پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار اگلے مالی سال میں کیوں برقرار نہیں رہ پائے گی؟

    • مصنف, تنویر ملک
    • عہدہ, صحافی، کراچی

پاکستان میں وفاقی حکومت کی سالانہ پلان کوآرڈینیشن کمیٹی کی جانب سے آئندہ مالی سال کے لیے ملکی معاشی شرح نمو کا ہدف پانچ فیصد رکھا گیا ہے۔ موجودہ مالی سال میں معاشی شرح نمو چھ فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔

اس سے پہلے پاکستان کی وفاقی وزارت خزانہ کی جانب سے آئندہ مالی سال میں ملک کی مجموعی معاشی ترقی چھ فیصد کی رفتار سے نہ بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

پاکستان کی وزارت خزانہ کی جانب سے اگلے مالی سال میں ملکی معاشی ترقی چھ فیصد کی رفتار سے نہ بڑھنے کی پیش گوئی اور سالانہ پلان کوآرڈینیشن کمیٹی کی جانب سے پانچ فیصد کا ہدف اس وقت سامنے آیا جب ملک میں تقریباً دو ماہ پہلے قائم ہونے والی حکومت اپنا پہلا بجٹ پیش کرنے جا رہی ہے۔

پلان کوآرڈینیشن کمیٹی کی جانب سے پانچ فیصد کا ہدف اور وزارت خزانہ کی جانب سے اگلے مالی سال میں مجموعی معاشی شرح نمو کے چھ فیصد کی رفتار سے نہ بڑھنے کی پیش گوئی حکومت کی نیشنل اکاونٹس کمیٹی کے جاری کردہ اعداد و شمار کے بعد کی گئی ہے جس میں کہا گیا کہ موجودہ مالی سال میں معاشی شرح نمو یا جی ڈی پی کی ترقی کی رفتار چھ فیصد تک رہے گی۔

وزارت خزانہ کی جانب سے اگلے مالی سال میں جی ڈی پی کی ترقی کی رفتار چھ فیصد نہ ہونے کی وجہ مہنگائی اور ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں ہونے والی کمی کو قرار دیا گیا ہے۔

وزارت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اگرچہ موجودہ مالی سال میں ملکی معیشت کی رفتار چھ فیصد تک رہنے کی توقع ہے تاہم مالیاتی دباؤ اور بیرونی شعبے کی کارکردگی کی وجہ سے اگلے سال میں یہ گروتھ برقرار نہیں رہ سکتی۔

پاکستان میں ماہرین معیشت کا اس پیش گوئی پر یہ کہنا ہے کہ وزارت خزانہ کی جانب سے جو بات کی گئی ہے اس سے مراد یہ ہے کہ پاکستان اکانومی ’اوور ہیٹڈ‘ ہے یعنی یہ اپنی استعداد اور گنجائش سے زیادہ ترقی دکھا رہی ہے جو کہ پائیدار نہیں ہے۔

ان کے مطابق یہ معیشت ایسی ہوتی ہے جس میں پیداوار سے زیادہ اس کی کھپت ہوتی ہے اور یہ کھپت مہنگائی کو بڑھاتی ہے اور معیشت کے لیے خطرناک ہوتی ہے۔

اگرچہ ملک کی معاشی ترقی کی رفتار میں اضافہ نئی ملازمتوں کے پیدا کرنے کے لیے ضروری ہوتا ہے تاہم یہ معاشی گروتھ ایک ایسے ملک کے لیے مسائل بھی پیدا کرتی ہے جس کا توانائی اور صنعت کے لیے خام مال پر انحصار درآمدات پر ہو۔

وزیر مملکت برائے خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا نے گذشتہ حکومت کی معاشی گروتھ کے اعداد و شمار پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ قرضے اور کھپت یعنی consumption led گروتھ تھی جس کی بنیاد پائیدار نہیں تھی۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے معاشی امور کے ترجمان مزمل اسلم نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت کی معاشی پالیسیوں کی وجہ سے رواں سال جو معاشی گروتھ ہے اس کے پیچھے زرعی اور صنعتی شعبوں میں ہونے والی گروتھ ہے اور یہ گروتھ پروڈکشن پر مبنی ہے یعنی پیداوار ہوئی تو یہ گروتھ بڑھی۔

انھوں نے کہا موجودہ حکومت کی جانب سے اگلے مالی سال میں معاشی شرح نمو چھ فیصد پر برقرار نہ رہنے کے خدشے کا اظہار اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ بلند شرح سود اور توانائی کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہونے کی وجہ معیشت کی ترقی میں اضافہ ممکن نہیں لگتا۔

وزارت خزانہ کی پیش گوئی کی بنیاد کیا ہے؟

وفاقی وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا کہ ملک میں مائیکرو اکنامک عدم توازن کی وجہ سے اگلے سال چھ فیصد ملکی معاشی ترقی کا حصول مشکل ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق ملک اس وقت بڑھتی ہوئی مہنگائی، بیرونی تجارت کے خسارے، ملکی کرنسی کی گرتی ہوئی قدر، تیزی سے کم ہوتے زرمبادلہ کے ذخائر اور بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہا ہے۔

واضح رہے پاکستان مسلم لیگ نواز کی دو ہزار اٹھارہ میں ختم ہونے والی حکومت کے آخری سال میں اقتصادی ترقی کی شرح چھ فیصد سے زائد تھی تاہم تحریک انصاف حکومت کے قیام کے بعد جی ڈی پی گروتھ میں کمی دیکھی گئی اور کورونا کی وجہ سے حکومت کے دوسرے سال میں یہ شرح منفی میں چلی گئی۔

گذشتہ سال یہ گروتھ چار فیصد کے قریب تھی اور رواں سال معاشی شرح چھ فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔

ملکی معاشی ترقی کی رفتار نہ بڑھنے کی وجہ؟

وزارت خزانہ کی پیش گوئی کے سلسلے میں پاکستان انسٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس میں ریسرچ فیلو اور معاشی امور کے ماہر شاہد محمود نے اس کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی ملک کی معاشی ترقی کی رفتار بڑھتی ہے تو اس کے لیے توانائی کی طلب بڑھتی ہے اور پاکستان توانائی کی ضروریات جیسے کہ تیل و گیس و کوئلہ وغیرہ کے لیے بیرونی ذرائع پر انحصار کرتا ہے۔

جب توانائی کی ضرورت بڑھے گی تو ملک کا درآمدی بل بڑھے گا اور بیرونی ادائیگیاں بڑھیں گی جس کے لیے ڈالر کی ضرورت ہوتی ہے اور ڈالر جب خرچ ہوں گے تو اس کا دباؤ ملک کے فارن ایکسچینج پر آئے گا اور ملکی کرنسی کی قیمت پر اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیے

انھوں نے کہا کہ پاکستان کا اقتصادی ڈھانچہ اس طرح ہے کہ جب بھی جی ڈی پی بڑھے گی تو ملک کا تجارتی خسارہ بڑھے گا جس سے ادائیگیوں میں عدم توازن پیدا ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ پائیدار جی ڈی پی حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اقتصادی ڈھانچے کو تبدیل کیا جائے۔

لاہور سکول آف اکنامکس میں معاشیات کے استاد ڈاکٹر امجد راشد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’معیشت اس وقت اوورہیٹڈ ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ امکان تھا کہ یہ چار فیصد کے حساب سے بڑھے گی تاہم اس کی رفتار چھ فیصد تک چلی گئی جس کی وجہ سے مائیکرو اکنامکس میں عدم توازن پیدا ہو گیا جس کا مطلب یہ ہے کہ مالیاتی خسارہ بڑھ گیا اور مہنگائی ہو گئی ہے۔

اس کی وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ جب بیرونی ادائیگیوں میں عدم توازن پیدا ہوا تو اس کا منفی اثر روپے کی قدر پر پڑا جس نے درآمدی چیزوں کو مہنگا کیا اور ملک میں مہنگائی میں اضافہ کیا۔

رواں سال چھ فیصد جی ڈی پی گروتھ پر پی ٹی آئی اور نواز لیگ کا کیا موقف ہے؟

موجودہ مالی سال میں ترقی کے چھ فیصد تک رہنے کے بارے میں شاہد محمود نے کہا تحریک انصاف اور نواز لیگ دونوں پارٹیوں کے معاشی ماہرین بات کرنے سے کتراتے ہیں کہ زیادہ جی ڈی پی نے پاکستان کے لیے زیادہ مشکلات پیدا کر دی ہیں جس کی وجہ ادائیگیوں میں عدم توازن کی صورت میں نظر آتا ہے۔

وزیر مملکت برائے خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا کے جواب میں تحریک انصاف کے معاشی امور کے ترجمان مزمل اسلم نے کہا سب سے پہلے گروتھ کی ساخت کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا جب نواز لیگ کے گذشتہ دور میں جی ڈی پی گروتھ چھ فیصد ہوئی تھی تو اس وقت ملک کا جاری کھاتوں کا خسارہ 19 ارب ڈالر ہو گیا جب کہ رواں سال میں جب گروتھ چھ فیصد ہو رہی ہے تو یہ خسارہ 14 ارب ڈالر ہو گا۔

انھوں نے کہا کہ اس خسارے کی وجہ بھی دنیا میں اجناس اور تیل کی بڑھی ہوئی قیمتیں ہیں۔ مزمل نے بتایا کہ اگر یہ قیمتیں نہ بڑھتیں تو اس ہائی گروتھ کے ساتھ جاری کھاتوں کا خسارہ صرف پانچ ارب ڈالر ہوتا، جس کی وجہ یہ ہے کہ جو جی ڈی پی گروتھ ہوئی اس کے پیچھے مضبوط پیداواری اعداد و شمار تھے۔

اگلے سال ترقی کی شرح برقرار نہ رہنے کی وزارت خزانہ کی پیش گوئی کے بارے میں معاشی ماہر مزمل اسلم کہتے ہیں کہ ’اس کی وجہ یہ ہے کہ ملک میں توانائی کا بحران ہے اور اقتصادی ترقی کے لیے توانائی کی فراہمی بہت ضروری ہے۔ اس کے ساتھ اب تک یہ حکومت شرح سود میں چار فیصد تک اضافہ کر چکی ہے اور امکان ہے کہ آنے والے دنوں میں اس شرح سود میں مزید اضافہ ہو گا جو 20 فیصد تک جا سکتا ہے۔ اس بلند شرح سود کے ساتھ آنے والے مالی سال میں چھ فیصد گروتھ ممکن نہیں۔'