بجلی تو پہلے بھی جاتی تھی مگر آج کل لوڈ شیڈنگ میں اضافے کی کیا وجہ ہے؟

    • مصنف, تنویر ملک
    • عہدہ, صحافی، کراچی

کراچی کے علاقے سعید آباد میں رہائش پذیر دانیال فاروق اس وقت اے لیول کا امتحان دے رہے ہیں۔ مئی کے مہینے میں عید کے بعد ان کے امتحان شروع ہوئے اور اب تک وہ چار پرچے دے چکے ہیں اور ان کے دو پرچے ابھی باقی ہیں۔

دانیال امتحان کے تیاری کے لیے آن لائن نوٹس سے مدد لیتے ہیں اور اس کے ذریعے وہ معلومات مواد اکٹھا کرتے ہیں تو اس کے ساتھ اپنے استادوں کے ساتھ بھی آن لائن گفتگو کرتے رہتے ہیں۔

تاہم دانیال کو ان دنوں آن لائن نوٹس کے سلسلے میں مشکل پیش آ رہی ہے جس کی وجہ کراچی میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ میں اضافہ ہے۔

مئی کے مہینے سے قبل بھی لوڈ شیڈنگ ہو رہی تھی تاہم عید کی چھٹیوں کے دوران اس میں کمی واقع ہوئی۔ مئی کے آخر اور جون کے شروع میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ کافی طویل ہو گیا ہے۔

بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ جو پہلے تین گھنٹے تھا اب وہ بڑھ کر چھ گھنٹوں تک چلا گیا ہے۔ دانیال کے مطابق بجلی کے متبادل ذرائع کے ذریعے یو پی ایس سے پنکھا تو چلا لیتے ہیں تاکہ گرمی سے بچا جائے تاہم جب علاقے میں بجلی جاتی ہے تو انٹرنیٹ کنکشن ڈاؤن ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے انھیں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور امتحان کی تیاری میں انھیں کافی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

لیاری کے رہائشی دانش نے بتایا کہ ’پہلے تو بجلی جانے کا ایک شیڈول تھا اور دن میں یا شام کے وقت بجلی چلی جاتی تھی تو سونے سے پہلے بجلی آ جاتی تھی۔

’گھر کے سب افراد اس کے بعد سو جاتے تھے تاہم گذشتہ کئی روز سے اچانک بجلی کے دورانیے میں اضافہ ہو گیا ہے اور اب تو بجلی اس وقت چلی جاتی ہے جب ہم گہری نیند سو رہے ہوتے ہیں اور پھر گرمی کی وجہ سے اٹھنا پڑتا ہے۔‘

دانش کا کہنا ہے کہ ’گذشتہ کئی روز سے بجلی رات کے دو بجے سے چار بجے درمیان غائب ہوتی ہے۔ گرمی کی وجہ سے آنکھ کھل جاتی ہے تو پھر جب تک بجلی نہ آ جائے رات کا یہ پہر جاگ کر گزارنا پڑتا ہے۔‘

اسلام آباد میں ترنول کے رہائشی شبیر احمد بھی بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اس وقت بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی دورانیہ بہت بڑھ چکا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ترنول میں بجلی دو تین گھنٹے تو جاتی تھی تاہم اب پورے دن میں چھ سے آٹھ گھنٹے بجلی غائب ہوتی ہے۔‘

میانوالی کے ایک گاؤں میں رہائش پذیر اقبال طاہر کے مطابق مئی کے مہینے میں تو بجلی ہمارے لیے عید کا چاند بن چکی ہے۔ انھوں نے کہا کہ 14 سے 16 گھنٹے بجلی کا غائب ہونا معمول بن چکا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’اس وقت گرمی بھی عروج پر ہے اور کام کے اوقات میں اس کا غائب ہو جانا ان کے کاروبار میں نقصان کا باعث بنتا ہے تو دوسری جانب رات میں بجلی کے نہ ہونے سے نیند بمشکل آتی ہے۔‘

کراچی سے لے کر اسلام آباد تک بجلی کے صارفین اس وقت لوڈ شیڈنگ کے طویل دورانیے سے پریشان ہیں۔

حکومت اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے ایک جانب اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا اعلان کیا جاتا ہے جسے لوڈ مینیجمنٹ کہا جاتا ہے تو دوسری جانب غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ نے لوگوں کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے کیونکہ اس وقت ملک میں درجہ حرارت زیادہ ہے۔

پاکستان میں میڈیا رپورٹس کے مطابق اس وقت شہروں میں آٹھ سے 10 گھنٹے اور دیہاتوں میں 16 سے 18 گھنٹے تک بجلی غائب ہوتی ہے جس کی وجہ ملک میں بجلی کی رسد و طلب کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کو بتایا جاتا ہے۔

بجلی کے شعبے کے ماہرین کے مطابق اس وقت ملک میں بجلی کی طلب بلند ترین سطح پر موجود ہے اور اس بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے پیداوار ناکافی ہے جس کی وجہ سے ملک میں بجلی کی بہت زیادہ لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔

ماہرین نے طلب میں اضافے کے ساتھ بجلی بنانے کے ایندھن یعنی کوئلے، آر ایل این جی اور فرنس آئل کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کو بھی اس کی ایک وجہ قرار دیا ہے جس کی وجہ سے بجلی بنانے والے کارخانے اپنی پیداواری استعداد سے کم بجلی بنا رہے ہیں کیونکہ مہنگا ایندھن خریدنے کے لیے فنانسنگ چاہیے جو پوری طرح دستیاب نہیں ہے۔

وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر اور وزیر مملکت توانائی ہاشم نوتیزئی کے علاوہ وزیر مملکت برائے پٹرولیم ڈاکٹر مصدق ملک سے اس حوالے سے سوالات کیے گئے لیکن اُنھوں نے واٹس اپ پیغامات اور فون کالز کا کوئی جواب نہیں دیا۔

بجلی بحران کی کیا وجہ ہے؟

جمعرات کو بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے جانب سے جو لوڈ منیجمنٹ رپورٹ ہوئی اس کے مطابق ملک میں پیداوار کا شارٹ فال 4719 میگا واٹ ہے جبکہ 2554 میگا واٹ کے لائن لاسز تھے، یوں مجموعی طور پر شارٹ فال سات ہزار میگا واٹ سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔

پلاننگ کمیشن آف پاکستان کے سابقہ ممبر توانائی سید اختر علی نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ ’اس وقت ملک میں سات ہزار میگا واٹ سے زائد کا فقدان پیدا ہو چکا ہے جس کی وجہ سے لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ بہت زیادہ بڑھ چکا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’پاکستان میں مختلف ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کی مجموعی صلاحیت 36 ہزار میگاواٹ کے لگ بھگ ہے تاہم کبھی بھی اس استعداد تک بجلی پیدا نہیں کی جا سکی جس کی بہت ساری وجوہات ہیں۔‘

ملک میں بجلی کے بحران کی وجوہات کے بارے میں بات کرتے ہوئے عارف حبیب لمیٹڈ کے ہیڈ آف ریسرچ طاہر عباس نے کہا کہ ’اس بحران کی سب سے بڑی وجہ ایندھن کا مہنگا ہونا ہے، جس کی وجہ سے پاور پلانٹ اپنی پوری استعداد پر نہیں چل رہے۔‘

طاہر نے بتایا کہ ’کوئلے کی قیمت اس وقت 300 ڈالر فی ٹن سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ کچھ عرصہ پہلے یہ قیمت سو ڈالر تھی۔ اسی طرح درآمد شدہ گیس کی قیمت جس پر پاکستان نے سپاٹ کارگو خریدے وہ 27 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو تھی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’پاکستان کے لانگ ٹرم کنٹریکٹ کے تحت یہ قیمت 13 ڈالر تھی۔ فرنس آئل کی قیمت میں بھی بے پناہ اضافہ ہوا ہے کیونکہ دنیا میں خام تیل کی قیمتیں بھی اس وقت بلند ترین سطح پر موجود ہیں۔‘

طاہر نے کہا کہ ’مہنگے ایندھن سے بجلی بنانا مشکل ہے کیونکہ اس کے لیے بہت زیادہ سرمایہ چاہیے اور بجلی بنانے کے کارخانوں کے پاس اتنا کیش فلو نہیں ہوتا کہ وہ مہنگے داموں ایندھن خرید کر اسے پوری استعداد پر چلائیں۔‘

طاہر نے بتایا کہ ’اس وقت پاکستان میں کوئلے، گیس اور فرنس آئل پر چلنے والے پاور پلانٹ اپنی پوری پیداواری صلاحیت سے کم پر چل رہے ہیں۔‘

سید اختر علی نے کہا کہ ’کوئلے، فرنس آئل اور گیس سے چلنے والے پاور پلانٹ پیداواری صلاحیت سے کم پر چل رہے ہیں تو اس کے ساتھ پانی سے بجلی بنانے کے ذرائع بھی بہت کم بجلی پیدا کر رہے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ منگلا، تربیلا اور دوسرے آبی ذرائع کی بجلی بنانے کی صلاحیت نو ہزار میگاواٹ ہے تاہم اس وقت یہ آدھی گنجائش پر چل رہے ہیں یعنی چار سے پانچ ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں پانی کم آ رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’اگرچہ ملک کے میدانی علاقوں میں تو زور کی گرمی پڑ رہی ہے لیکن بالائی علاقوں میں ابھی اس کی وہ حدت نہیں ہے کہ جس سے گلیشیئر پگھل سکیں۔ کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹ 25 فیصد استعداد پر چل رہے ہیں تو دوسرے ذرائع سے چلنے والے پلانٹس کی صورتحال بھی کچھ ایسی ہے۔‘

واضح رہے کہ موجودہ حکومت میں وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر نے مختلف مواقع پر ملک میں موجود لوڈ شیڈنگ کی ذمہ داری سابقہ حکومت کی جانب سے مناسب ایندھن نہ خریدنا قرار دی تھی۔

حکومت کی جانب سے مئی کے مہینے میں آر ایل این جی کے سپاٹ کارگو خریدے گئے تاکہ اس سے بجلی پیدا کی جا سکے۔

طاہر عباس کے مطابق ’مئی کے مہینے میں پانچ سپاٹ کارگو خریدے گئے جو مہنگے داموں خریدے گئے تاکہ بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہو سکے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اس گیس کی خریداری کے باوجود بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ڈیمانڈ بڑھ گئی ہے جبکہ پانی سے پیدا ہونے والی بجلی بھی کم بن رہی ہے تو دوسری جانب کوئلے کی قیمت بھی بہت بڑھ چکی ہے۔

’گیس خریدی گئی تاہم مہنگی گیس بہت زیادہ بھی نہیں خریدی جا سکتی کیونکہ بجلی بنانے والی کمپنیوں کے پاس سرمائے کی مطلوبہ تعداد نہیں ہے کہ وہ کارخانوں کو پوری پیداواری صلاحیت پر چلا کر بڑھی ہوئی طلب کو پورا کر سکیں۔‘