار حوالہ بھی تنازع کے باعث بنا اور بہت سے صارفین نے یہ رائے دی کہ ایسا لگتا ہے جیسے اس انٹرویو ہی کا نہیں بلکہ شادی کا سپانسر بھی جام شیریں ہے۔
اویس قادری نے اعتراض اٹھایا کہ ’سمجھ نہیں آ رہا مہمانوں کے سامنے جام شیریں کی بوتل کون رکھتا ہے بھائی؟ پانی ڈالے بغیر پیتے ہو کیا۔‘ آفریدی نامی صارف نے الزام لگایا کہ ’دعا زہرہ کیس میں جام شیریں جیسے برانڈ کو پروموٹ کیا جا رہا ہے اور صاف دیکھا جا سکتا کہ دعا کو جام شیریں بولنے کے لیے اشارہ‘ کیا گیا۔
صحافی اقرار الحسن نے اس پر تبصرہ کیا کہ ’ویسے جامِ شیریں والوں یعنی قرشی کو اپنی مارکیٹنگ ٹیم کو نوکری سے فارغ کر دینا چاہیے۔‘ سارہ بتول نے رائے دی کہ ’تو ثابت ہوا کہ جہاں پولیس کی رسائی نہیں وہاں جامِ شیریں کی رسائی ممکن ہے۔‘ اس تبصرے سے سارہ نے بظاہر اس بات پر طنز کیا کہ دعا کی پنجاب میں بازیابی کے لیے پولیس کو کئی دن لگے تھے۔
ماہ رخ قریشی کا بھی یہی کہنا تھا کہ ’کاش کہ اس اینکر سے پہلے دعا کے والدین ’جام شیریں‘ والوں کے پاس پہنچ جاتے تو آج اینکر کے بجائے دعا کے ساتھ وہ بیٹھے ہوتے۔‘
وسیم عباسی نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ ’روح افزا پئیں اور والدین کی عزت سیکھیں۔‘ خیال رہے کہ اس شعبے میں روح افزا اور جامِ شریں دونوں میٹھے مشروب کی صنعت میں ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں۔
’ہمارا اس انٹرویو سے کوئی لینا دینا نہیں‘: قرشی جام شیریں کا موقف
دعا زہرہ اور ظہیر کے انٹرویو پر تنقید اور بائیکاٹ مہم کے دوران قرشی نے اس ویڈیو سے مکمل لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ ایک بیان میں ان کا کہنا ہے کہ ’جام شیریں ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ، بہت پسند کیا جانے والا پاکستانی برانڈ ہے جو 40 برسوں سے دستیاب ہے۔ کمپنی نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں 100 میں سے تقریباً 60 لوگ اسے باقاعدگی سے استعمال کر رہے ہیں۔
کمپنی کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم نے اپنی میڈیا کمیونیکیشن ہمیشہ اعلیٰ اخلاقی معیارات کو برقرار رکھتے ہوئے اور وقار کے ساتھ کی ہے۔ ہم سوشل میڈیا پر ایک انٹرویو کے دوران اپنے برانڈ کی نمایاں نمائش پر حیران ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیے
’ہم اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور اپنے چاہنے والے صارفین کو یقین دلاتے ہیں کہ ہمارا اس انٹرویو سے کوئی لینا دینا نہیں ہے کیونکہ اس کے پروڈیوسرز نے ہمارے پروڈکٹ کی نمائش اور تشہیر کی اجازت نہیں لی تھی۔‘
قرشی جام شیریں نے اعلان کیا ہے کہ ’اس سلسلے میں مناسب کارروائی کی جائے گی۔‘
ادھر دعا کے والد مہدی علی کاظمی کا کہنا ہے کہ وہ اپنی بیٹی کی بازیابی کے لیے قانونی جنگ جاری رکھیں گے اور ’کورٹ کے آپشن بند نہیں ہوئے۔‘ انھوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ٹرائل کورٹ میں ان کا ٹرائل ہونا ہے۔ ہائی کورٹ میں نظرثانی کی اپیل دائر کی جاسکتی ہے۔ ہم نے سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔‘
انھوں نے اس میڈیکل ریڈیولوجی رپورٹ کو مسترد کیا ہے جس میں دعا کی عمر 17 سال بتائی گئی ہے۔
ادھر ایک یوٹیوبر کو دیے انٹرویو میں دعا زہرہ کے والد نے مسکراتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’ہم بالکل بھی گھر میں جام شیریں استعمال نہیں کرتے۔ مجھے اُس ویڈیو کا نہیں پتا لیکن یہ ویڈیو پیسے لے کر نہیں بنائی جا رہی۔ ہم سافٹ ڈرنکس ہی استعمال کرتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’بچی واقعی پیزا اور نوڈلز کھاتی ہے۔ دن میں دو، دو بار نوڈلز بناتی تھی۔ جب دل کرتا تھا تو پیزا منگواتی تھی۔‘
مہدی علی کاظمی کا کہنا تھا کہ ’اس سے آپ اندازہ لگائیں یہ بالکل بچگانہ ذہن ہے اور کم عمری کی علامت ہے۔‘