ایم کیو ایم لندن کے دو رہنما امن و امان میں رخنہ ڈالنے کے الزام میں کراچی میں گرفتار

،تصویر کا ذریعہMQM
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
متحدہ قومی موومنٹ لندن کو کراچی میں فعال ہونے کی کوششوں کے چند دنوں کے بعد ہی ایک بار پھر مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تنظیم کے نامزد کردہ کنوینر اور ڈپٹی کنوینر کو ایم پی او کے تحت حراست میں لے لیا گیا ہے۔ گزشتہ دنوں پانچ سال کی خاموشی کے بعد لندن گروپ نے اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا تھا۔
امن و امان میں رخنہ ڈالنے کا الزام
سندھ کے محکمۂ داخلہ کی جانب سے ایک حکم نامہ جاری کیا گیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ آئی جی سندھ نے ایک مراسلہ بھیجا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ کنور خالد یونس اور مومن خان کو ایم کیو ایم لندن کی رابطہ کمیٹی نے دو اپریل کو ڈپٹی کنوینر نامزد کیا تھا۔
حکم نامے میں بتایا گیا ہے کہ انٹیلی جنس اداروں کی رپورٹ کے مطابق دونوں نے کراچی میں اپنی غیر قانونی سرگرمیاں شروع کردی ہیں۔ دونوں کی کسی عوامی اجتماع کی جگہ پر موجودگی امن و امان کا مسئلہ پیدا کر سکتی ہے۔ لہذا آئی جی سندھ نے سفارش کی ہے کہ دونوں کو امن و امان میں رخنہ ڈالنے کے الزام میں ایم پی او کے تحت حراست میں لیا جائے۔
حکومت نے ان کے موقف کی تائید کرتے ہوئے دونوں کو 90 روز کے لیے حراست میں لینے کا فیصلہ کیا ہے اور دونوں کو سینٹرل جیل کراچی میں رکھا جائے گا۔
تاہم ایم کیو ایم لندن نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ کنور خالد یونس اور مومن خان مومن سے صحت کی خرابی کی وجہ سے رابطہ کمیٹی کی ذمہ داریاں واپس لے لی گئی ہیں۔
کنور خالد یونس اور مومن خان کون ہیں
کنور خالد یونس ایم کیو ایم کے دیرینہ رکن رہے ہیں۔ سنہ 1988 کے الیکشن سے لے کر 2008 کے انتخابات تک وہ چار مرتبہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہو چکے ہیں۔ ان کا تعلق ایم کیو ایم کے نظریاتی شعبے سے تھا جس کو تحریکی بھی کہا جاتا تھا۔
کنور خالد انگریزی روزناموں میں باقاعدگی سے کالم بھی لکھتے رہے ہیں جن میں وہ شہری و سیاسی مسائل کے علاوہ ایم کیو ایم کا نکتہ نگاہ بھی بیان کرتے تھے۔ جب ایم کیو ایم کی معروف قیادت نے الطاف حسین سے تعلق ختم کیا تو وہ لندن کی قیادت کے ساتھ رہے۔
مومن خان مومن کا تعلق سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد سے ہے۔ انہوں نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز بائیں بازو کی طلبہ تنظیم نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن (این ایس ایف) سے کیا تھا۔ وہ بعد میں کراچی میں طلبہ تنظیموں میں متحرک رپے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مومن خان حیدرآباد میں سٹریٹ تھیٹر سے لے کر سماجی تبدیلی کی تحریک میں سرگرم ہوئے۔ جب بائیں بازو کے استاد پروفیسر حسن عارف نے ایم کیو ایم میں شمولیت اختیار کی تو وہ بھی اس میں شامل ہو گئے۔ جب ایم کیو دھڑے بندی کا شکار ہوئی تو وہ لندن گروپ کے ساتھ رہے۔
یہ بھی پڑھیے
مومن خان اور کنور خالد یونس کو اس سے پہلے سنہ 2016 میں بھی حراست میں لیا گیا تھا جب پروفیسر حسن عارف کی قیادت میں ایم کیو ایم لندن نے سرگرم ہونے کی کوشش کی تھی۔
ایم کیو ایم لندن کی بحالی کی کوشش
پاکستان میں جب حکمران جماعت تحریک انصاف اور متحدہ اپوزیشن وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پر بحث مباحثے میں مصروف تھی اسی دوران رواں مہینے کے آغاز میں ایم کیو ایم لندن نے رابطہ کمیٹی کے سابق رکن اور سینئر رہنما کنور خالد یونس اور مومن خان مومن کو ڈپٹی کنوینر مقرر کرنے کا اعلان کیا تھا۔
ایم کیو ایم لندن کے اعلامیے کے مطابق کنور خالد یونس اور مومن خان مومن اسیروں کے مقدمات کی پیروی، لاپتہ ساتھیوں کی واپسی اور ہلاک ہونے والے کارکنوں کے لواحقین، اسیر و لاپتہ کارکنوں کے اہل خانہ کی خبرگیری کے فرائض انجام دیں گے۔
ایم کیو ایم کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ میں ایک آئینی درخواست بھی دائر کی گئی ہے جس میں پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کی جانب سے لندن میں مقیم ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کی تقاریر کی نشریات پر سنہ 2015 میں لگائی گئی پابندی کو ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا ہے اور اس پابندی کو اظہار رائے کی آزادی کے منافی قرار دیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایم کیو ایم لندن کے رہنما مصطفیٰ عزیز آبادی کے مطابق لندن سے ایک اپیل سپریم کورٹ کو بھی بھیجی گئی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ تقریر پر پابندی کا فیصلہ غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔
الطاف حسین کی تقریر پر پابندی کیوں لگی؟
میاں نواز شریف کے سنہ 2013 میں اقتدار میں آنے کے بعد جب دہشت گردی، بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان اور ٹارگٹ کلنگ کی روک تھام کے لیے کراچی میں آپریشن شروع ہوا تو ایم کیو ایم نے شکایت کی کہ اس کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
12 جولائی 2015 کو کراچی میں کارکنوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے الطاف حسین نے اس وقت کے ڈی جی رینجرز پر تنقید کی تھی۔
اس تقریر کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں ان کے خلاف 100 سے زیادہ مقدمات درج کیے گئے اور ایک شہری نے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی جس پر عدالت نے الطاف حسین کی تقاریر نشر کرنے پر پابندی لگا دی۔
اس پابندی اور آپریشن کے خلاف ایم کیو ایم کی قیادت احتجاج کرتی رہی۔ اگست 2016 کو اسی سلسلے میں احتجاجی کیمپ پریس کلب کے باہر لگایا گیا تھا جس سے الطاف حسین نے خطاب کیا جو تنازع کا شکار ہوا اور اس کے بعد کراچی میں ہنگامہ آرائی کی گئی جس میں ٹی وی چینلز پر بھی حملے ہوئے۔
رینجرز نے ڈاکٹر فاروق ستار سمیت متعدد رہنماؤں کو حراست میں لیا اور چند دنوں میں ایم کیو ایم بکھر گئی اور لندن سے وابستہ جماعت پر غیر اعلانیہ پابندی عائد کر دی گئی۔ اس کے بعد گرفتار ہونے والے ایم کیو ایم کے کارکنان کا تعلق پولیس اور رینجرز کے اعلامیے میں لندن گروپ سے بتایا جاتا ہے۔
اس وقت ایم کیو ایم لندن، ایم کیو ایم پاکستان اور ایم کیو ایم تنظیمی کمیٹی پر مشتمل ہے۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، عامر خان ایم کیو ایم پاکستان کی قیادت کر رہے ہیں جو حکومت کے ساتھ مفاہمت میں رہے ہیں۔ ایم کیو ایم تنظیمی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار ہیں جبکہ ایم کیو ایم لندن پر غیر اعلانیہ پابندی برقرار ہے۔
حکومت پاکستان کی درخواست پر لندن میں الطاف حسین پر تقاریر کر کے لوگوں کو بھڑکانے کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا لیکن جیوری نے انہیں بری کر دیا جبکہ پاکستان میں اسی نوعیت کے کئی مقدمات انسداد دہشت گردی کی عدالت میں زیر سماعت ہیں۔










