آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ایمان مزاری کی ضمانت منظور، شامل تفتیش ہونے کی ہدایت
- مصنف, اعظم خان
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ایمان مزاری کی عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے ریاست اور مدعی مقدمہ کو 9 جون کے لیے نوٹس جاری کیا اور ان سے جواب طلب کیا۔
پاکستان کی فوج نے جمعے کے روز وکیل اور سماجی کارکن ایمان حاضر مزاری کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی تھی۔ ایمان مزاری پاکستان تحریک انصاف کی سینیئر رہنما اور رکن قومی اسمبلی شیریں مزاری کی بیٹی ہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں پٹیشنر کے مطابق ایف آئی آر بدنیتی کے تحت درج کرائی گئی جس کا مقصد تضحیک کرنا ہے۔
اسلام آباد کے تھانہ رمنا میں فوج کے ایڈووکیٹ جنرل ( جی ایچ کیو میں فوج کے قانونی شعبے) کی طرف سے کروائی گئی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کی ایمان مزاری کو ہر تاریخ سماعت پر عدالت کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت۔
ایمان مزاری نے اپنی وکیل زینب جنجوعہ کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تو چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ایک ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض ایمان مزاری کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کر لی۔
فوج کی طرف سے درج اس ایف آئی آر میں لیفٹیننٹ کرنل سید ہمایوں افتخار نے پولیس کو بتایا کہ 21 مئی کو غروب آفتاب سے قبل پانچ سے چھ بجے کے درمیان شیریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری نے فوج، آرمی چیف (جنرل قمر جاوید باجوہ) کے خلاف تضحیک آمیز بیان دیا ہے۔
خیال رہے کہ شیریں مزاری کو 21 مئی کو ان کے گھر کے سامنے سے ان کی گاڑی سے اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں نے گرفتار کیا تھا۔ ایمان مزاری نے اسے اغوا قرار دیتے ہوئے اس کا الزام فوج کے سربراہ پر عائد کیا تھا۔ ایمان مزاری کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے شیریں مزاری کو فوری رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔
فوج کے مطابق ایمان مزاری نے اعلیٰ قیادت کے خلاف یہ الفاظ اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے میں ادا کیے ہیں، جن کا مقصد فوج میں بغاوت پیدا کرنا اور اس کی قیادت کو دھمکانا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ بھی پڑھیے
فوج کے مطابق ایمان مزاری کے بیان کا مقصد فوج میں نفرت، بے یقینی اور افراتفری پیدا کرنا ہے، جو کہ بہت سنگین اور قابل سزا جرم ہے۔
فوج کے مطابق ایمان مزاری نے افسران کو اعلیٰ قیادت سے بدگمان کرنے کی کوشش کی ہے۔ جی ایچ کیو کے مطابق ایمان مزاری کا بیان فوج کی شبیہ کے لیے نقصان دہ ہے۔ ان کے بیان کا مقصد عوام میں ڈر اور خوف پیدا کرنا ہے، جو کہ ریاست کے خلاف جرم ہے۔
اس مقدمے کے اندراج کے فوری بعد ایمان مزاری نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ وہ ابھی فوج کی طرف سے درج مقدمے سے متعلق قانونی حکمت عملی پر مشاورت کر رہی ہیں اور اس حوالے سے جلد قانونی راستہ اختیار کریں گی۔