دعا کاظمی: سحری کے دسترخوان سے کراچی کی دعا کاظمی کی گمشدگی کی خبر وائرل ہوئی، پولیس تاحال ڈھونڈنے میں مصروف

،تصویر کا ذریعہCourtesy Dua's Family
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کراچی میں 16 اپریل کو جناح باغ میں سیاسی گہما گہمی تھی، تحریک انصاف کے جلسے میں جذباتی تقاریر اور نعرے بازی عروج پر تھی۔ جلسہ رات کو دو ڈھائی بجے ختم ہوا تو جلسہ گاہ سے چند قدم کے فاصلے پر نمائش چورنگی میں ایک نئی کہانی نے جنم لیا۔
یہ کہانی 14 سالہ دعا کاظمی کی گمشدگی کی جس کو آج پورے شہر کے پولیس تلاش کر رہی ہے۔
کراچی کے علاقے نمائش چورنگی پر ماہِ رمضان میں فلاحی تنظیم جعفریہ ڈزاسٹر سیل کی جانب سے روزہ داروں کے لیے سحری اور افطاری کا بندوبست کیا جاتا ہے۔
ادارہے کے سربراہ ظفر عباس نے بی بی سی کو بتایا کہ اس شب وہ لوگوں کو سحری کرانے کے بعد بیٹھے تھے کہ دعا کاظمی کے والد سید مہدی علی کاظمی، ان کی والدہ اور خالہ آئیں اور بتایا کہ ان کی بیٹی لاپتہ ہے لیکن پولیس ان کی نہیں سن رہی اور کہہ رہی ہے کہ وہ جلسے میں مصروف ہے۔
اس کے بعد ظفر عباس نے لڑکی کے والد کے ساتھ ایک ویڈیو بنائی جس میں آئی جی سندھ، ڈی جی رینجرز اور دیگر حکام سے اپیل کی گئی اور کہا گیا کہ آپ بھی بیٹی والے ہوں گے ان کا درد محسوس کریں جس کے بعد یہ ویڈیو وائرل ہو گئی اور حکام نے نوٹس لے لیا۔
’دعا کچرا پھینکنے گئی تھیں‘
سید مہدی علی گولڈن ٹاؤن کورنگی کے رہائشی ہیں، وہ آئی ٹی کے شعبے سے منسلک ہیں اور گھر سے ہی کام کرتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ’ان کی 14 سالہ بیٹی دعا دوپہر کو تقریباً 12 بجے کے قریب کچرا پھینکنے نیچے گلی میں گئی تھیں جہاں سے لاپتہ ہو گئیں۔‘
وہ بتاتے ہیں کہ ’ہم نے وہاں پڑوسیوں سے معلوم کیا لیکن اسے کسی نے نہیں دیکھا تھا، جو وہاں دو کیمرے لگے ہوئے ہیں اس میں بھی کوئی نظر نہیں آ رہا تھا، پولیس اور ہمیں ابھی تک کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مہدی کاظمی کی تین بیٹیاں ہیں جن میں دعا سب سے بڑی تھیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ کورونا کے بعد انھوں نے دعا کو سکول نہیں بھیجا اور سوچا کہ ویکسین کروانے کے بعد بھیجیں گے لیکن یہ ممکن نہیں ہوا۔

،تصویر کا ذریعہCourtesy Zafar Abbas
تین تحقیقاتی ٹیمیں
یہ واقعہ کراچی کے الفلاح تھانے کی حدود میں پیش آیا اور مہدی کاظمی کے مطابق اس سے قبل تو پولیس ان کی بات سننے کو تیار نہیں تھی تاہم اب رینجرز، انٹیلیجنس سمیت تمام ادارے متحرک ہیں اور یہ سب اس وقت ممکن ہوا جب ظفر عباس کی ویڈیو وائرل ہوئی۔
انھوں نے کہا کہ ایڈیشنل آئی جی غلام نبی میمن اور دیگر حکام مہدی کاظمی کے گھر پر گئے اور تعاون کی یقین دہانی کروائی۔
ایڈیشنل آئی جی غلام نبی میمن نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ پولیس پر اعتماد کا فقدان ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ یہ پولیس کا عدم تعاون ہے بلکہ ’یہ ایک فطری عمل ہے کہ ایسے کیسز میں فیملی اور والدین تو یہی چاہتے ہیں کہ ان کا بچہ جلد از جلد واپس آئے لیکن پولیس اپنی طرف سے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔
’اس وقت تین ٹیمیں کام کر رہی ہیں اس کے علاوہ ایس ایس پی ’اینٹی وائلنٹ کرائم سیل‘ اس کی نگرانی کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
تاوان اور نشاندہی
مہدی کاظمی نے بتایا کہ انھیں واٹس ایپ پر دو پیغام آئے تھے جن میں تاوان طلب کیا گیا، انھوں نے مطالبہ کیا کہ ان کی دعا سے بات کروائی جائے تاکہ انھیں یقین ہو کہ بچی ان کے پاس ہی ہے لیکن اس کے بعد سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔
جے ڈی سی کے ظفر عباس نے بتایا کہ والدین کو گمراہ کن اطلاعات اور بلیک میلنگ کے ذریعے تنگ کیا جا رہا ہے، ان کے پاس بھی حیدرآباد سے کال آئی تھی اس شخص نے بتایا کہ انھیں پتہ ہے کہ لڑکی کہاں ہے؟
انھوں نے اس کو والد کا نمبر دیا کہ انھیں بتاؤ، پولیس نے اس کی نشاندہی پر سانگھڑ میں چھاپہ مارا اور وہاں سے ایک 14، 15 سالہ لڑکی کو بازیاب کیا گیا وہ لڑکی بھی کراچی کی ہی تھی لیکن وہ دعا کاظمی نہیں تھی۔
مہدی کاظمی کے مطابق انھیں کچھ پڑوسیوں پر شبہ ہے جس کے بارے میں انھوں نے پولیس کو آگاہ کیا ہے۔ انھیں یقین ہے کہ ان کی بچی جلد بازیاب ہو جائے گی، باوجود اس کے وہ کئی خدشات میں مبتلا ہیں۔











