افضل کوہستانی: کوہستان ویڈیو سکینڈل میں چار بیٹے کھو دینے والی منزرہ بی بی گمنامی میں زندگی گزارنے پر مجبور

- مصنف, محمد زبیر خان
- عہدہ, صحافی
’میں افضل کو منع کرتی تھی کہ کوہستان کی روایات کے ساتھ مت الجھو۔ اِن پہاڑوں کے ساتھ لڑنے کا کوئی فائدہ نہیں، ایسا نہ ہو کہ اس کے نتیجے میں، میں تمھیں بھی کھو دوں اور اپنے بیٹوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھوں اور میرا کوئی پرسان حال ہی نہ ہو۔‘
یہ کہنا ہے کوہستان کے ویڈیو سکینڈل پر غیرت کے نام پر ہونے والے قتل کے خلاف آواز بلند کرنے والے افضل کوہستانی کی والدہ منزرہ بی بی کا۔
افضل کوہستانی کو سنہ 2019 میں صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر ایبٹ آباد میں دن دہاڑے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا۔ افضل کوہستانی کے قتل سے پہلے ان کے تین بھائیوں شاہ فیصل، رفیع الدین اور شیر ولی کو ان کے آبائی علاقے کوہستان کی پالس ویلی میں سنہ 2013 میں ان کے گھر میں گھس کر قتل کیا گیا تھا۔
عدالت سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق افضل کوہستانی قتل کیس میں نامزد ایک ملزم ابھی بھی مفرور ہے جبکہ دو ضمانت پر رہا ہو چکے ہیں اور یہ مقدمہ ابھی ٹرائل کے مراحل میں ہے۔
سنہ 2013 میں تین بیٹوں کی ہلاکت کے بعد افضل کوہستانی کی والدہ منزرہ بی بی کو ان کے آبائی علاقے سے بے دخل کر دیا گیا تھا اور وہ گذشتہ نو برس سے گمنام مقام پر پناہ لیے ہوئے ہیں، جہاں پر ان کے ساتھ 20 یتیم پوتے اور پوتیاں اور گھر کی دیگر 20 خواتین بھی رہائش پزیر ہیں۔

اسی گمنام مقام سے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے منزرہ بی بی نے اپنی داستان سُنائی ہے۔
وہ اس وقت اپنے خاندان کے 40 افراد کا سہارا بنی ہوئی ہیں اور گھر چلانے کے لیے محنت مزدوری کرتی ہیں۔
چار بیٹے کھو دینے کے بعد منزرہ بی بی کو اب یہ خدشہ ہے کہ کہیں ان کے زندہ بچ جانے والے تین بیٹے اور ان کے پوتے، پوتیاں بھی ان سے جدا نہ کر دیے جائیں۔ وہ اپنے پوتے، پوتیوں کو تعلیم دلانا چاہتی ہیں، مگر غربت کے باعث ایسا کرنا اُن کے لیے ممکن نہیں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
منزرہ بی بی کہتی ہیں کہ ’دیکھو کوہستان میں غیرت سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں سمجھی جاتی۔ ایسی صورتحال میں میرے بیٹے افضل کے ’جرائم‘ کی فہرست طویل ہے۔ پہلے اُس نے ویڈیو سکینڈل منظر عام پر آنے کے بعد اِس کے خلاف آواز بلند کی اور جب ثابت ہو گیا کہ لڑکیاں قتل ہو گئی ہیں تو پھر اس نے لڑکیوں کے قاتلوں کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ یہ ’جرائم‘ کوہستان میں ناقابل معافی جرم ہیں۔
’اس جرم کی سزا میں پہلے اس کے تین جوان سال بھائیوں کو پالس میں گھر کے اندر گھس کر قتل کیا گیا۔ افضل ان بھائیوں کا مقدمہ لڑ رہا تھا۔ یہ دوسرا ناقابل معافی جرم تھا جس کی پاداش میں اس کو ایبٹ آباد جیسے بھرے شہر میں قتل کر دیا گیا تھا۔ اب تو افضل کا مقدمہ لڑنے والا بھی خاندان کا کوئی مرد نہیں بچا۔‘
’اب میں ہوں، یتیم پوتے اور پوتیوں کا ساتھ ہے۔ نہ رات کو سوتی ہوں اور نہ دن کو سکون لیتی ہوں۔ بس ہر وقت ایک ہی دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کل پتا نہیں کیا ہو جائے۔ ایک وقت وہ بھی تھا جب میں اپنے گاؤں کی ملکہ تھی۔ اب مجھ سے زیادہ بے آسرا شاید کوئی بھی نہیں ہے۔‘
’میری زمین جائیداد بھی چھن چکی‘
منزرہ بی بی بتاتی ہیں کہ جب سنہ 2013 میں گاؤں میں ان کے تین بیٹوں کو قتل کیا گیا تو اس وقت افضل ایبٹ آباد میں تھا۔ ’افضل کے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ گاؤں آ سکتا کیونکہ ویڈیو سکینڈل پر آواز بلند کرنے پر کہا گیا تھا کہ اس کو بھی قتل کیا جائے گا۔ مگر وہ بھائیوں کے جنازے پر کسی نہ کسی طرح پہنچا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اب تین بیٹوں کا قتل اس بات کی واضح دھمکی دی تھی کہ میں اپنے پوتے، پوتیوں کو بچانے کے لیے علاقہ چھوڑ دوں، کیونکہ میرے تین بے گناہ بیٹے قتل کر دیے گئے جن کا اس سکینڈل سے کچھ بھی لینا دینا نہیں تھا۔‘
ان کے مطابق انھوں نے جرگے کو بھی بتایا کہ اُن کے بیٹوں کا نا تو ویڈیو سکینڈل سے کچھ لینا دینا ہے اور نہ ہی افضل سے۔

منزرہ بی بی کہتی ہیں کہ بیٹوں کے جنازے کرنے کے بعد صرف گاؤں ہی کو نہیں چھوڑا بلکہ اپنی زمین، جائیداد، باغات، کھیت کھلیان سب کچھ چھوڑنا پڑے تھے کیونکہ پورے علاقے میں کوئی بھی ہماری مدد کو تیار نہیں تھا۔ اب صورتحال یہ ہو گئی تھی کہ کوئی ہمدری کے بول بھی نہیں بول رہا تھا۔
وہ کہتی ہیں کہ ’کبھی ہم لوگ علاقے میں امیر سمجھے جاتے تھے، کیونکہ ہمارے پاس کم از کم پانچ سو کنال سے زائد زرعی رقبہ اور باغ تھے۔ باغ بھی ایسے کہ جب ان میں آلوچے اور اخروٹ لگتے تو اس وقت بیوپاری ہمارے پاس نقد رقم لے کر آتے تھے۔ میں اور میرے بیٹے پہلے اپنے علاقے کے لوگوں میں تقسیم کرتے پھر سودا کرتے تھے۔‘
منزہ بی بی کا کہنا ہے کہ ’اب تو صورتحال یہ ہو چکی ہے کہ افضل کے قتل سے پہلے ایک اور علاقے میں کسی کے گھر میں پناہ لی تھی۔ افضل کے قتل کے بعد کسی اور جگہ منتقل ہونا پڑا۔ اب ایسی جگہ پر رہتی ہوں جہاں پر کبھی میرے مال مویشی ہوا کرتے تھے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’جب تک افضل زندہ تھا اس وقت تک آس تھی کہ کچھ بہتر ہو جائے گا۔ افضل پڑھا لکھا تھا، وہ کچہری میں منشی گیری کرتا تھا۔ مجھے کہتا تھا کہ میں وکیل بنوں گا۔ وہ کہتا تھا کہ بڑا انسانی حقوق کا کارکن ہوں۔ لوگوں کے غم دور کرتا ہوں۔ میرے ساتھ بہت لوگ ہیں مگر اس کے قتل کے بعد کسی نے اس کی ماں کا حال تک پوچھنا گوارہ نہیں کیا کہ وہ کس حال میں ہے۔‘

منزرہ بی بی کہتی ہیں کہ ’میرے سات بیٹیوں میں سب سب سے ہیرا افضل تھا۔ بچپن ہی میں ایبٹ آباد چلا گیا تھا۔ جہاں پر اس نے خود ہی تعلیم حاصل کی تھی۔ اس وقت پیسوں کی تو کمی نہیں تھی مگر افضل کو وکیل بننے کا بہت شوق تھا۔ مجھے وہ کہتا تھا کہ میں وکیل بن کر ظالموں کے خلاف لڑوں گا۔ وکیل بننے سے پہلے وہ ایک اور بڑے وکیل کے ساتھ لگ گیا تھا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اس کو اس بڑے وکیل سے بھی کچھ نہ کچھ پیسے ملتے تھے کہ پھر یہ ویڈیو سکینڈل منظر عام پر آگیا۔ ویڈیو سکینڈل منظر عام پر آنے کے بعد افضل سے تعلیم اور منشی گیری دونوں چھوٹ گئے تھے۔ مگر پھر وہ بھی محنت مزدوری کرتا، لوگوں کو درخواستیں لکھ کر دیتا اور تین بھائیوں کے قتل کے بعد بھی گھر کا خرچہ چلا رہا تھا۔‘
یہ بھی پڑھیے
منزرہ بی بی کہتی ہیں کہ ’جب وہ قتل ہوا ہے تو آسرا ہی چھن گیا۔ وہ دو بیٹے جو ویڈیو سکینڈل میں نظر آتے ہیں، وہ ابھی بھی خطرے کا شکار ہیں۔ کہیں باہر نکل نہیں سکتے، کہیں آ جا نہیں سکتے۔ ایک بڑا بیٹا ویسے ہی زیادہ عمر کا ہو چکا ہے۔ اس کے بس سے بھی سب کچھ باہر ہو چکا ہے۔ اس کی جان بھی خطرے میں ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اب میں ہوتی ہوں اور میرے پوتے پوتیاں، ان کے لیے جو کچھ بن سکتا ہے کرتی ہوں۔ بس ایک ہی خواہش ہے کہ یہ کچھ تعلیم حاصل کر لیں۔ مجھے پتا ہے کہ کوہستان کی غیرت کے پہاڑوں سے ٹکرانا ممکن نہیں ہے مگر یتیم تعلیم حاصل کر لیں گے تو پھر کسی مقام اور علاقے میں جا کر کوئی باعزت روزگار حاصل کر سکیں گے۔‘
کوہستان ویڈیو سکینڈل کیا تھا؟

سنہ 2012 میں ضلع کوہستان کے علاقے پالس میں شادی کی ایک تقریب کی ویڈیو منظر عام پر آئی تھی جس میں چار لڑکیوں کی تالیوں کی تھاپ پر دو لڑکے روایتی رقص کر رہے تھے۔ ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد ویڈیو میں رقص کرنے والے بن یاسر اور گل نذر کے بھائی افضل کوہستانی نے دعویٰ کیا تھا کہ ویڈیو میں نظر آنے والی لڑکیاں بازغہ، سیرین جان، بیگم جان، آمنہ اور ان کی کم عمر مددگار شاہین کو ذبح کر کے قتل کر دیا گیا ہے۔
افضل کوہستانی کے اس دعوے کے بعد انسانی حقوق کارکنوں نے احتجاج کیا تھا جس پر اس وقت کے چیف جسٹس، جسٹس افتخار چوہدری نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے عدالتی کمیشن قائم کیا تھا۔ اس کمیشن کی رپورٹ میں لڑکیوں کو زندہ قرار دیا گیا تھا مگر انسانی حقوق کی کارکن اور کمیشن کی ممبر فرزانہ باری نے اس رپورٹ سے اختلاف کرتے ہوئے واقعہ کی مکمل انکوائری کرنے کی استدعا عدالت میں دائر کر دی تھی۔
جس کے بعد سپریم کورٹ نے پہلے خاتون جوڈیشنل افسر منیرہ عباسی کی سربراہی اور بعدازاں سال 2016 میں اس وقت کے ڈسڑکٹ اینڈ سیشن جج داسو، کوہستان محمد شعیب کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیشن قائم کیا تھا۔
محمد شعیب کی سربراہی میں قائم ہونے والے کمیشن نے اپنی رپورٹ میں لڑکیوں کے زندہ ہونے کے حوالے سے شکوک کا اظہار کرتے ہوئے فارنزک تحقیقات کی تجویز دی تھی۔ جس پر سرپم کورٹ آف پاکستان کے دو رکنی بینچ جس کی سربراہی ریٹائر ہوجانے والے جج جسٹس اعجاز افضل کر رہے تھے نے پولیس کو حکم دیا تھا کہ وہ جوڈیشنل آفیسر محمد شعیب کی پیش کردہ رپورٹ کی روشنی میں مکمل تحقیقات کرکے عدالت میں رپورٹ پیش کرے۔
جسٹس اعجاز افضل کے ریٹائر ہونے کے بعد چیف جسٹس، جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اس سال کے ابتدائی دونوں مقدمہ کی سماعت کی تھی جس میں خیبر پختونخوا پولیس نے تسلیم کیا کہ تین لڑکیاں قتل ہو چکی ہیں اور رپورٹ پیش کی تھی کہ لواحقین نے بیان حلفی دیا ہے کہ دو لڑکیاں زندہ ہیں اور ان کو جلد پیش کر دیا جائے گا۔











