آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ناظم جوکھیو قتل کیس میں ان کی بیوہ شیریں جوکھیو نے ملزمان کو معاف کر دیا
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کے صوبہ سندھ کے ایک علاقے میں تشدد کی وجہ سے ہلاک ہونے والے ناظم جوکھیو کی بیوہ شیریں جوکھیو نے کہا ہے کہ انھوں نے ملزمان کو معاف کر دیا ہے۔
اس مقدمے میں پیپلز پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی جام اویس گہرام اور رکن قومی اسمبلی جام عبدالکریم سمیت نصف درجن کے قریب ملزمان نامزد ہیں، جن میں سے جام گہرام گرفتار ہیں۔
گزشتہ برس نومبر میں سندھ کے رہائشی ناظم جوکھیو نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی جس میں وہ ملیر میمن گوٹھ میں کچھ غیر ملکیوں کو شکار کرنے سے روکنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد ناظم جوکھیو کی تشدد زدہ لاش برآمد ہوئی تھی۔
ناظم جوکھیو کے لواحقین نے اس مبینہ قتل کے الزام میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن سندھ اسمبلی جام اویس گہرام اور رکن قومی اسمبلی جام عبدالکریم سمیت 22 ملزمان کو نامزد کیا تھا، جن میں سے بیشتر افراد کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ کچھ ملزمان اب ضمانت پر ہیں۔
اپنوں نے بھی ساتھ چھوڑ دیا
ناظم جوکھیو کی بیوہ اور مقدمے کی مدعی شیریں جوکھیو کا ایک ویڈیو بیان سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے تمام ملزمان کو معاف کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس ویڈیو میں وہ کہتی ہیں کہ ’جو بچوں والا ہوگا وہ ہی ان کی مجبوری سمجھ سکتا ہے اور جو ماں بہن والا ہوگا وہ ہی ان کا درد محسوس کر سکتا ہے۔
’میں جس وقت سے گزر رہی ہوں اللہ نہ کرے یہ وقت کسی پر آئے۔ میں ایک ایماندار اور وفادار لڑکی ہوں، میں مقدمہ لڑنا چاہتی تھی، میں آگے اس لیے لڑ نہیں پا رہی ہوں کیونکہ میرے اپنوں نے ہی میرا ساتھ چھوڑ دیا ہے، سب نے تنہا کر دیا ہے۔ میں اس مجبوری میں مقدمے سے ہٹ رہی ہوں، مجھے ڈیل کی کوئی پیشکش نہیں ہوئی ہے، میں نے معاف کر کے اللہ پر چھوڑ دیا ہے اور وہ انصاف دے گا۔ میری کوئی لالچ نہیں ہے، میں آگے نہیں لڑ سکتی مجھ میں مزید طاقت نہیں ہے۔‘
مقدمے میں تاخیر
ناظم جوکھیو کے بھائی افضل جوکھیو کی جانب سے مقدمہ درج کرایا گیا لیکن بعد میں انھوں نے مقدمے میں جام عبدالکریم کا نام مرکزی ملزمان سے ہٹوایا، جس کے بعد میڈیا میں یہ اطلاعات عام ہوئیں کہ انھوں نے ڈیل کی ہے لیکن افضل نے اس کی تردید کی۔ اسی عرصے میں مدعی شیریں جوکھیو نے عدم اعتماد پر مقدمے کے وکلا تبدیل کیے۔
پولیس کے تحقیقاتی افسر بھی تبدیل ہوئے جبکہ کئی ماہ کی تاخیر کے بعد مقدمے کا چالان پیش کیا گیا اور مدعی کی درخواست پر عدالت نے حکم جاری کیا کہ اس میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات شامل کی جائیں، جس کے بعد اس میں یہ دفعات شامل کر کے متعلقہ عدالت کو مقدمہ منتقل کیا گیا۔
انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ابھی یہ مقدمہ زیر سماعت ہی نہیں آیا۔ مقدمے کی پیروی کرنے والی انسانی حقوق کی کارکن شیریں کھوکھر کا کہنا ہے کہ پراسیکیوٹر جنرل آفس نے یہ مقدمہ ابھی بھیجا ہی نہیں ہے۔
یاد رہے کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے مطابق ورثا قصاص و دیت کے مطابق ملزمان کو معاف نہیں کر سکتے، کراچی میں رینجرز اہلکاروں کی فائرنگ میں سرفراز شاہ اور شاہ رخ جتوئی کے مقدمات بھی اس کی مثال کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں۔
’خون کی قیمت اونٹ‘
نیشنل کمیشن آف ہیومن رائٹس اور انسانی حقوق کی دیگر تنظیمیں ناظم جوکھیو کیس کی پیروی کر رہی ہیں، جن میں شیریں کوکھر بھی شامل ہیں۔ انھوں نے تصدیق کی ہے کہ شیریں جوکھیو نے ملزمان کو معاف کر دیا ہے۔
شیریں جوکھیو نے دعویٰ کیا ہے کہ ’شیریں پر دباؤ تھا، سسرال والے اسے پسند نہیں کرتے تھے کیونکہ ناظم نے اپنی پسند سے خاندان سے باہر شادی کی تھی۔ افضل نے جب ملزمان سے ڈیل کی تو وہ ڈر گئی تھیں۔ ناظم کا خاندان ان سے الگ ہو گیا تھا اور وہ اپنے کمرے تک محدود رہ گئی تھیں۔ پھر چندہ کر کے گھر میں دیوار تعمیر کی گئی اور دو پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تاکہ ان کو تحفظ ملے۔‘
یاد رہے کہ افضل جوکھیو کسی قسم کی ڈیل کی تردید کر چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
ناظم جوکھیو کے چار بچے ہیں جو ماں کے پاس ہیں۔ شیریں کوکھر کے مطابق شیریں اپنے ماں کے گھر چلی گئی ہیں۔ ان کے مطابق ان کے والد بیمار ہیں والدہ اور بہنیں دوسروں کے گھروں میں کام کرتی ہیں جبکہ ان کا کوئی بھائی نہیں ہے۔ شیریں کوکھر کے مطابق ان پر اتنا دباؤ تھا کہ آخر کار ان کے والدین نے بھی کہہ دیا کہ یا تو معاف کردو یا گھر چھوڑ دو۔ ان کے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں تھا۔
’میری فون پر جو ان سے آخری بات ہوئی تو انھوں نے بتایا کہ ان کے انکل، جہاں وہ کام کرتی ہیں، کہتے ہیں کہ مذہبی طور پر ایک خون کی دیت اونٹ کی قیمت کے برابر ہوتی ہے، وہ عمرہ کرائیں گے اور بچوں کو تعلیم دیں گے، لیکن تحریری طور پر کچھ نہیں ہوگا۔‘
اب کیا ہو سکتا ہے؟
سندھ ہائی کورٹ سے جام عبدالکریم نے حفاظتی ضمانت حاصل کرا لی ہے، جبکہ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ جام کریم کا نام ای سی ایل میں شامل کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ جام کریم عدم اعتماد کی تحریک کے سلسلے میں دبئی سے پاکستان آنا چاہ رہے تھے۔
سندھ ہائی کورٹ 11 اپریل کو گرفتار ملزمان کی ضمانت کی درخواستوں کی سماعت کرے گی، ملزمان کے وکلا نے عدالت میں معافی کا حلف نامہ جمع کرا دیا ہے۔
شیریں کھوکھر کا، جو حکومت پاکستان کے نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن کی رکن بھی ہیں، کہنا ہے کہ قانون یہ اجازت دیتا ہے کہ وہ کیسز جن کے معاشرے پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں، اس میں وہ فریق بن سکتے ہیں۔ اگر مدعی پیچھے ہٹ بھی جائیں تو ریاست پیروی کرے گی، وہ اس نکتے پر عدالت میں آئینی درخواست دائر کرنے کے لیے مشاورت کر رہے ہیں۔
شکار سے روکنے سے لاش ملنے تک
ملیر کی تفتیشی پولیس کے مطابق گزشتہ سال دو اکتوبر تقریباً صبح 8 بجے ایک عرب شیخ اپنے غیر ملکی ملازم اور مقامی افراد غلام حیدر جوکھیو، میر حسن بروہی، احمد خان شورو (گیم انسپکٹر محکمہ وائلڈ لائف سندھ) اور ایک نامعلوم ڈرائیور کے ساتھ الگ الگ گاڑیوں میں سوار ہو کر شکار کے لیے روانہ ہوئے۔
مذکورہ تاریخ کو متوفی ناظم الدین جوکھیو عبدالعزیز جوکھیو کے ہمراہ گاؤں آچار سالار کے قریب جنگل میں آئے ہوئے تھے اور ان کے پاس بندوقیں بھی تھیں۔
اسی دوران مذکورہ عرب شیخ کی گاڑی کراچی اور ضلع ٹھٹہ کی درمیانی سرحد پر واقع کے ڈی اے لائن پر کھڑی تھی۔ ناظم جوکھیو اور عبدالعزیز جوکھیو موٹر سائیکل پر گاؤں کی طرف واپس لوٹ رہے تھے کہ انھوں نے مذکورہ گاڑی دیکھی۔
اس وقت ناظم جوکھیو نے اپنی موٹر سائیکل گاڑی سے دور کھڑی کی اور کچھ دیر انتظار کیا۔ جب تقریباً آدھے گھنٹہ تک گاڑی وہیں کھڑی رہی تو مقتول ناظم نے اپنی بندوق جھاڑیوں میں رکھی اور عبدالعزیز کو وہیں کھڑا رہنے کی تاکید کر کے خود موٹر سائیکل پر مذکورہ گاڑی کے پاس گئے۔
پولیس چالان کے مطابق ناظم جوکھیو نے گاڑی میں موجود غیر ملکی شہری سے شکار کے پرمٹ کے بارے میں سوال کیا تو دونوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔
اس دوران ناظم جوکھیو نے اپنے موبائل فون سے مذکورہ گاڑی اور غیر ملک شہری کی ویڈیو بناتے ہوئے اسے فیس بک پر براہ راست نشر کر دیا جس کے بعد مذکورہ عرب شخص نے ناظم جوکھیو سے اس کا موبائل فون چھین لیا۔
پولیس کے مطابق اسی دوران غیر ملکی شہری کے مقامی ساتھی اپنی گاڑی میں وہاں پہنچ گئے۔ چالان کے مطابق عرب شیخ نے موبائل فون غلام حیدر جوکھیو اور میر حسن بروہی کے حوالے کرتے ہوئے اشارہ کیا کہ وہ اسے ناظم جوکھیو کے حوالے کر دیں اور دونوں گاڑیاں وہاں سے روانہ ہوگئیں۔
چالان میں بتایا گیا ہے کہ اس واقعے کی اطلاع جب ملزم جام عبدالکریم اور ان کے بھائی جام اویس عرف گہرام کو ہوئی تو انھوں نے مقتول ناظم جوکھیو کے بھائی افضل جوکھیو سے احمد جمال نامی شخص کے موبائل نمبر سے رابطہ کیا اور مذکورہ ویڈیو ڈیلیٹ کرنے، شیخ سے معافی مانگنے کے لیے دباؤ ڈالا اور مبینہ طور پر جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دیں۔
چالان کے مطابق ملزم نیاز سالار، جو رکن قومی اسمبلی اور کیس میں نامزد ملزم جام عبدالکریم کے پی آر او ہیں، نے بھی ویڈیو ڈیلیٹ کرنے کے لیے رابطہ کیا لیکن ناظم جوکھیو نے ایک اور ویڈیو فیس بک پر شیئر کی جس میں ملزمان کی جانب سے دباؤ ڈالے جانے کا تذکرہ کیا گیا۔
پولیس چالان کے مطابق ملزم جام عبدالکریم نے اپنے پی آر او نیاز سالار کو ہدایت دی کہ وہ مدعی افضل جوکھیو اور ناظم جوکھیو کو ان کے بنگلے جام ہاؤس جام گوٹھ نزد میمن گوٹھ لے کر آئیں۔
پولیس چالان کے مطابق جام ہاؤس پہنچنے پر جام عبدالکریم نے متوفی ناظم جوکھیو کو تھپڑ مارے اور موبائل فون سے واقعے کی ویڈیوز ڈیلیٹ کر دیں۔ اس کے بعد ناظم جوکھیو کو میر علی اور حیدر علی کے حوالے کر دیا گیا جنھوں نے مبینہ طور پر ناظم جوکھیو کو گارڈ روم میں قید کر دیا اور ناظم کے بڑے بھائی افضل جوکھیو کو ان کے گھر واپس بھیج دیا۔
پولیس کے مطابق جام عبدالکریم بھی جام ہاؤس سے روانہ ہوئے تو ان کے چھوٹے بھائی اور رکن صوبائی اسمبلی سندھ ملزم جام اویس عرف گہرام مبینہ طور پر گارڈ روم میں گھسے جہاں انھوں نے ناظم جوکھیو پر خود اور گارڈز کے ذریعے ڈنڈوں، لاتوں اور مکوں سے تشدد کیا اور پھر انھیں زخمی حالت میں وہیں چھوڑ دیا گیا۔ پولیس کے مطابق اس تشدد کی نتیجے میں ناظم جوکھیو کی موت واقع ہوئی۔