بجٹ 23-2022: انکم ٹیکس کے نئے سلیب، اب آپ کی تنخواہ میں سے کتنا ٹیکس کٹے گا؟

    • مصنف, تنویر ملک، محمد صہیب
    • عہدہ, بی بی سی اردو

وفاقی حکومت کی جانب سے مالی سال 2022-23 کا بجٹ پیش کر دیا گیا ہے اور اس حوالے سے جس خبر پر سب سے زیادہ بحث کی جا رہی ہے وہ تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس میں کمی ہے۔

بجٹ تقریر میں وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل نے بتایا کہ اب ماہانہ ایک لاکھ روپے یعنی 12 لاکھ سالانہ آمدن والے افراد کو انکم ٹیکس کی ادائیگی سے استثنیٰ دے دیا گیا ہے۔

تاہم فنانس بل کے مطابق اب بھی چھ لاکھ سالانہ آمدن والے افراد کو مکمل استثنیٰ حاصل ہے، جبکہ 12 لاکھ تک کی آمدن کو 100 روپے سالانہ کا معمولی ٹیکس ادا کرنا ہو گا۔

تقریر میں وزیرِ خزانہ نے ٹیکس سلیبز کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کیں، تاہم کابینہ کی جانب سے منظور ہونے والے فنانس بل کے مطابق انکم ٹیکس کے سلیبز کی تعداد 12 سے کم کر کے سات کر دی گئی ہے۔

  • پہلے سلیب میں ایسے افراد شامل ہیں جن کی تنخواہ چھ لاکھ روپے سالانہ تک ہے، ان پر کوئی انکم ٹیکس لاگو نہیں ہوتا۔
  • دوسرا سلیب ایسے افراد کے بارے میں ہے جن کی سالانہ آمدن چھ لاکھ سے زیادہ مگر 12 لاکھ تک ہے۔ ایسے افراد کو صرف 100 روپے سالانہ ٹیکس ادا کرنا ہو گا، اور یہ بظاہر انھیں ٹیکس نیٹ میں لانے کی کوشش ہے۔
  • تیسرا سلیب ایسے افراد کے لیے ہے جن کی سالانہ آمدن 12 لاکھ سے 24 لاکھ تک ہے، ان افراد کے لیے 12 لاکھ سے زیادہ آمدن پر سات فیصد کی فکسڈ شرح سے ٹیکس لاگو ہو گا۔
  • چوتھا سلیب ان افراد کے لیے ہے جن کی سالانہ تنخواہ 24 لاکھ سے زیادہ اور 36 لاکھ تک ہے، انھیں سالانہ 84 ہزار فکسڈ اور 24 لاکھ سے زیادہ آمدن پر 12.5 فیصد کے حساب سے ٹیکس ادا کرنا پڑے گا۔
  • پانچواں سلیب 36 لاکھ سے 60 لاکھ کی سالانہ آمدن والے افراد کے لیے ہے، جنھیں اب دو لاکھ 34 ہزار فکسڈ ٹیکس اور 36 لاکھ سے زیادہ آمدن پر ساڑھے 17 فیصد ٹیکس دینا ہو گا۔

گذشتہ فنانس بل میں 60 لاکھ سے زیادہ آمدن والوں کے لیے ایک ہی سلیب رکھا گیا تھا، تاہم اس فنانس بل میں اسے تبدیل کر دیا گیا ہے۔

  • چھٹا سلیب 60 لاکھ سے ایک کروڑ 20 لاکھ کی سالانہ آمدن والے افراد کے لیے ہے، جنھیں اب چھ لاکھ 54 ہزار فکسڈ ٹیکس اور 60 لاکھ سے زیادہ آمدن پر 22.5 فیصد ٹیکس ادا کرنا ہو گا۔
  • ساتواں اور آخری سلیب ان افراد کے لیے ہے جن کی سالانہ آمدن ایک کروڑ 20 لاکھ سے زیادہ ہے، انھیں اب 20 لاکھ چار ہزار فکسڈ ٹیکس جبکہ ایک کروڑ 20 لاکھ سے زیادہ آمدن پر 32.5 فیصد ٹیکس ادا کرنا ہو گا۔

اب ہم یہ جائزہ لیتے ہیں کہ ایک عام آدمی کی تنخواہ پر ان سلیبز کا کیا اثر پڑے گا۔

آپ کی تنخواہ سے کتنا ٹیکس کٹے گا؟

  • اگر آپ کی آمدن پچاس ہزار روپے ماہانہ ہے تو آپ کو کوئی انکم ٹیکس نہیں دینا ہو گا۔ تاہم اگر یہ آمدن ایک لاکھ روپے ماہانہ تک ہے تو آپ کا سالانہ انکم ٹیکس 100 روپے ہو گا۔
  • ماہانہ ڈیڑھ لاکھ روپے ہونے کی صورت میں ماضی میں آپ کو 7500 روپے ماہانہ ٹیکس ادا کرنا ہوتا تھا، تاہم اب یہ رقم کم ہو کر 3500 روپے ماہانہ رہ جائے گی۔
  • دو لاکھ روپے ماہانہ کمانے والوں کے لیے ماضی میں 15 ہزار روپے ماہانہ ٹیکس دینا پڑتا تھا، اور اب اس رقم میں کمی آئی ہے اور یہ سات ہزار روپے مہینہ رہ جائے گی۔
  • ایسے افراد جن کی ماہانہ آمدن ڈھائی لاکھ روپے ہے وہ اس سے قبل 23541 روپے ماہانہ ٹیکس کی مد میں دیا کرتے تھے، اب وہ 13250 روپے ماہانہ انکم ٹیکس دیں گے۔
  • تین لاکھ ماہانہ کمانے والے افراد پہلے ماہانہ 32500 روپے انکم ٹیکس دیتے تھے اور اب اس رقم میں 13 ہزار روپے کی کمی آئے گی اور ان کا ماہانہ ٹیکس 19500 روپے رہ جائے گا۔
  • ساڑھے تین لاکھ کمانے والوں کا ماضی میں ماہانہ انکم ٹیکس 42500 روپے تھا، جو اب کم ہو کر 28250 روپے رہ جائے گا۔
  • ایسے افراد جن کی ماہانہ آمدن چار لاکھ روپے ہے وہ اس سے قبل 52500 روپے ماہانہ ٹیکس ادا کرتے تھے، اب یہ رقم کم ہو کر 37000 روپے ہو جائے گی۔

’یہ کم آمدنی والے تنخواہ دار افراد کو تھوڑا ریلیف فراہم کرے گا‘

ٹیکس سلیب میں تبدیلی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ماہر ٹیکس امور ڈاکٹر اکرام الحق نے بی بی سی کو بتایا کہ انکم ٹیکس کے سلیبز میں تبدیلی سے کم آمدنی والے افراد کو ریلیف ملا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’سلیب میں کم دراصل آئی ایم ایف کی شرائط میں سے ایک تھی تاکہ زیادہ آمدنی والے افراد پر ٹیکس کو منطقی بنایا جائے۔‘

انھوں نے کہا کہ ملک میں اس وقت جو مہنگائی کی شرح ہے، یہ کم آمدنی والے تنخواہ دار افراد کو تھوڑا ریلیف فراہم کرے گا۔ ڈاکٹر اکرام نے بتایا کہ ’یہ اقدام ملک کی ٹیکس بیس کو بڑھانے کی طرف ایک پیش رفت ہے کیونکہ ٹیکس سلیب کی اوپر کی سطح کو بڑھا دیا گیا ہے۔‘

پرسنل ٹیکس کیا ہے؟

آئی ایم ایف کی جانب سے پرسنل انکم ٹیکس میں اصلاحات کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔ پرسنل انکم ٹیکس پر بات کرتے ہوئے ٹیکس امور کے ماہر ڈاکٹر اکرام الحق نے بتایا کہ اس سے مراد تنخواہ دار طبقے پر انکم ٹیکس کی شرح کو بڑھانا ہے۔

ڈاکٹر اکرام الحق نے کہا کہ ’پرسنل ٹیکس میں اصلاحات سے مراد یہی ہے کہ آئی ایم ایف زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد پر ٹیکس میں اضافہ چاہتا ہے۔‘

واضح رہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے تنخواہ دار طبقے سے زیادہ ٹیکس وصولی کا مطالبہ نیا نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے بھی یہ مطالبہ کیا جا چکا ہے تاہم سابقہ حکومت کی جانب سے اس مطالبے پر رضامندی ظاہر نہیں کی گئی تھی۔

آئی ایم ایف کی جانب سے تنخواہ دار طبقے سے 130 سے 150 ارب روپے اضافی اکٹھا کرنے کا کہا گیا تھا تاہم بعد میں حکومت نے سیلز ٹیکس میں دی جانے والی چھوٹ ختم کرنے پر رضامندی کا اظہار کر کے یہ مطالبہ قبول نہیں کیا تھا۔