آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ماحولیاتی تبدیلی: 50 ڈگری سینٹی گریڈ پر زندگی جو جانوروں کی بھوک بھی مار دیتی ہے
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، راجستھان
انڈین ریاست راجستھان میں جیسلمیر کے کنوئی گاؤں سے دو کلومیٹر کی دوری پر درجنوں عورتیں ایک ویران مقام پر کنویں سے اپنے گھڑوں میں پانی بھر رہی ہیں۔ ان میں سے کئی خواتین پانی لینے کے لیے تین سے چار کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طے کر کے یہاں پہنچی ہیں۔
اس علاقے میں موجود درجنوں کنویں پہلے ہی سوکھ چکے ہیں اور اگر جلد ہی بارش نہ ہوئی تو وہ کنویں بھی سوکھ جائیں گے جن میں پانی تو ہے مگر اس کی سطح کافی گِر چکی ہے۔
کنوئی گاؤں میں پانی حاصل کرنا ایک صبر آزما کام اور روز مرہ کی جدوجہد کا حصہ ہے۔
راجستھان کا ضلع جیسلمیر مغرب میں پاکستان کی سرحد کے نزدیک واقع ہے۔ اِن دنوں یہ پورا خطہ شدید گرمی کی زد میں ہے۔ رواں برس گرمی کی لہر اپریل سے ہی شروع ہو گئی ہے۔ یہ ریگستانی علاقہ ہے اور عام دنوں میں بھی یہاں پانی کی قلت رہتی ہے مگر شدید گرمی نے صورتحال اور بھی مشکل کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ماحولیاتی تبدیلی کے باعث اس خطے میں گرمی کی شدت بڑھتی جا رہی ہے۔ محکمہ موسمیات کی جانب سے پہلے ہی وارننگ دی جا چکی ہے کہ آنے والے دنوں میں جیسلمیر اور اس کے اطراف کے اضلاع میں گرمی کی شدت اور بھی بڑھ جائے گی۔
اپنی اونٹ گاڑی میں لگے ٹینکر میں پانی بھرتے ہوئے کنویں پر موجود منوہر رام نے بتایا کہ ’کنویں کے اطراف میں تین سے چار کلومیٹر کی دوری پر کئی چھوٹے چھوٹے گاؤں واقع ہیں۔ وہاں پانی نہیں ہے۔ یہ عورتیں سارا دن پانی کے لیے یہاں آتی رہتی ہیں۔ اُنھیں کئی کئی بار یہاں آنا پڑتا ہے اور جب کنویں میں پانی کم ہونے لگتا ہے تو پانی کے حصول پر لڑائیاں بھی ہوتی ہے۔‘
راجستھان کا جیسلمیر ضلع انڈیا کے گرم ترین علاقوں میں سے ہے۔ یہاں ان دنوں درجہ حرارت 47، 48 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہتا ہے۔ کئی مقامات پر دن کے اوقات میں درجہ حرارت 50 ڈگری کو بھی چُھو لیتا ہے۔
بیشتر لوگ اپنا کام صبح یا شام میں کرتے ہیں کیونکہ دن میں گرمی ناقابل برداشت ہو جاتی ہے۔
میں ایک دوپہر میں کھا بیا نام کے ایک گاؤں میں تھا۔ پورا گاؤں سنسان پڑا تھا۔ میں نے دن میں ساڑھے 12 بجے کے قریب وہاں کا درجہ حرارت دیکھا تو وہ 49 ڈگری سے زیادہ تھا۔ دو بجے تک اس میں مزید شدت آ گئی تھی۔ یہاں کی ریتیلی زمین تپ رہی تھی اور سورج کی تمازت انتہائی شدید تھی۔ اوپر سے گرم لُو کے تھپیڑے زندگی کو انتہائی مشکل بنا رہے تھے۔
بیشتر مکان اسی علاقے سے نکلنے والے پتھروں کے بنے ہوئے ہیں۔ حدت کم کرنے کے لیے بہت سے لوگوں نے اپنے گھروں کی دیواروں پر گائے کے گوبر کا لیپ کر رکھا ہے اور چھت کے نیچے لکڑی کی کڑیاں لگا رکھی ہیں۔
جیسلمیر کے دیہی علاقوں میں زندگی مویشی پالنے اور کھیتی باڑی پر منحصر ہے۔ پانی نہ ہونے سے زمین سوکھی پڑی ہے۔ سخت گرمی میں مویشیوں کی حالت انسانوں سے بھی بُری ہے۔ دور دراز کے ایک گاؤن جیٹھاوی کے ایک کسان احمد خان نے بتایا کہ شدید گرمی کی وجہ سے وہ سورج نکلنے سے پہلے ہی اپنی بکریوں کو لے کر چراگاہوں کی تلاش میں نکل جاتے ہیں۔
’دن میں اتنی گرمی ہو جاتی ہے کہ یہ چل بھی نہیں سکتیں۔ ریت گرم ہو جاتی ہے، بکریوں کی سانس پھولنے لگتی ہے۔ جہاں درختوں کا سایہ ملتا ہے یہ وہیں کھڑی ہو جاتی ہیں۔ ان کی بھوک مر جاتی ہے۔ ایک دو بجے تک یہ چلنے پھرنے سے قاصر ہو جاتی ہے۔ یہاں سوکھا پڑا ہے۔ اگر بارش نہ ہوئی تو ہم اِنھیں ہریانہ ریاست کی طرف لے کر چلے جائیں گے کیوںکہ یہاں کھانے کے لیے کچھ نہیں بچے گا۔‘
جیسلمیر کے کئی سو کلومیٹر کے رقبے میں موجود بیشتر تالاب سوکھ چکے ہیں۔ پیڑ پودے دھوپ کی شدت سے جل گئے ہیں۔ گائے، بکریاں اور بھیڑیں بے چین ہیں اور پانی کی تلاش میں ماری ماری پھر رہی ہیں۔ ماحولیاتی تبدیلی سے یہ خطہ اب پہلے سے زیادہ گرم ہونے لگا ہے جبکہ بڑے پیمانے پر جگہ جگہ پتھروں کی کانکنی سے پانی کا قدرتی نظام بھی بگڑ گیا ہے۔
جاجیا گاؤں کے حکم سنگھ راٹھور ایک سابق فوجی ہیں۔ اب وہ اپنے گاؤں میں کاشتکاری اور مویشی پالتے ہیں۔ ان کا سارا وقت اپنے جانوروں کے لیے چارے اور پانی کے انتظام کے تناؤ میں گزرتا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ جگہ جگہ پتھروں کی کھدائی سے پانی یہاں تک نہیں آ پاتا۔
’پہلے تھوڑی سی بھی بارش ہوتی تھی تو ان کھیتوں میں پانی آ جاتا تھا۔ مئی جون میں ان مویشیوں کے لیے پینے کے پانی کا انتظام ہو جاتا تھا۔ جیسلمیر شہر میں اگر پانچ، چھ ملی میٹر بھی بارش ہوتی تو پانی یہاں تک پہنچ جاتا تھا۔ یہ پہاڑی علاقہ ہے۔ یہاں کی زمین پتھریلی ہے۔ لیکن جگہ جگہ پتھر کی کھدائی سے اب پانی یہاں نہیں پہنچ پاتا۔ اس سے یہاں کے تالاب اور گڑھوں میں بھی پانی کی کمی ہونے لگی ہے۔‘
مزید پڑھیے
حکومت نے پانی کے لیے دیہی علاقوں میں پائپ بچھائے ہیں لیکن وہ گرمی کی شدت سے اکثر جگہ جگہ پھٹ جاتے ہیں یا ان میں ہوا بھر جاتی ہے۔ یہ سپلائی بھی ضرورت کے لحاظ سے ناکافی ہے۔
جاجیا گاؤں کی چندریکا راٹھور کہتی ہیں جب بھی کوئی نئی حکومت آتی ہے تو یہاں یہ امید پیدا ہوتی ہے کہ اس خطے میں بھی تبدیلی آئے گی، لیکن یہاں برسوں سے زندگی میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی ہے۔
’وقت کے ساتھ کچھ تبدیلی آئی ہے لیکن اس حد تک نہیں جتنی باقی ملک میں۔ آج بھی ہمارے گاؤں میں بنیادی مسئلے برقرار ہیں۔ یہاں پانی کا مسئلہ ہے، کھانے کا مسئلہ ہے، مویشیوں کے لیے چارہ نہیں ملتا۔ جب برسات نہیں ہوتی تو جو تالاب وغیرہ ہیں وہ بھی خالی ہو جاتے ہیں، تو مسئلہ اور بھی گمبھیر ہو جاتا ہے۔‘