جزلان فیصل: کراچی میں معمولی تکرار پر نوجوان کا قتل ’میری لاٹھی تھا وہ، کسی نے میری لاٹھی توڑ دی‘

    • مصنف, اعظم خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد

ہم نے دو ماہ قبل ہی جزلان کی دھوم دھام سے 18 ویں سالگرہ منائی تھی اور پھر اس کا شناختی کارڈ بنوایا۔ یہ ایسا ہی ہے جسے چھوٹے سے پودے کی اگر آپ پرورش کریں، اس کی آبیاری کریں، اس کو گرم و سرد سے بچائیں، پھر وہ بڑا ہو جائے اور اس کو کوئی کاٹ لے۔ ایک بوڑھے کی جس طرح لاٹھی ہوتی ہے، جس عمر میں اس وقت میں ہوں میری لاٹھی تھا وہ، کسی نے میری لاٹھی توڑ دی، کتنا بڑا ظلم ہے۔

یہ الفاظ ہیں کراچی میں 24 مئی کی رات کو ایک موٹرسائیکل سوار سے ریس لگانے سے منع کرنے پر معمولی تنازعے میں قتل ہونے والے 18 برس کے طالبعلم جزلان فیصل کے دادا صابر علی خان کے۔

کراچی پولیس نے جزلان کے چچا عارف صابر کی مدعیت میں قتل کا مقدمہ درج کر کے تین میں سے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ سی سی ٹی وی ویڈیو کی مدد سے ملزمان کی شناخت کی گئی ہے اور اب جلد دیگر دو ملزموں کو بھی گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

عارف صابر نے بی بی سی کو بتایا کہ جزلان فیصل تو بچپن میں یتیم ہو گیا تھا، ان کے والد ایک حادثے میں دس برس قبل فوت ہوگئے تھے، اس کے بعد سے جزلان سمیت ان کے تین بہن بھائی اپنے دادا، دادی کے ساتھ ہی رہ رہے تھے۔

جزلان آئی سی ایم اے کا طالبعلم تھا وہ ابھی اگلے ماہ ہونے والے اپنے امتحانات کی دوستوں کے ساتھ مل کر تیاری کر رہا تھا۔

جزلان کا قتل کیسے ہوا؟

عارف صابر نے بتایا کہ ان کا بھتیجا جزلان اپنے دیگر دوستوں کے ہمراہ ابھی اپنے امتحانات کی تیاری میں مصروف تھا۔ وہ کبھی ہمارے گھر تو کبھی اپنے دوست کے گھر ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی بحریہ ٹاؤن میں جا کر تیاری کرتا تھا۔

ان کے مطابق 24 فروری کی رات کو جزلان اپنے دوستوں کے ہمراہ بحریہ ٹاؤن کے لیے روانہ ہوا اور رستے میں ایک موٹر سائیکل سوار ریس لگاتے ہوئے ان کی گاڑی کے آگے آ گیا۔ ان کے مطابق جزلان نے اس کی جان بچائی اور پھر گاڑی روک کر اتنا بتایا کہ اس طرح آپ کسی بڑے حادثے کا شکار ہوں سکتے ہیں اور پولیس نے پھر ہمیں پکڑ لینا ہے۔

یہ بات موٹر سائیکل سوار کو بہت ناگوار گزری اور اس نے شاہراہ فیصل پر ہی اپنی موٹر سائیکل جزلان کی کار کے سامنے کھڑی کر کے فون کرنا شروع کر دیے۔ ان کے مطابق جزلان کے دوستوں نے آگے بڑھنے کا مشورہ دیا اور یوں گاڑی چلاتے ہوئے جزلان جب بحریہ ٹاؤن میں آئیفل ٹاور کے سامنے پہنچا تو ان پر پیچھا کرنے والے تین ملزمان نے فائرنگ کر دی، جس سے ایک گولی جزلان کے سر پر جا کر لگی اور وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔

جزلان کے ایک دوست شمعیر کے بھی گولی سر پر لگی، جس سے وہ شدید زخمی ہو گیا۔ جزلان اور شمعیر کو پہلے قریبی ہسپتال میں لے جایا گیا، اس کے بھی انھیں کراچی کے جناح ہسپتال منتقل کیا گیا اور پھر آغا خان ہسپتال بھیج دیا گیا۔

جزلان کو وینٹیلیٹر پر بھی رکھا گیا مگر سر میں دھنس جانے والی گولی نے ان کی جان لے لی تھی۔

خدا حافظ کہنے کے بعد ایک بار پھر واپس مڑا اور کہا اچھا پھر خدا حافظ

جزلان کے والد کی حادثاتی موت کے بعد جزلان کی والدہ نے دوسری شادی کر لی تھی اور جزلان کا زیادہ وقت اپنے دادا، دادی کے ساتھ ہی گزرتا تھا اور وہ اپنی دادی تسلیم صابر کو ہی امی کہہ کر پکارتے تھے۔

جزلان کی دادی تسلیم نے بتایا کہ ہم نے جزلان کو گھر پر ایک کمرہ دے رکھا تھا جہاں وہ اپنے دوستوں کے ساتھ امتحانات کی تیاری کرتا تھا۔ ان کے مطابق 24 تاریخ کو جزلان نے بتایا کہ اب وہ مزید تیاری کے لیے اپنے دوست کے گھر جائیں گے۔ میرے اصرار پر مجھ سے کہنے لگے کہ امی جس طرح آپ میرا پوچھتی ہیں اس طرح میرے دوست شمعیر کی والدہ بھی پوچھتی ہیں کہ آپ گھر پر تیاری کریں اور یہاں بھی وقت گزاریں۔

ان کے مطابق جزلان نے اپنا پورا پلان مجھے بتایا کہ کب کھانا کھائیں گے اور کب وہ یونیورسٹی جائیں گے۔ ان کے مطابق جب جزلان دوستوں کے ساتھ مجھے خدا حافظ کہہ کر روانہ ہوئے تو ایک بار پھر دوبارہ آیا اور مجھ سے کہا کہ اچھا امی خدا حافظ پھر۔۔ میں نے کہا اچھا ٹھیک ہے بیٹا خدا حافظ، اپنا خیال رکھنا۔

انھوں نے بتایا کہ جزلان کے زخمی ہونے کی خبر پر وہ ہسپتال پہنچیں تو وہاں ایک جملہ انھوں نے سنا کہ آپ میں سے کوئی بڑا ہے تو اندر آئیے۔ ان کے مطابق میں وہاں کھڑی تھی، وہاں 14، 15 اور بھی لڑکے کھڑے تھے۔ میں ان سے پوچھ رہی تھی کہ بتاؤ بیٹا کیا ہوا ہے، کسی کی ہمت ہی نہیں ہو رہی کہ کیا بتائے؟

مجھے انھوں نے یہ بتایا کہ آپ اندر چلی جائیں۔ ان کے مطابق جزلان کے وارڈ کے باہر بیٹھے ہوئے۔۔ تو وہ وقت ہمارے لیے قیامت کا تھا۔ جزلان کی دادی تسلیم نے کہا کہ خدا ہر ماں کو اس تکلیف سے بچائے، جو ہمیں دیکھنا پڑ رہی ہے۔

اب بھی کسی کو بلاتا ہوں تو زبان سے جزلان کا نام ہی نکلتا ہے

صابر علی خان کے مطابق جزلان دس سال سے ان کے ساتھ رہ رہا تھا۔ جب وہ آٹھ برس کا تھا تو اس کے والد ایک حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ ان کے مطابق جزلان مجھ سے بہت پیار کرتا تھا، جب وہ مجھ سے اتنا پیار کرتا تھا تو میری بھی ان سے اتنی ہی دل لگی تھی۔ ان کے مطابق وہ ہر بار ادب سے ان کے پاس آ کر کھڑا رہتا تھا۔

صابر علی کے مطابق ابھی بھی ہر بات پر جب میں کسی کو بلاتا ہوں تو زبان سے نکلتا ہے کہ جزلان آ جاؤ۔ کتنے دُکھ کی بات ہے، ایسا دکھ کہ جسے میں الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا۔

ان کے مطابق یہ ایسے ہی ہوا کہ جیسے کھڑی فصل آ کر ہاتھی روند جائے، برباد کر جائے۔ ایسے ہی کسی نے میرے ساتھ کیا، اس نے کسی کا کیا بگاڑا تھا۔

صرف ایک معمولی بات پر آپ کسی کو مار دیں یہ کہاں کا انصاف ہے۔ یہ کون سا قانون ہے۔ یہ کون سے ملک میں ہم رہتے ہیں۔

ان کے مطابق مارنے والے عادی مجرم تھے۔ ان میں سے ایک نے کار سے اتر کر تصدیق کی کہ جزلان مر چکا ہے اور اس کے بعد وہ وہاں سے چلے گئے۔

یہ بھی پڑھیے

جزلان کے دادا صابر علی کے مطابق ایک بلی کا بچہ اگر آپ کی گاڑی کے نیچے آجائے تو آپ کو رات بھر نیند نہیں آئے گی۔ یہ انسان کو مار کر اس طرح بے رحم بیٹھے ہیں تو کیا ان کو سزا نہیں ملنی چائیے؟

میں پاکستان کے چیف جسٹس سمیت ارباب اختیار سے یہ کہتا ہوں کہ کیا یہاں ہمارا جینے کا حق نہیں ہے؟ کیا آپ ہمیں انصاف نہیں دیں گے؟ کیوں نہیں آپ لوگ ہمارے پاس دادرسی کے لیے آئے؟ کیوں نہیں پوچھا کہ آپ پر کیا قیامت گزری ہے؟

جزلان کے قتل کے پانچ دن بعد بھی اب کوئی اگر جزلان کے دادا صابر علی اور دادی تسلیم صابر سے جزلان سے متعلق بات کرتا ہے تو پھر جیسے آنسوؤں کا ایک سمندر اُمڈ آتا ہے۔