آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
بلوچستان میں کنویں میں گر کر بچے کی ہلاکت: 18 گھنٹے تک جاری رہنے والی کوششیں کامیاب کیوں نہ ہو سکیں؟
- مصنف, محمد زبیر خان
- عہدہ, صحافی
’بچے کو لمحہ بہ لمحہ موت کے منھ جاتے دیکھنا میرے لیے انتہائی اذیت ناک تھا۔ موقع پر حکومت اور علاقے والے بھی موجود تھے۔ اٹھارہ گھنٹے تک کوشش ہوتی رہی کہ بچے کو بچا لیا جائے مگر 18 گھنٹے بعد بچے کی لاش کو بھی تکلیف دہ انداز میں نکالا گیا۔‘
یہ کہنا تھا صوبہ بلوچستان کے ضلع قلعہ سیف اللہ کے نواحی علاقے میں زیر تعمیر ٹیوب ویل کے لیے نکالے گئے کنویں میں گر کر ہلاک ہونے والے بچے طماس خان کے والد عبدالہادی کا۔
عبدالہادی چلنے پھرنے کے قابل نہیں۔ وہ ٹانگوں سے معذور ہیں اور وہیل چیئر استعمال کرتے ہیں۔
بلوچستان ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کے مطابق قلعہ سیف اللہ میں پیش آنے والا واقعہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ گذشتہ ہفتے ایسا ہی واقعہ پشتین کے علاقے میں بھی پیش آیا اور اس میں بھی کنویں میں گرنے والا بچہ ہلاک ہو گیا تھا۔
بلوچستان کے کئی اضلاع سے ایسے واقعات کی اطلاعات موجود ہیں۔
بلوچستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے یہ تو نہیں بتایا کہ گذشتہ کچھ عرصے کے دوران ایسے کتنے واقعات پیش آ چکے ہیں تاہم قلعہ سیف اللہ کے صحافی زین اللہ کاکٹر نے بتایا کہ گذشتہ تین ماہ میں بلوچستان کے اندر چار سے پانچ ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں۔
عبدالہادی کہتے ہیں کہ یہ جمعرات کی صبح کوئی آٹھ بجے کا واقعہ ہے۔ ’میں اپنے بیٹے طماس خان کے ساتھ اپنی زمینوں پر گیا تھا۔ ہم لوگ ٹیوب ویل کی کھدائی کروا رہے تھے۔ میں نے کہا بھی تھا کہ ٹیوب ویل پر احتیاط کرنا، میری نظر تھوڑی سی ادھر ادھر ہوئی تو طماس خان غائب تھا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ وہ ٹیوب ویل کے قریب تھے تو اس میں سے طماس خان کی آواز سنی تھی۔ واقعے کے بعد پہلے لوگ اکھٹے ہوئے اور اس کے بعد حکومتی اہلکار بھی پہنچ گئے مگر کسی کے پاس ایسی مشنیری نہیں تھی کہ وہ 300 فٹ سے بچے کو زندہ سلامت نکال سکے۔ اُن کے مطابق بچہ تقریباً 17 گھنٹے تک زندہ اور ہوش و حواس میں تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’طالبان نے مدد کی پیشکش کی‘
عبدالہادی کہتے ہیں کہ حکومت والوں کے پاس کوئی بھی جدید مشینری نہیں تھی بلکہ ان کے پاس صرف رسے ہی تھے۔
’ہم نے لورالائی ضلع سے تعلق رکھنے والے ایک شخص، جو کہ اکثر اس طرح کے واقعات میں مدد کرتے رہتے تھے، کو بھی بلایا تھا۔ وہ بھی موقع پر پہنچے تھے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح بچے کی صورتحال معلوم کرنے کے لیے کیمرا ایک اور سماجی کارکن نے دیا جبکہ حکومت والوں کے پاس جو کیمرے تھے وہ کام ہی نہیں کررہے تھے۔
عبدالہادی کہتے ہیں کہ جمعرات کی صبح آٹھ سے لے کر جمعرات اور جمعے کی رات تین بجے تک بچہ صحت مند تھا۔ اس کی حالت اس وقت بگڑی جب اس کو رات تین بجے اوپر لانے کی کوشش میں وہ نیچے گرا تھا۔
عبدالہادی کہتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر اس حوالے سے ویڈیوز دیکھ کر افغانستان طالبان نے اُن سے رابطہ قائم کیا اور بتایا کہ افغانستان میں اُن کے پاس جدید ٹیکنالوجی اور مشینیں موجود ہیں جو بچے کو بحفاظت بچا کر لے آئیں گی۔
عبدالہادی کا کہنا تھا کہ ’انھوں نے ہمیں کہا کہ ہم لوگ اپنی ٹیم کو سپین بولدک تک پہنچاتے ہیں، آپ لوگ وہاں سے ہماری ٹیم کو اپنے علاقے میں لے جائیں۔‘
’انھوں نے کہا تھا کہ اگر بروقت ہماری ٹیم پہنچ گئی تو بچے کو بحفاظت نکالنا چند منٹوں کا کام ہو گا مگر جب میں نے حکومت والوں سے کہا تو انھوں نے اس پر کوئی بھی رد عمل نہیں دیا۔‘
جمیعت علمائے اسلام ف سے تعلق رکھنے والے مولانا نور اللہ مقامی رکنِ صوبائی اسمبلی ہیں۔ وہ بھی کہتے ہیں کہ افغانستان سے طالبان نے رابطہ قائم کیا اور کہا کہ امریکیوں کی وجہ سے افغانستان میں ایسی ٹیکنالوجی موجود ہے جس کی بدولت بچے کو بحفاظت نکالا جا سکتا ہے۔
ڈپٹی کمشنر قلعہ سیف اللہ کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی کوئٹہ سے ریسیکو 1122 اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے لوگ موقع پر پہنچ گئے تھے۔
’سب لوگ اور میں خود 18 گھنٹے تک اس ہی مقام پر موجود رہا تھا۔ بچے کو بچانے کے لیے جو کچھ کر سکتے تھے۔ وہ سب کچھ کرتے رہے مگر بدقسمتی سے ہم اس کو نہ بچا سکے۔‘
کئی ناکام کوششیں
مولانا نور اللہ کہتے ہیں کہ اُنھیں واقعے کی اطلاع اس وقت ملی جب وہ ژوب میں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ موقع پر پہنچے تو دیکھا کہ انتظامیہ اور ڈیزاسٹر مینیجمنٹ کے لوگ موجود ضرور تھے ’مگر میرا خیال ہے کہ وہ اتنے تربیت یافتہ نہیں تھے کہ کوئی بڑا کردار ادا کر سکیں۔‘
’ان کے پاس کوئی خاص مشنیری بھی نہیں تھی۔ مقامی لوگ اپنی مدد آپ کے تحت کوشش کرتے رہے تھے۔‘
مولانا نور اللہ کہتے ہیں کہ کئی لوگوں کو نیچے اتارا گیا مگر کچھ لوگ تھوڑا سا نیچے جا کر بھی آکسیجن کی کمی اور مختلف مسائل کا شکار ہو جاتے۔ ایک اور 14 سال کے بچے کو نیچے اتارا گیا مگر وہ کوئی 200 فٹ تک گیا اور وہ بھی مسائل کا شکار ہوا، سو اس کو بھی واپس نکال کر ہسپتال داخل کروانا پڑا۔
یہ بھی پڑھیے
مولانا نور اللہ کہتے ہیں کہ اُن کے رضا کار مقامی طور پر تیار کردہ اوزاروں اور دیسی ساختہ مشینریوں کے ساتھ کام کرتے رہے تھے۔ ان ہی اوزاروں کی مدد سے رسّہ بچے تک کنویں میں پہنچایا گیا تھا۔ بچے نے وہ رسہ پکڑ لیا تھا جس کا مطلب یہ تھا کہ بچہ اس وقت تک محفوظ تھا۔
وہ بتاتے ہیں کہ جب بچے نے رسہ پکڑ لیا تو اس وقت لوگوں نے اوپر کھینچنا شروع کردیا تھا۔ ’پتا نہیں کیا ہوا کہ رسا ٹوٹا یا بچے کے ہاتھ سے رسا نکل گیا وہ واپس گر گیا مگر اس کا سر اور گردن ملبے اور پانی سے باہر تھا۔‘
مولانا نور اللہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد ایک اور طریقہ اختیار کیا گیا۔ رسہ دوبارہ پھینکا گیا مگر اس مرحلے پر بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس کے بعد رسہ پھینکا گیا تو بچے کی جانب سے رسہ تو پکڑا جاتا مگر کامیابی نہ ہوتی جس بنا پر ایک اور طریقہ اختیار کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد رسے کے ساتھ کلپ سا لگایا گیا تھا۔ اس کلپ کو پلاس سے جوڑا گیا تھا جو کچھ بھی تھا بس ایک دیسی طریقہ کار تھا۔ وہ جب نیچے پھینکا گیا تو اس کلپ نے بچے کی کمر کو اپنے قابو میں کر لیا تھا۔ اس کو اوپر لایا جانے لگا۔
’ہمیں لگ رہا تھا کہ یہ کوشش کامیاب ہو گی مگر پتا نہیں کیا ہوا کہ بچے نیچے جا گرا۔‘
مولانا نور اللہ کے مطابق اس کے بعد رسہ پھینکا گیا تو کوئی حرکت نظر نہیں آئی جس کے بعد یہ محسوس کیا جانے لگا کہ اب شاید بچہ اس دنیا میں نہیں رہا۔ بچے کی لاش کو اوپر لانے کے لیے سریا رسے کے ساتھ باندھ کر پھینکا گیا تھا۔
سریا بچے کے کمر کے گرد پھنس گیا اور اس کی لاش کو اوپر کھینچ لیا گیا۔
’دنیا چاند پر پہنچ گئی ہے مگر ہمارے پاس ایسی مشینری نہیں کہ ہم بچے کو زندہ بچا سکتے۔‘
’واقعے سے سبق سیکھنا چاہیے‘
مولانا نور اللہ کہتے ہیں کہ حکومتی ادارے کے لوگ تو پہنچے مگر انھیں معلوم نہیں تھا کیا کرنا ہے۔
’اگر ان کے پاس وہ ٹیکنالوجی موجود نہیں تھی جو افغانستان میں طالبان کے پاس موجود تھی تو اس موقع پر اگر زمین کو مشین کی مدد سے بھی کھودا جاتا تو 18 گھنٹوں میں بچہ زندہ سلامت نکالا جا سکتا تھا۔‘
بلوچستان ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل نصیر احمد ناصر کا کہنا تھا کہ اُن کے محکمے نے اس حوالے سے پوری کوشش کی۔
’ہمارے پاس مشنیری بھی تھی، ہماری ٹیم کوئٹہ سے قلعہ سیف اللہ پہنچی اور ہم نے اپنے پاس تمام دستیاب وسائل استعمال کیے۔‘
اب بلوچستان میں ٹیوب ویل یا بور کی کھدائی کے دوران بچوں کے گرنے کے واقعات میں اضافے کے سبب بلوچستان ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی نے بلوچستان کے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو خط لکھ کر کہا ہے کہ زمینداروں کو ٹیوب ویل یا بور لگانے کے لیے باقاعدہ اجازت لینے کا پابند کیا جائے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے علم میں آیا ہے کہ ٹیوب ویل یا بور لگانے میں عفلت کا مظاہرہ دیکھنے میں آ رہا ہے جس کی وجہ سے کئی بچے ان ٹیوب ویل یا بور میں گر کر ہلاک ہو جاتے ہیں جو ایک المیہ ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی شخص یا زمیندار کو ٹیوب ویل یا بور لگانے کی ضرورت ہو تو ضلعی انتظامیہ سے اجازت نامہ حاصل کرے۔ ٹیوب ویل یا بور کھودنے کے وقت اور بعد میں اس کو مکمل بند رکھا جائے اور انجینیئرنگ قواعد کو مد نظر رکھا جائے۔