شکرگڑھ میں سہولت کار نے اپنے ہی ڈکیت گینگ کے چھ افراد کو کیوں قتل کر دیا؟

    • مصنف, شاہد اسلم
    • عہدہ, صحافی، لاہور

ضلع نارووال کے علاقے شکر گڑھ میں نورکوٹ ریلوے سٹیشن کے قریب چھ افراد کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا جن کا تعلق ایک انتہائی مطلوب ڈکیت گینگ سے تھا۔

ایس ایچ او تھانہ نور کوٹ انسپکٹر محمد عارف نے بی بی سی کو بتایا کہ قتل کی یہ واردات کسی اور نے نہیں بلکہ اس گینگ کو کچھ عرصہ قبل تک کھانے، پینے سمیت دیگر سہولیات پہنچانے والے ملزم اسامہ یونس نے اپنے ایک ساتھی کی مدد سے انجام دی ہے۔

چھ افراد کے قتل کا مقدمہ ایس ایچ او نورکوٹ کی مدعیت میں ملزم اسامہ یونس اور اس کے ایک نامعلوم ساتھی کے خلاف درج کر لیا گیا ہے۔

دوسری طرف ڈی ایس پی شکر گڑھ ملک خلیل کے مطابق ملزم اسامہ یونس نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ڈکیت گینگ کے سرغنہ اشرف خان عرف ماما چنگڑ سمیت اس کے پانچ ساتھیوں کو قتل کر دیا کیونکہ کچھ عرصہ قبل اس گینگ نے ملزم کے گھر ایک ڈکیٹی کی واردات انجام دی تھی جس میں گھر کے افراد کو یرغمال بنا کر 50 لاکھ وپے کی نقدی اور زیورات لوٹ کر فرار ہو گئے تھے۔

’ملزم کو ایسے مجرم پیشہ لوگوں سے دوستی بنانا اچھا لگتا تھا‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈی ایس پی ملک خلیل نے بتایا کہ ملزم اسامہ یونس کا تعلق ایک کھاتے پیتے گھرانے سے ہے جس کے خاندان کے زیادہ تر افراد ایک عرب ملک میں کاروبار کے سلسلے میں رہتے ہیں اور اسے ایسے مجرم پیشہ لوگوں سے دوستی بنانا اچھا لگتا تھا۔

ڈی ایس پی کے مطابق ملزم اسامہ یونس اکثر اس گینگ کے لوگوں کے اپنے ڈیرے پر بلاتا تھا اور ان کے کھانے پینے کا انتظام کرتا تھا اور ’ملزم اسامہ یونس ڈکیت گینگ کے لوگوں کو فنانس بھی کرتا تھا۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ اسامہ یونس کو جب اپنے گھر پر ڈیڑھ ماہ قبل ہونے والی ڈکیٹی کی اس واردات کا علم ہوا کہ وہ کسی اور نے نہیں بلکہ ڈکیت گینگ اور اس کے سرغنہ اشرف خان عرف ماما چنگڑ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر کی تھی تو اس نے ان سے بدلہ لینے کے لیے تعلقات بگاڑے نہیں بلکہ انھیں یہ محسوس بھی نہیں ہونے دیا کہ اسے اصل ملزمان کا پتا چل چکا ہے۔

’اسامہ ڈکیٹی کے اس کیس میں مدعی بھی ہے اور یہ ہمارے ساتھ مسلسل رابطے میں تھا اور ہمیں ڈکیت گینگ کے متعلق معلومات بھی دے رہا تھا جس کی وجہ سے ہم بھی پر امید تھے کہ یہ اس گینگ کو پکڑوائے گا لیکن اس نے انھیں گذشتہ شب سٹیشن نورکوٹ کے قریب بلایا، نشہ آور مشروب پلا کر پہلے بے ہوش کیا اور پھر ساتھی کے ساتھ مل کر فائرنگ کر کے انیں مار دیا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’صبح چار بجے قتل کی واردات کو انجام دینے کے بعد ملزم اسامہ جائے وقوعہ کے قریب اپنے ایک دوست کے گھر گیا اور اسے جگا کر پیغام دیا کہ پولیس کو اطلاع کر دے کہ انھوں نے علاقے کا ’گند‘ صاف کردیا ہے۔‘

واردات کی رات گینگ کے سربراہ نے وہی پاجامہ پہنا جو ملزم نے انھیں دیا تھا

ملزم اسامہ یونس کو کس طرح پتا چلا کہ اس کے گھر ہوئی ڈکیٹی کی واردات اسی گینگ نے کی تھی، اس سوال کے جواب میں ڈی ایس پی ملک خلیل نے بی بی سی کو بتایا کہ ملزم اسامہ یونس نے گینگ کے سرغنہ اشرف خان عرف ماما چنگڑ کو ایک پاجامہ تحفے میں دیا ہوا تھا اور جس رات وہ اس کے گھر واردات کرنے آئے تو اسامہ نے اسے پہچان لیا تھا۔

ڈی ایس پی کے مطابق ملزم اسامہ کا گھر اور اشرف خان عرف ماما چنگڑ کے گاؤں ساتھ ساتھ ہی تھے اور اس کے علاوہ اسامہ کا اس گینگ کے دیگر ساتھیوں اور جرائم پیشہ لوگوں سے اٹھنا بیٹھنا تھا جس کی وجہ سے اسے یہ اطلاع مل چکی تھی کہ اس کے گھر ڈکیٹی کی واردات دراصل ڈکیت گینگ نے ہی کی تھی۔

ایک اور سوال کے جواب میں ڈی ایس پی کا کہنا تھا کہ ملزم اسامہ یونس کا ایک چچا قتل کے جرم میں جیل جا چکا ہے۔ ملزم اسامہ یونس کا ڈکیت گینگ کے لوگوں سے مسلسل رابطہ تھا اور اس بات کی تصدیق ہمیں جائے وقوعہ سے ملے فونز کے تجزیے سے ہو چکی ہے جن میں سے ملزم اسامہ یونس کی تصاویر بھی ملی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ایس ایچ او انسپکٹر محمد عارف کے مطابق پولیس کو مارے گئے ڈاکوؤں کے قبضے سے کلاشنکوف اور بھاری مقدار میں اسلحہ بھی برآمد ہوا۔

ایس ایچ او کے مطابق ڈکیت گینگ اور اس کا سرغنہ اشرف خان عرف ماما چنگڑ ، قتل، ڈکیتی اور زیادتی کے درجنوں مقدمات میں پولیس کو مطلوب تھا۔ انسپکٹر عارف کے مطابق ملزمان کی تلاش جاری ہے اور انہیں جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔

دوسری طرف انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب راؤ سردار علی خان نے نارووال میں مختلف مقدمات میں اشتہاری ڈکیت گینگ کے چھ افراد کے قتل کے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے آرپی او گوجرانوالہ سے واقعہ کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

آئی جی پنجاب نے ڈی پی او نارووال کو قاتل اور اس کے ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے سپیشل ٹیمیں تشکیل دینے کا حکم دیا ہے۔

راؤ سردار علی خان نے کہا کہ کسی شہری کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت ہرگز نہیں دی جا سکتی۔ آئی جی پنجاب نے ہدایت کی کہ قانون و انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے واقعہ کی ہر پہلو سے تفتیش کی جائے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جائیں۔

آئی جی پنجاب نے ہدایت کی کہ ملزمان کو جلد از جلد قانون کی گرفت میں لایا جائے اور انھیں قانون کے مطابق سخت سے سخت سزا دلائی جائے۔