بلاول بھٹو زرداری: پاکستان کا دوسرا بھٹو وزیر خارجہ

    • مصنف, احمد اعجاز
    • عہدہ, صحافی، مصنف

جب بلاول بھٹو زرداری کی ولادت ہوئی تو یہ وہ دِن تھے، جب 1988 کے انتخابات کی آمد آمد تھی۔

تین ماہ قبل پاکستان پر 11 سال تک حکمرانی کرنے والے آمر ضیا الحق کی طیارہ حادثے میں موت کے بعد 16 نومبر 1988 کو پاکستان میں عام انتخابات ہوئے تو بلاول بھٹو کی والدہ بے نظیر بھٹو پاکستان کی تاریخ کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم بن گئیں۔

بلاول کی پیدائش سے قبل اور بعد میں بے نظیر بھٹو نے انتخابی مہم کو جاری رکھا تھا۔ 21 ستمبر 1988 کو پیدا ہونے والے بلاول بھٹو زرداری رواں برس ستمبر میں 34 برس کے ہوجائیں گے۔

اِس عمر تک پہنچنے تک اِن کا زیادہ وقت پاکستان کے ساتھ ساتھ دبئی میں گزرا، جبکہ اِن کی تعلیم برطانیہ میں آکسفرڈ یونیورسٹی میں ہوئی۔

بلاول کا بچپن اور لڑکپن

بلاول بھٹو زرداری اپنی پیدائش سے 1997 تک پاکستان میں رہے۔ اس عرصے میں اِن کی والدہ دومرتبہ پاکستان کی وزیرِ اعظم رہیں۔

اسی مُدت میں اِن کے والد جیل میں بھی رہے۔ جب 1997 کے انتخابات کے بعد بے نظیر بھٹو نے جلاوطنی اختیار کی تو بلاول بھٹو زرداری کی عمر 9 برس تھی۔ اُس وقت آصف علی زرداری جیل میں تھے۔ اپنی والدہ کے ہمراہ بلاول اپنے والد سے جیل میں ملاقات کے لیے جایا کرتے تھے۔

نوجوان بلاول بھٹوزرداری پر پہلی ذمہ داری کب پڑی؟

27 دسمبر2007 جب بلاول بھٹو زرداری کی والدہ راولپنڈی میں دہشت گردی کا نشانہ بن جاتی ہیں تو بلاول کی عمر محض 19 برس تھی۔ والدہ کی وفات کے ٹھیک تین دِن بعد پارٹی کی ذمہ داری جب اِن پر پڑی تو یہ آکسفرڈ میں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ اِنھیں 30 دسمبر 2007 کو پاکستان پیپلز پارٹی کا شریک چیئرمین بنا دیا گیا۔

بلاول بھٹو زرداری اور موروثی سیاست

بے نظیر بھٹو کی پیدائش جون 1953 کی تھی، اور جب وہ 1988 میں پہلی بار وزیرِ اعظم بنیں، تو اُن کی عمر 35 برس تھی۔

ذوالفقار علی بھٹو نے جب وزارتِ خارجہ کا منصب سنبھالا تھا تو وہ بھی 35 برس کے تھے۔ اسی طرح بلاول بھٹو زرداری جب وزیرِ خارجہ بننے جا رہے ہیں،تو اِن کی عمر لگ بھگ 34 برس ہے۔

یوں بلاول بھٹو زرداری، اہم عہدے سنبھالتے وقت تقریباً اپنے نانا اور والدہ کے جیسی عمر کے حامل ہیں۔

ماں اور بیٹے کو اہم ذمہ داریاں نبھانے سے قبل حالات مختلف ملے مگر ایک قدر مشترک یہ ہے کہ دونوں کو حالات کے جبر نے ذمہ داریاں سونپیں۔

ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد بے نظیر کو عملی سیاست میں اُترنا پڑا اور پارٹی کے اُمور سنبھالنے پڑے۔

اسی طرح بے نظیر کے قتل کے بعد بلاول بھٹو زرداری کو پارٹی کی چیئرمین شپ اور بعدازاں عملی سیاست میں آنا پڑا۔ بلاول بھٹو زرداری اپنے مختلف انٹرویوز میں کئی بار یہ کہہ چکے ہیں ’میں نے سیاسی زندگی کا انتخاب اپنی مرضی سے نہیں کیا، میرے نانا اور والدہ کے قتل کے بعد مجبوراً کم عمری میں سیاست میں آنا پڑا۔‘

ان پر الزام لگتا ہے کہ یہ موروثی سیاست کا تسلسل ہیں۔ اس الزام کی حقیقت اپنی جگہ، مگر برصغیر اور پھر پاکستان کے سیاسی کلچر میں ’خاندانوں کی سیاست‘ ایک حقیقت ہے اور اس وقت تک سیاسی نظام خاندانوں کے زیرِ تسلط ہی چلا آرہا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کی عملی سیاست کا آغاز کب ہوا؟

4 اپریل 2014 کو ذوالفقار علی بھٹو کی 35ویں برسی کے موقعے پر نوڈیرو میں بلاول بھٹو زرداری کو میدانِ سیاست میں اُتارا گیا۔ اُس روز بلاول بھٹو زرداری نے زوردار تقریر کی اور میاں نواز شریف کی حکومت پر طالبان سے مذاکرات کے معاملے پر کڑی تنقید کی۔

پھر18 اکتوبر کو بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں جلسہ عام سے طویل خطاب کیا۔ اُس وقت اِن کو سیاسی میدان میں اُتارنے کے پیچھے اگلے انتخابات میں پیپلزپارٹی کو نمایاں کامیابی سے ہمکنار کروانا تھا، بالخصوص پنجاب میں پیپلز پارٹی کو سرگرم کرنا تھا۔

انتخابات 2018: بلاول بھٹو زرداری کے سیاسی کیریئر کا پہلا امتحان

2018 کے انتخابات بلاول بھٹو زرداری کا پہلا امتحان تھے۔ ان کی اپنی اور پارٹی کی کارکردگی تسلی بخش نہ رہی۔ یہ خود قومی اسمبلی کے تین حلقوں پر میدان میں اُترے تھے۔

حلقہ این اے 8: مالاکنڈ کے اس حلقے سے بلاول بھٹو زرداری کے مدِمقابل پی ٹی آئی اور متحدہ مجلس عمل کے مضبوط اُمیدوار تھے اور یہاں سے پاکستان تحریکِ انصاف کے اُمیدوار کامیاب ہوئے۔

حلقہ این اے 200: لاڑکانہ کا یہ حلقہ پاکستان پیپلز پارٹی کا اپنا حلقہ ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کا مقابلہ متحدہ مجلس عمل کے اُمیدوار راشد محمود سومرو کے ساتھ تھا۔ یہاں سے بلاول ایم این اے منتخب ہوئے۔

حلقہ این اے 246: لیاری کے اس حلقہ سے بلاول بھٹو زرداری نے الیکشن لڑا تھا اور ناکام رہے تھے۔ یہاں سے پاکستان تحریکِ انصاف کے اُمیدوار نے کامیابی سمیٹی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

بلاول بھٹو زرداری کو بطور وزیرِ خارجہ کن چیلنجز کا سامنا ہوگا؟

اس وقت پاکستان اور امریکہ کے مابین تعلقات سرد مہری کا شکار ہیں۔ سب سے بڑا چیلنج تو یہی ہوگا کہ بلاول کیسے اِن تعلقات میں بہتری لاتے ہیں۔

ادھر مودی حکومت کے حوالے سے اِن کا نقطہ نظر خاصا سخت رہا ہے۔ اس ضمن میں اِن کو اپنے روّیے میں لچک لا کر انڈیا کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کو جانچنا، بھی ایک چیلنج ہوگا۔

افغانستان میں افغان طالبان کے اقتدار کو پاکستان کی گذشتہ حکومت کی جانب سے مکمل تائید حاصل رہی۔ افغان طالبان کی حکومت کو کیسے دیکھنا ہے، یہ بھی ایک چیلنج ہوگا۔

علاوہ ازیں حالیہ عرصہ میں روس اور پاکستان کے مابین سفارتی تعلقات کا معاملہ بھی زیرِ بحث رہا ہے۔ یہ تعلقات آگے بڑھیں گے یا نہیں؟اس معاملے پر بھی نوجوان وزیرِ خارجہ کو مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔

بلاول اپنے نانا،والدہ اور والد میں، کس کے سیاسی رنگ کو اپنائیں گے؟

بلاول بھٹو زرداری کی سیاست پر اپنے نانا، والدہ اور والد میں، کس کا رنگ غالب رہے گا، یا اپنی جُداگانہ حیثیت قائم کریں گے؟

اس سوال کے جواب میں پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما تاج حیدر کا کہنا ہے کہ ’بلاول بھٹو زرداری کی سیاست پر والدہ کی جھلک زیادہ ہے۔ اِن کے کئی برس دبئی میں والدہ کے ساتھ گزرے ہیں، تربیت وہیں سے ہوئی۔ جب آصف علی زرداری جیل سے چھوٹ کر آئے تو بلاول اپنے والد سے قد میں لمبے ہوچکے تھے۔‘

اس ضمن میں پی پی پی کی رہنما نفیسہ شاہ کا کہنا تھا ’بلاول کی بنیادی ٹریننگ، بی بی شہید نے کی۔ بی بی شہید اِن سے اپنے والد ذوالفقار علی بھٹو کی باتیں کیا کرتی تھیں۔ اسی طرح آصف علی زرداری اِن کو اپنے اور خاندان کے تجربات سے آگاہ کرتے رہے۔ لیکن بلاول کا سیاسی انحصار اپنی ذات پر ہوگا، ان کی انفرادی شخصیت آگے بڑھے گی۔‘

بلاول بھٹو زرداری کی سیاست کا آغاز کب ہوا؟ اس سوال کے جواب میں تاج حیدر کا کہنا تھا ’اڑھائی سال کی عمر میں بلاول کی سیاست کا آغاز ہوگیا تھا، جب یہ سینٹرل جیل کے باہر دھوپ میں اپنی ماں کی گود میں لیٹے والد سے ملنے جایا کرتے تھے۔‘