ڈیرہ اسماعیل خان میں مدرسے کی معلمہ کا قتل: ’تین خواتین نے اچانک بھتیجی پر حملہ کر دیا‘

    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس کے مطابق ایک معلمہ کو مدرسے کے دروازے کے باہر مبینہ طور پر تین خواتین نے اس وقت قتل کر دیا جب مقتولہ پڑھانے کے لیے پہنچی تھیں۔

یہ مبینہ واقعہ منگل کی صبح ڈیرہ اسماعیل خان کے مضافاتتی علاقے انجم آباد میں پیش آیا جس کے بعد پولیس نے تین خواتین ملزمان کو گرفتار کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ مقتولہ کے چچا کی مدعیت میں درج مقدمے کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق یہ مبینہ واقعہ منگل کی صبح تقریباً سات بجے پیش آیا۔

مقتولہ کے چچا نے پولیس کو بیان میں کہا ہے کہ جس مدرسے میں ان کی بھیتجی پڑھاتی تھیں وہاں کے مہتمم نے صبح ان کے گھر پر فون کیا اور بتایا کہ مدرسے کے گیٹ پر ان کی بھتیجی پر قاتلانہ حملہ ہوا جس کے بعد وہ شدید زخمی حالت میں گلی میں ہی پڑی ہیں۔

ڈی پی او ڈیرہ اسماعیل خان نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ تین خواتین نے مل کر ایک اکیس سالہ خاتون کو مدرسے کے باہر قتل کیا۔

انھوں نے بتایا کہ 'ان خواتین سے ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان خواتین کی ایک اور رشتہ دار نے خواب میں دیکھا تھا کہ مقتولہ نے توہین مذہب کی ہے جس کی وجہ سے انھوں نے قتل کیا۔'

ڈی پی او کے مطابق 'ہم باقی محرکات پر بھی کام کر رہے ہیں کہ کیا یہ واقعی کسی خواب کی وجہ سے قتل کیا گیا یا اس کے پیچھے کوئی اور وجہ بھی تھی۔'

’مدرسے پہنچا تو بھتیجی کا گلہ کٹا ہوا تھا‘

چچا نے پولیس کو بیان میں کہا ہے کہ 'اس اطلاع پر میں فوراً مدرسے پہنچا تو بھتیجی کو مدرسے کے گیٹ کے ساتھ خون میں لت پت پایا۔ اس کا گلہ کٹا ہوا تھا اور اس کی موت ہو چکی تھی۔'

مقتولہ کے چچا کے مطابق ان کو معلوم ہوا کہ حسب معمول جب ان کی بھتیجی رکشے پر مدرسے پہنچی تو وہاں پہلے سے ہی مدرسے کے یونیفارم میں چند خواتین موجود تھیں جنھوں نے مبینہ طور پر تیز دھار آلے سے حملہ کیا اور ان کی بھتیجی کا گلہ کاٹ دیا۔ ان کے مطابق اس واقعے کے عینی شاہدین میں محلے والے بھی شامل تھے۔

پولیس کی رپورٹ کے مطابق مقتولہ کے چچا نے کہا ہے کہ ان کو اس بات کا علم نہیں کہ ان کی بھتیجی اور ملزمان میں عداوت کس بات پر تھی۔

پولیس اہلکاروں نے بی بی سی کو بتایا کہ مقتولہ کے والد اور بھائی بیرون ملک رہتے ہیں اسی لیے ان کے چچا نے پولیس کو بیان دیا ہے۔

مقتولہ جس مدرسے میں تعلیم دے رہی تھیں اس مدرسے کے مہتمم مولانا شفیع اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ مقتولہ عرصہ دو سال سے ان کے مدرسے سے وابستہ تھیں۔ مولانا شفیع اللہ کا دعویٰ ہے کہ ملزمان ایک دوسرے مدرسے کی طالبات اور معلمہ تھیں۔

یہ بھی پڑھیے

پولیس کے مطابق ملزم خواتین میں دو بہنیں اور ایک ان کی کزن ہے جن میں سے ایک خود بھی معلمہ ہے۔

قتل کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش

پولیس کے مطابق بظاہر اس قتل کی وجہ توہین مذہب بتائی جا رہی ہے لیکن انھیں اب تک ایسے کوئی شواہد نہیں ملے جس میں توہین مذہب کا کوئی عنصر سامنے آیا ہو۔

مدرسہ مہتمم مولانا شفیع اللہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کسی قسم کے توہین مذہب کے واقعے کی تردید کی ہے۔

پولیس کی جانب سے مقتولہ کے پوسٹ مارٹم کا انتظام کیا جا رہا ہے جب کہ مقدمے کے اندراج کے بعد تفتیش کا عمل بھی جاری ہے۔

واضح رہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران ڈیرہ اسماعیل خان شہر اور اس کے قریب علاقوں میں تشدد کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں۔ شہر میں کچھ عرصے سے ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ایک ہی روز قبل کلاچی کے علاقے میں ایک پولیس اہلکار کو گھر کی دہلیز پر فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا۔