سوات کے دلکش جنگلات جہاں رات کی خاموشی میں آگ لگائی جاتی ہے لیکن مورد الزام موسم کو ٹھہرایا جاتا ہے

    • مصنف, شبینہ فراز
    • عہدہ, صحافی

سوات کے سب سے بڑے پہاڑ ایلم (بونیر) کے جنگلات بھی آگ کی لپیٹ میں تھے۔ ساتویں دن یہ آگ ٹھنڈی ہو چکی تھی مگر لوگوں کا غصہ نہیں۔

ان کا انتظامیہ سے ایک ہی مطالبہ تھا کہ مجرموں کو پکڑ کر سخت سزا دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ آگ جان بوجھ کر لگائی گئی ہے۔

یہ مقامی لوگ بہت حد تک حق پر تھے کیونکہ اگلے ہی دن ڈپٹی کمشنر سوات جنید خان نے تصدیق کی کہ جنگل میں آگ لگانے کے الزام میں اب تک چھ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

ڈسٹرکٹ فاریسٹ آفیسر سوات وسیم خان سے حالیہ بات چیت کے مطابق محکمہ جنگلات کے اپنے معلوماتی نظام کی بنیاد پر دیگر علاقوں میں بھی ملزمان کی تلاش شد و مد سے جاری رہی اور 11 جون تک 13 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں سے اب تک پانچ افراد کے خلاف باقاعدہ مقدمہ درج ہو چکا ہے۔

تین افراد کے خلاف ڈیمیج رپورٹ تیار کی گئی ہے اور ان کے خلاف فارسٹ ایکٹ کی شق 33 اے کے تحت کارروائی کی جائے گی۔

بلوچستان میں شیرانی کے چلغوزہ جنگل میں لگنے والی آگ بمشکل ٹھنڈی ہوئی تھی کہ خیبر پختونخوا اور خصوصاً سوات کے بہت سے پہاڑی جنگل جل اٹھے اور اب تک ایک خاتون سمیت پانچ افراد جھلس کر ہلاک ہوئے جن میں ریسکیو 1122 کا ایک اہلکار بھی شامل ہے۔

اس آگ نے شانگلہ کے پہاڑوں پر موجود بہت سے گھروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لیا تھا۔

ڈسٹرکٹ فارسٹ آفیسر وسیم خان کے مطابق پچھلے آٹھ دنوں میں صرف سوات کے علاقوں میں جنگل میں آگ لگنے کے 22 واقعات رونما ہوئے ہیں۔ جس میں سے صرف تین واقعات سرکاری جنگلات میں ہوئے باقی تمام شاملات کے جنگل تھے یا لوگوں کے ذاتی ملکیت تھے۔

پے درپے آگ کے ان واقعات نے بہت سے شکوک و شبہات کو بھی جنم دیا۔ سازشی نظریات سامنے آنے لگے، اس حوالے سے بہت سے مقامات پر مقامی لوگوں نے احتجاج بھی کیا اور انتظامیہ سے سخت اقدامات کا مطالبہ کیا۔

جنگلات میں آگ کیوں لگائی جاتی ہے؟

ان ملزمان کی گرفتاری کے بعد تاحال ان سے تفتیش کا سلسلہ جاری ہے مگر مقامی سطح پر تحقیق سے یہ بات واضح ہے کہ یہ کوئی سازشی نظریہ نہیں ہے بلکہ لوگ واقعی جنگلات میں جان بوجھ کر آگ لگاتے ہیں۔

جنگلات صرف درختوں کے ذخیرے کا نام نہیں ہوتا، یہ ایک پورا ماحولیاتی نظام ہوتا جس میں درخت، مختلف گھاس پھونس، چرند پرند، جانور مل کر رہتے ہیں۔ یہ گھریلو اور کاروباری استعمال کے لیے لکڑی کے حصول کا ایک بڑا ذریعہ بھی ہیں۔

اتنے فوائد کے حامل وسائل کو کوئی کیسے اور کیوں آگ لگا سکتا ہے؟ پشاور یونیورسٹی کے شعبہ ماحولیات کے پروفیسر محمد نفیس نے جنگلات کی آگ پر خصوصی تحقیق کی ہے۔ ان کی تحقیق کا موضوع ’وادی سوات میں جنگلات کی آگ کے واقعات‘ ہے۔

ان کے مطابق یہ درست ہے کہ خشک اور گرم موسم میں جنگل میں موسمیاتی تبدیلیوں سے آگ لگنے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔

بلوچستان میں ان دنوں موسم گرم اور خشک ہے لہٰذا چلغوزے کے جنگل میں لگنے والی آگ حادثاتی ہو سکتی ہے لیکن سوات میں ایسا ممکن نہیں ہے کیونکہ وہاں موسم ٹھنڈا اور مرطوب ہے۔

پروفیسر نفیس کا عرصہ تحقیق 1993 سے لے کر 2003 پر مشتمل ہے۔ ان کی ریسرچ کے مطابق ان 10 سالوں میں سوات میں آگ لگنے کے 20 واقعات ہوئے جن میں تین واقعات عالمی سطح کی بڑی آگ کے سمجھے جا سکتے ہیں۔

ان تمام واقعات میں آگ مقامی افراد نے خود لگائی تھی۔ کئی لوگ پکڑے بھی گئے تھے مگر صرف ایک مجرم کو چار ہزار روپے جرمانے کی سزا ہوئی تھی۔

شاملات قانون

پروفیسر نفیس جنگلات میں جان بوجھ کر آگ لگانے کا سبب باہم دشمنی کے علاوہ بہت حد تک شاملات کے قانون کو بھی قرار دیتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ سوات میں ملکیت جنگلات کا قضیہ کئی دہائیوں سے چلا آ رہا ہے کہ یہ جنگلات حکومت کی ملکیت ہیں یا عوام کی ذاتی ملکیت؟

16ویں صدی میں سوات پر یوسفزئی قابض ہوئے تو اُنھوں نے یہاں کی زمین بحیثیت فاتح آپس میں تقسیم کی تھی۔ تاہم پہاڑوں یا خاص جنگلات کو آپس میں تقسیم کرنے کے بجائے متعلقہ گاؤں یا علاقے کے شاملات (مشترکہ ورثہ) کے طور پر مشترک رکھا۔

درختوں کی فروخت کا حق ان کو حاصل تھا جو متعلقہ گاؤں یا علاقے کی زمین کے ملکیتی حقوق رکھتے تھے اور ان جنگلات میں موجود موسمی گھاس پھونس کی فروخت اور اس کی آمدن بھی ان ہی کی تھی۔

ان جنگلات تک گاؤں یا علاقے کے ہر باشندے کو متعلقہ جنگل سے اپنی ضروریات پورا کرنے کے لیے آزادانہ اور مفت رسائی حاصل تھی۔

مثلاً مویشیوں اور بھیڑ بکریوں کو چرانے اور چارا لانے کا حق و سہولت، مختلف النوع گھریلو ضروریات اور زرعی اوزاروں کے لیے لکڑی کی کٹائی و حصول، ادویاتی جڑی بوٹیوں اورکھمبیوں وغیرہ کا حصول وغیرہ۔

سنہ 1969 میں ریاست سوات پاکستان میں ضم کر دی گئی لیکن ریاست کے ضوابط بغیر کسی تبدیلی کے برقرار رکھے گئے اور صوبائی حکومت نے بھی ملکیت جنگلات سے متعلق مذکورہ بالا حیثیت وصورت حال کو جوں کا توں برقرار رکھا۔

پروفیسر نفیس بتاتے ہیں کہ مقامی افراد اس قانون سے خوش نہیں ہیں کیونکہ اس قانون کے مطابق جنگلات سرکار کی ملکیت ٹھہرتے ہیں اور زرعی زمین لوگوں کی۔

لوگ اسے اپنے حق پر ڈاکے کے مترادف سمجھتے ہیں اور جہاں موقع ملتا ہے پہاڑوں کو آگ لگا کر جنگلات کا خاتمہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ جنگلات سے صاف ہونے والی زمین کو زرعی زمین میں تبدیل کر کے وہ اپنا قبضہ برقرار رکھیں۔

اس کے علاوہ ایک قانون جو وہاں رائج ہے اگرچہ وہ کسی کاغذ پر تحریر نہیں ہے مگر سب کا اس پر اتفاق ہے، اس کے مطابق جو شخص بھی پہاڑوں کے دامن میں درخت اور جھاڑیاں صاف کر دے تو اس زمین پر اس کا حق مانا جاتا ہے خاص کر جب زمین پر کوئی درخت نہ ہو تو وہ شخص اسے زراعت کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔

اس طریقہ کار کے تحت زمین حاصل کرنے کا بہترین طریقہ یہی بنتا ہے کہ رات کی خاموشی میں پہاڑوں میں آگ لگا دی جاتی ہے۔

سوات ہی کے ایک مقامی ٹیچر عمران (فرضی نام) کا کہنا ہے کہ ٹمبر مافیا کا بھی یہی طریقہ واردات ہے۔ وہ اسے جنگل نہیں بلکہ پہاڑ جلانا کہتے ہیں، وہ مقامی لوگوں کے ذریعے پہاڑوں کو آگ لگا دیتے ہیں، جھاڑ جھنکاڑ جل جاتے ہیں، درخت عموماً بچا لیے جاتے ہیں لیکن چونکہ دھوئیں سے کالے ہو چکے ہوتے ہیں تو یہ مشہور کر دیا جاتا ہے کہ یہ درخت جل چکا ہے، بوسیدہ ہو رہا ہے لہٰذا اسے کاٹنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

اس طرح لوگوں کی ذہن سازی کر کے مقامی لوگوں سے یہ درخت کٹوا دیے جاتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ قانون موجود ہے جس کے تحت سزا اور جرمانہ دونوں ہو سکتے ہیں مگر قانون نافذ کرنے والے موسم کو الزام دے کر محنت سے بچ جاتے ہیں اور شاذ و نادر ہی کوئی تفتیش ہوتی ہے۔

پروفیسر نفیس نے اتفاق کیا کہ ان کی ریسرچ کے دوران آگ لگنے کے واقعات میں جو مجرم ملوث تھے اُنھیں پکڑا تو گیا مگر سزا صرف ایک شخص کو ہوئی۔ قانون کی یہ کمزوری مجرمان کو شہہ دینے کے مترادف ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اس حوالے سے ڈسٹرکٹ فاریسٹ آفیسر محمد وسیم کا کہنا ہے کہ وہ ہر واقعے کے بعد تفتیش کرتے ہیں اور نہ صرف ملزمان کو گرفتار کرتے ہیں بلکہ ایک مکمل ڈیمیج رپورٹ (نقصان کا جائزہ) بھی تیار کر کے عدالت میں پیش کرتے ہیں اور ماضی میں کئی مجرمان نے سزا اور جرمانے بھگتے ہیں۔البتہ اُنھوں نے اس بات کی تائید کہ کہ ایسی مثالیں کم ہیں۔

وسیم خان کے تجربے کے مطابق اگرچہ پکڑے جانے والے لوگ ابتدا میں اعتراف نہیں کرتے مگر جب اُنھیں اندازہ ہو جاتا ہے کہ اب ان کے گرد گھیرا تنگ ہو چکا ہے تو اعتراف تو کرتے ہیں مگر بہت سے بہانے گھڑ لیتے ہیں کہ ہم گھاس جلانے کے لیے محدود آگ لگا رہے تھے اور غلطی سے آگ بے قابو ہو گئی وغیرہ وغیرہ۔

ان کا کہنا ہے کہ اس بار بھی جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے، پولیس کے ذرائع کے مطابق ان میں سے ایک شخص نے اعتراف کر لیا ہے کہ آگ اسی نے ہی لگائی تھی۔

جن جنگلات میں آگ لگائی جاتی ہے ہم وہیں کے لوگوں سے پوچھ گچھ کرتے ہیں تو لوگ ہمیں معلومات فراہم کر دیتے ہیں، احتیاطاً ہم ان کی شناخت خفیہ رکھتے ہیں۔

گرفتار ملزمان کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 436/427 اور فارسٹ ایکٹ 33 اے کے تحت کارروائی کی جائے گی۔

سسٹین ایبل ٹورازم فاﺅنڈیشن کے صدر آفتاب رانا کا کہنا ہے کہ یوں پورے ملک میں تسلسل سے جنگلات میں آگ لگنے سے یقیناً شکوک و شبہات اور سازشی نظریات جنم لیتے ہیں اور گرفتار افراد کو دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ شبہات کسی حد تک درست بھی تھے۔

ان کا کہنا ہے جنگل کو جلانے کے علاوہ بھی ان علاقوں میں ایک عام سرگرمی جنگل میں گھاس کو آگ لگانا ہے۔ یہاں زیادہ تر وہ درخت ہوتے ہیں جن میں پھل کون کی شکل میں ہوتے ہیں اور ان میں کانٹے ہوتے ہیں۔

یہ کانٹے درختوں سے گر کر ایک تہہ بنا لیتے ہیں۔ مون سون کی بارشوں سے ایک دو ماہ پہلے خشک گھاس کو جلانے اور کانٹوں کی اس تہہ کی صفائی کے لیے اسے آگ لگا دی جاتی ہے تاکہ یہ گھاس اور کانٹے جل کر راکھ ہو جائیں۔

یہ راکھ اس زمین کے لیے بہترین کھاد کا کام کرتی ہے اور پھر جیسے ہی بارشیں ہوتی ہیں یہاں پھر سے بہترین گھاس اگ جاتی ہے جو ان کے مویشیوں کے لیے سال بھر استعمال کی جاتی ہے۔ آگ لگانے کا یہ عمل انتہائی بے احتیاطی سے کیا جاتا ہے اور اکثر اوقات یہ آگ بے قابو ہو جاتی ہے۔

آفتاب نے مزید بتایا کہ جنگلات سے زرعی زمین کا حصول اب ان علاقوں میں عام بات بنتی جا رہی ہے۔ آبادی بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے تو غذائی ضروریات کے لیے لوگ جنگل پر کھیتوں کو ترجیح دیتے ہیں۔

اس لیے ہو سکتا ہے کہ کہیں کہیں کھیتوں کے لیے زمین حاصل کرنے کے لیے یہ طریقہ استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب اکثر اوقات کھیت اس پہاڑی بلندی پر بھی نظر آجاتے ہیں جہاں کچھ سال پہلے گھنے جنگل تھے۔

آفتاب نے مزید بتایا کہ سیاحت کا بڑھنا یا غیر منظم سیاحت بھی ان جنگلات یا درختوں پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔

اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی آمد سے (چھوٹے) ہوٹلوں کو گرم پانی، آتش دان، ریسٹورنٹ میں ایندھن اور بار بی کیو وغیرہ کے لیے بھی درختوں کی کٹائی عام بات ہے، جنگلات کی آگ بھی شاید لکڑی کے حصول کا ایک طریقہ ہو۔

سیاح کیمپنگ کرتے ہیں، کھلے میدانوں میں رات بھر آگ تاپنے، بون فائر وغیرہ کے لیے بھی درخت کاٹ لیے جاتے ہیں جو مقامی لوگ ہی مہیا کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس علاقے کے قیمتی وسائل کے تحفظ اور ماحول دوست سیاحت کے لیے حکومت کو چاہیے کہ ایک ’ڈیسٹینیشن مینیجمنٹ کمیٹی‘ بنائی جائے جس میں تمام محکموں مثلاً جنگلات، جنگلی حیات وغیرہ کے نمائندے اور پرائیویٹ سیکٹر کے نمائندے بھی شامل ہوں اور مل کر ایک سیاحتی گائیڈ لائنز بنائی جائیں کہ سیاح کہاں کہاں جا سکتے ہیں اور کیا کیا کر سکتے ہیں، ان گائیڈ لائنز پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے۔

مقامی لوگ اس بات پر متفق ہیں کہ تسلسل سے آگ کے ان واقعات میں یقیناً جرائم پیشہ افراد ہی ملوث ہیں۔ مینگورہ کے مزمل خان جن کے گھر کے قریبی گونبتھ میرہ جنگل میں آگ لگی تھی، ان کا بھی یہی کہنا ہے کہ جب بھی جنگلات میں آگ لگتی ہے تو اس میں ضرور جرائم پیشہ مقامی لوگ ملوث ہوتے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ حکومت ایسے سخت اقدامات کرے کہ آئندہ ایسی حرکت کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہ سکے۔

جنگلی حیات کے تحفظ کی عالمی تنظیم ورلڈوائڈ فنڈ فار نیچر (ڈبلیو ڈبلیو ایف) کے ریجنل ڈائریکٹر طاہر رشید کا کہنا ہے کہ یقیناً قانون پر سختی سے عمل درآمد ہی اس صورت حال کو بہتر بنا سکتا ہے۔

دنیا بھر میں جنگلات کی آگ کی روک تھام سے متعلق قانون سازی کر کے سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔

قانون پر سختی سے عمل درآمد، جنگل کے سٹاف کی تربیت، جنگل کے سٹاف میں مقامی افراد کی شمولیت اور جنگل کی آگ سے نمٹنے کے لیے مستعد محکمے ہی حالات بدل سکتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ آگ کے بعد سب سے بڑا مسئلہ زمین کے کٹاﺅ کو روکنا بھی ہے، کیونکہ درختوں اور جھاڑ جھنکاڑ سے زمین کی مٹی بندھی رہتی ہے، اب چونکہ یہ زمین خالی ہے لہٰذا اس کا کٹاﺅ بڑھ جائے گا۔ فوری طور پر یہاں باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت درختوں کا لگانا بہت ضروری ہے۔

پروفیسر نفیس کا کہنا ہے کہ ایک طرف تو پاکستان اربوں درخت لگانے کے منصوبوں پر عمل درآمد کر رہا ہے دوسری جانب سیکڑوں سال پرانے درخت یوں جل کر راکھ بنتے جا رہے ہیں، بہتر ہے کہ مقامی افراد کی شمولیت سے قوانین کا از سر نو جائزہ لیا جائے اوران کی مشاورت سے صورت حال کو بہتر کیا جائے۔