آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
جسٹس (ر) جاوید اقبال: متنازع دور کے بعد چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کے عہدے کی مدت تمام
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے قومی ادارہ برائے احتساب (نیب) کے متعلق رواں سال کے اوائل میں جاری کیے گئے صدارتی آرڈیننس کی میعاد آج ختم ہو رہی ہے جس کے بعد چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال اپنے عہدے پر برقرار نہیں رہیں گے۔
جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کو سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے دور میں اکتوبر سنہ 2017 میں چیئرمین نیب مقرر کیا گیا تھا۔
چار سال کی مدت پوری ہونے کے بعد جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کو گزشتہ برس چھ اکتوبر کو اپنے عہدے سے ریٹائر ہونا تھا لیکن اس دوران سابق حکمراں جماعت نے دو صدارتی آرڈیننس جاری کیے جس کی وجہ سے وہ اس وقت تک اپنے عہدے پر کام کرتے رہے جب تک اس صدارتی آرڈیننس کی معیاد پوری نہیں ہوگئی۔
سابق حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف اور اس وقت کے اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کے درمیان نیب کے نئے چیئرمین کی تعیناتی پر اتفاق نہیں ہو سکا تھا۔
اس کے علاوہ سابق حکمران جماعت نے نیب آرڈیننس میں کچھ ترامیم کی تھیں مگر اپوزیشن نے اس قانون سازی پر اتفاق نہیں کیا تھا جس کی وجہ سے اس وقت کی حکومت نے صدارتی آرڈیننس جاری کرتے ہوئے موجودہ چیئرمین کو اپنا کام جاری رکھنے کو کہا تھا۔
اب موجودہ حکمراں اتحاد نے نیب آرڈیننس میں ترامیم کر لی ہیں جنھیں پاکستان تحریک انصاف نے سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ چیئرمین نیب کے لیے مختلف نام زیر غور ہیں۔ سپریم کورٹ کے سابق جج مقبول باقر کو بطور چیئرمین نیب تقرر کرنے سے متعلق بھی متضاد خبریں گردش کر رہی ہیں۔
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف راجہ ریاض کا کہنا ہے کہ چیئرمین نیب کے نام پر ان کی وزیر اعظم میاں شہباز شریف کے ساتھ مشاورت مکمل ہو چکی ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے ساتھ اس معاملے میں دوسری نشست ان کے ترکی سے وطن واپس آنے کے بعد ہوگی جس کے بعد چیئرمین نیب کے نام کا اعلان کیا جائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جب ان سے مجوزہ ناموں کے بارے میں پوچھا گیا جن کو چیئرمین نیب تعینات کرنے پر غور کیا جا رہا ہے تو راجہ ریاض نے اس بارے میں کچھ بھی کہنے سے معذوری ظاہر کی۔
نیب کی کارکردگی اور سوالیہ نشانات
نیب حکام کے مطابق جسٹس جاوید اقبال نے منصب سنبھالنے کے بعد نیب میں متعدد اصلاحات متعارف کروائیں جن کی بدولت نیب کی مجموعی کارکردگی میں ماضی کے 17 سالہ دور کی بہ نسبت ریکارڈ اضافہ ہوا ہے اور اس عرصے کے دوران حکام کے بقول نیب 533 ارب بالواسطہ و بلاواسطہ طور پر ریکور کروا چکا ہے۔
تاہم جب قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال اور نیب کے حکام سے ریکور ہونے والی رقم کی تفصیلات اور اس رقم کو سٹیٹ بینک میں جمع کروانے کے شواہد طلب کیے تو نیب کے حکام اس ضمن میں نہ تو کوئی جواب دے سکے اور نہ ہی شواہد پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سامنے پیش کر سکے۔
نیب اس وقت کل 927 انکوائریوں میں تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ نیب کی جانب سے احتساب عدالتوں میں 1999 سے اس سال مارچ تک کل 3682 ریفرنسز دائر کیے گئے جن میں سے 2413 ریفرنسز پر فیصلے ہو چکے ہیں۔
سابق حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے دور میں اس تاثر کو تقویت مل رہی تھی کہ نیب حکومتی ایما پر حزب اختلاف کی جماعتوں کے قائدین کے خلاف مختلف مقدمات درج کر رہا ہے۔
اس عرصے کے دوران موجودہ وزیر اعظم میاں شہباز شریف، سابق صدر آصف علی زرداری، وفاقی وزراء خورشید شاہ، خواجہ سعد رفیق، خواجہ محمد آصف اور دیگر کے خلاف مقدمات درج کیے گئے تو ان مقدمات میں نیب ایک پیسے کی بھی ریکوری نہیں کر سکا۔
نیب کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے ہی سپریم کورٹ نے خواجہ سعد رفیق کی ضمانت منظور کرتے ہوئے اپنے حکم نامے میں لکھا تھا کہ نیب جیسے ادارے کو سیاسی وابستگیاں تبدیل کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے جب سابق حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے کچھ اہم رہنماؤں کے خلاف تحقیقات شروع کرنے کا عندیہ دیا تو اس کے بعد کچھ عرصے کے بعد ہی ان کی ایک مبینہ آڈیو منظر عام پر آ گئی جسں میں وہ ایک خاتون کے ساتھ قابل اعتراض گفتگو کر رہے تھے۔ اس آڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد اس وقت کی حکمران جماعت کے رہنماؤں کے خلاف ہونے والی تحقیقات سرد خانے میں ڈال دی گئیں۔
نیب قانون میں کیا ترامیم کی گئی ہیں؟
حکمران اتحاد نے اپوزیشن کے ساتھ مل کر گذشتہ ہفتے پارلیمنٹ سے نیب ترمیمی بل 2021 کثرت رائے سے منظور کروا لیا ہے جس میں چیئرمین نیب کی تقرری کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
ترمیم کے تحت نئے چیئرمین نیب کے تقرر کے لیے مشاورت کا عمل دو ماہ پہلے شروع کیا جائے گا اور نئے چیئرمین نیب کے تقرر کے لیے مشاورت کا عمل 40 روز میں مکمل ہو گا۔
نئے ترمیمی قانون میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر میں اتفاق رائے نہ ہونے پر تقرر کا معاملہ پارلیمانی کمیٹی کو جائے گا اور پارلیمانی کمیٹی چیئرمین نیب کا نام 30 روز میں فائنل کرے گی۔
یہ بھی پڑھیے
اس نئے قانون میں چیئرمین نیب کی مدت چار سال سے کم کر کے تین سال کر دی گئی ہے اور اس مدت کے بعد اسی شخص کو دوبارہ چیئرمین نیب نہیں لگایا جائے گا اس کے علاوہ ڈپٹی چیئرمین کی تقرر کا اختیار صدر سے لے کر وفاقی حکومت کو دے دیا گیا۔
اس کے علاوہ اب چیئرمین نیب کی ریٹائرمنٹ کے بعد کا طریقہ کار بھی وضع کر دیا گیا ہے اور نئے چیئرمین کی تعیناتی تک ڈپٹی چیئرمین قائم مقام سربراہ ہوں گے۔ اس قانون کے تحت ڈپٹی چیئرمین کی عدم موجودگی میں ادارے کے کسی بھی سینیئر افسر کو قائم مقام چیئرمین کا چارج دیا جائے گا۔
اب وفاقی یا صوبائی ٹیکس معاملات نیب کے دائرہ اختیار سے نکال دیے گئے ہیں اور مالی فائدہ نہ اٹھانے کی صورت میں وفاقی یا صوبائی کابینہ کے فیصلے نیب کے دائرہ اختیار میں نہیں آئیں گے۔
ترمیمی قانون کے تحت کسی بھی ترقیاتی منصوبے یا سکیم میں بے قاعدگی نیب کے دائرہ اختیار میں نہیں آئے گی جبکہ کسی بھی ریگولیٹری ادارے کے فیصلوں پر نیب کارروائی نہیں کر سکے گا۔
اس کے علاوہ اس نئے قانون کے تحت نیب اب 6 ماہ کی حد کے اندر انکوائری کا آغاز کرنے کا پابند ہو گا اور نیب گرفتار شدگان کو 24 گھنٹوں میں نیب کورٹ عدالت میں پیش کرنے پابند ہو گا۔ اس کے ساتھ ساتھ نیب گرفتاری سے پہلے کافی ثبوت کی دستیابی یقینی بنائے گا۔
نیب قانون میں ترمیم کرکے ریمانڈ 90 دن سے کم کر کے 14 دن کر دیا گیا اور نیب ملزم کے لیے اپیل کا حق 10 روز سے بڑھا کر 30 روز کر دیا۔
پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے کثرت رائے سے یہ بل منظور ہونے کے بعد اس کو منظوری کے لیے صدر کو بھجوا دیا گیا ہے جس کے بعد وہ قانون کی شکل اختیار کر لے گا۔
صدر مملکت دو ہفتوں میں اس کی منظوری دینے کے پابند ہیں اور اگر انھیں اس عرصے کے دوران اس بل پر کوئی اعتراض ہو تو وہ تحریری طور پر اس کی نشاندہی کرکے اس کو واپس بھجوائیں گے۔
پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس سات جون کو دوبارہ ہو گا اور حکومت کا کہنا ہے کہ اگر اس عرصے کے دوران صدر مملکت کی طرف سے ترمیمی قانون پر کوئی اعتراض ہوا تو اس کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے دور کروا لیا جائے گا۔