آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انکم ٹیکس ترمیمی آرڈیننس: حکومت کی ’ایمنسٹی سکیم‘ کیا ملک میں صنعتی ترقی کو فروغ دے پائے گی؟
- مصنف, تنویر ملک
- عہدہ, صحافی، کراچی
پاکستان کی وفاقی حکومت نے ملک میں صنعتی ترقی کے فروغ کے لیے ایک انکم ٹیکس ترمیمی آرڈیننس 2022 جاری کیا ہے جس کے تحت انکم ٹیکس کے قوانین میں ترامیم کی گئی ہیں اور ان کا مقصد ملک میں سرمایہ کاری اور صنعتوں کا فروغ بتایا گیا ہے۔
پاکستان میں ٹیکس شعبے کے ماہرین اور معاشی تجزیہ کار اسے موجودہ تحریک انصاف کی حکومت کی صنعتی شعبے کے لیے ایمنسٹی سکیم قرار دیتے ہیں جس طرح موجودہ حکومت نے تعمیراتی شعبے کے لیے دو ایمنسٹی سکیمیں متعارف کرائیں تاکہ اس کے ذریعے تعمیراتی شعبے کو فروغ دے کر ملک میں مکانوں کی تعمیر کے ساتھ نوکریاں بھی پیدا کی جا سکیں۔
ماہرین معیشت ماضی کے تجربات کی روشنی میں پُرامید نہیں ہیں کہ یہ سکیم بھی صحیح معنوں میں کامیاب ہو گی کیونکہ ماضی میں کچھ افراد نے کالا دھن تو سفید کروایا لیکن اس سے ملک کی معاشی ترقی کو کوئی زیادہ مدد فراہم نہ ہو سکی۔
تاہم وزارت خزانہ کے ترجمان مزمل اسلم نے اسے کوئی ایمنسٹی سکیم نہیں بلکہ ایک ’انڈسٹریلائزیشن پیکج‘ کہا ہے جس سے اس شعبے سرمایہ کاری لائی جاسکتی ہے۔
یہ ایمنسٹی سکیم جہاں ٹیکس اکٹھا کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان کھڑے کرتی ہے تو اس کے ساتھ یہ جائز طریقے سے ٹیکس جمع کرانے والوں کی بھی حوصلہ شکنی کرتی ہے۔
واضح رہے کہ صنعتی شعبے کے لیے اس سکیم کا اجرا ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آئی ایم ایف پاکستان کے ساتھ اپنے پروگرام کی ساتویں نظرثانی کے لیے اس مہینے کرنے جا رہا ہے۔ آئی ایم ایف ایسی ایمسنٹی سکیموں کا مخالف رہا ہے۔
انکم ٹیکس ترمیمی آرڈیننس 2022 کیا کہتا ہے؟
صدر پاکستان کی جانب سے انکم ٹیکس ترمیمی آرڈیننس پر دستخظ کے بعد جو بیان جاری کیا گیا ہے اس کے مطابق اس آرڈیننس کا مقصد ملک میں سرمایہ کاری اور صنعتوں کا فروغ اور بیمار صنعتی یونٹس کی بحالی ہے۔ ایوان صدر کے پریس ونگ سے جاری بیان کے مطابق آرڈیننس کے تحت نقصان میں جانے والی اور بیمار صنعتوں کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے پیکیج دیا گیا ہے۔
آرڈیننس کی مدد سے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 59 سی، 65 ایچ، اور 100 ایف کا اضافہ کیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آرڈیننس میں مزید کہا گیا ہے کہ نئی صنعتوں کے قیام کے لیے ظاہر کردہ اثاثوں پر سرمایہ کاروں کو صرف پانچ فیصد مقرر ٹیکس دینا ہو گا، ظاہر کردہ فنڈز صرف پلانٹ و مشینری خریدنے، انڈسٹری کے قیام کے لیے استعمال ہو سکیں گے، فائدہ مند کمپنیاں بیمار اور نقصان میں جانے والی صنعتیں حاصل کر سکیں گی۔
اس کے علاوہ بیمار صنعتوں کا ٹیکس نقصان اگلے تین سال کے لیے ایڈجسٹ کیا جا سکے گا۔ اہل سمندر پار پاکستانیوں اور بیرون ملک اثاثوں کے حامل پاکستانی یہ سرمایہ کاری کر سکیں گے۔
سرمایہ کار اس پیکج کے تحت واپس لائی گئی رقم پر 100 فیصد ٹیکس کریڈٹ کے اہل ہوں گے، اور واپس لائی گئی رقم کے برابر ٹیکس کریڈٹ صرف پانچ سال تک دیا جائے گا۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے سابق ممبر پالیسی رحمت اللہ وزیر نے آرڈیننس کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اس میں بنیادی طور پر تین نکات ہیں۔
ان کے مطابق پہلا نقطہ بیمار صنعتوں سے متعلق ہے کہ جب اس میں کوئی کمپنی سرمایہ کاری کرے گی تو بیمار کمپنی کا خسارہ کیسے ایڈجسٹ کیا جائے گا۔
اسی طرح بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے صنعتی شعبے میں ڈالر لانے والوں کو ٹیکس کریڈٹ کی سہولت حاصل ہو گی۔ اسی طرح پانچ کروڑ کی سرمایہ کاری پر پانچ فیصد ٹیکس دے دیں اور اس کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا کہ یہ کیسے کہاں سے آئے ہیں۔
ایمنسٹی سکیم کے تحت بیمار صنعتی یونٹس کو خرید کر منافع بخش بنانے والوں کیلئے سرمایہ کاری میں 3 سال تک ٹیکس استثنیٰ ہو گا۔
تاہم اس سکیم سے کچھ افراد اور کمپنیاں فائدہ نہیں اٹھا سکتیں جن میں پبلک ہولڈرز آٖفس، ان کی بیویاں اور ان کی زیر کفالت بچے، کوئی پبلک کمپنی، یا گذشتہ تین سالوں میں کسی بینک کا ڈیفالٹر۔ اسی طرح اسلحے، دھماکہ خیز مواد، چینی، شوگر، فلور مل اورچند دوسری صعنتوں کو اس ایمنسٹی سکیم سے باہر رکھا گیا ہے۔
حکومت نے اس آرڈیننس کے ذریعے کہا ہے کہ تحققیاتی ادارے ایف بی آر سے ایسے افراد جو اس میں اپنے اثاثے ظاہر کریں، ان کے بارے میں معلومات نہیں لے سکتے۔
اسی طرح عام افراد افراد معلومات تک رسائی کے قانون کے تحت بھی ان کے بارے میں معلوم نہیں کر سکتے۔
کیا یہ ایمنسٹی سکیم صنعتوں کو فروغ دے سکتی ہے؟
اس ترمیمی آرڈیننس کے بارے میں وفاق ہائے ایوان صنعت و تجارت کے سابق سربراہ انجم نثار نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے اسے حکومت کی جانب سے ایک اچھی پیشکش قرار دیا۔
انجم نثار حکومت کے ساتھ اس ترمیم کے سلسلے میں مشاورتی سلسلے کا حصہ رہے ہیں۔ ان کے مھابق جو اثاثے ظاہر نہیں کیے گئے ہیں انہیں ظاہر کر کے صنعتی شعبے میں استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا اس سکیم کے تحت وہ افراد ہوں گے جنہوں نے پہلے حکومت کی ایمنسٹی اسکیموں سے فائدہ نہیں اٹھایا اور اس جو اثاثے ظاہر کریں گے وہ صنعت کے قیام و فروغ کے لیے استعمال کریں گے۔
انجم نثار نے اس سکیم کے تحت ملک کی جی ڈی پی میں دو فیصد تک اضافے کی توقع کا اظہار کیا اور تین سے چار ارب ڈالر اس سکیم کے تحت صنعتی شعبے میں آنے کی امید ظاہر کی۔
گذشتہ برس انڈسٹری کے شعبے کا پاکستان کے جی ڈی پی میں حصہ 19 فیصد تھا۔
تاہم ماہر معیشت ڈاکٹر قیصر بنگالی نے اس سکیم سے انڈسٹری کے شعبے کو فائدے پر بات کرتے ہوئے کہا اس سے کوئی فائدہ نہیں ملنے والا۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان میں صعنتی شعبے میں پیسوں کا کبھی بھی مسئلہ نہیں رہا بلکہ اصل مسئلہ اس انفراسٹرکچر کی کمی کا رہا ہے اور اسی وجہ سے یہاں صنعتی شعبہ ترقی نہیں کر سکا۔
اسی طرح انہوں صعنتی شعبوں پر بہت زیادہ ٹیکسوں کو بھی اس شعبے کی ترقی میں رکاوٹ کی ایک وجہ قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیے
جب ان سے اس سکیم کے تحت ٹیکس مراعات کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے جواب دیا کہ انکم ٹیکس پر چھوٹ اور اس پر رعایت تو اس وقت فائدہ مند ہو گی جب کوئی صنعت پیداوار شروع کرے گی۔
انھوں نے کہا سب سے بڑا مسئلہ تو ان ڈائریکٹ ٹیکسوں کا ہے جو خام مال کی سپلائی اور دوسرے شعبوں پر لگائے جاتے ہیں۔
ڈاکٹر بنگالی نے بتایا کہ وہ 1980 سے ٹیکس ہالی ڈے کے شعبے پر کام کر رہے ہیں اور انھوں نے دیکھا کہ اس نے پاکستان میں صنعتی شعبے کو کوئی مدد نہیں دی۔
مثلاً بلوچستان کے شہر حب میں صنعتوں کو ٹیکس ہالی ڈے دیا گیا لیکن وہاں نہ خام مال پیدا ہو سکا اور نہ وہاں کے لوگوں کو نوکریاں مل سکیں۔
ماہر معیشت ڈاکٹر فرخ سلیم نے کہا کہ ٹیکس مراعات کا فائدہ تو ہوتا ہے تاہم صنعتی شعبے کو یہ فائدہ صرف اسی وقت حاصل ہو سکتا ہے جب ٹیکس مراعات اور اصلاحات کا ایک پیکج ساتھ آئے۔
انھوں نے کہا صنعتی شعبے کی ترقی کوئی قلیل مدتی کام نہیں کہ جسے صرف کچھ عرصے میں کیا جا سکتا ہو۔
ماضی میں ایمنسٹی سکیموں سے ملک کو کوئی فائدہ ہوا؟
موجودہ حکومت کے دور میں یہ تیسری ایمنسٹی سکیم ہے ۔ سابقہ ممبر پالیسی ایف بی آر رحمت اللہ وزیر نے بتایا اگرچہ تحریک انصاف نے اقتدار میں آنے سے پہلے ایمنسٹی سکیموں کی مخالفت کی تھی تاہم اب تک اس کی تیسری ایمنسٹی اسکیم ہے۔
انھوں نے کہا اگرچہ ایمنسٹی سکیم صحیح طور سے ٹیکس ادا کرنے والوں کے ساتھ زیادتی ہے تاہم یہ ملک سے سرمایے کے فرار کو روکنے کے لیے بھی لازمی ہوتی ہے تاکہ ملک میں موجود سرمائے کو ٹیکس میں چھوٹ اور مراعات اور اس کے ذرائع کے بارے میں نہ پوچھ کر ملک میں ہی رکھا جائے۔
اگر حکومت اس سکیم کو کامیاب بنانا چاہتی ہے تو اسے صنعتی شعبے سے گارنٹی لینی چاہیے کہ کم از کم پانچ سے سات سو سرمایہ کار سامنے لائے جائیں کہ جو واقعی اپنا سرمایہ لگا کر صعنتوں کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔
ڈاکٹر بنگالی نے کہا کہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ کچھ خاص لوگ ہی ایمنسٹی سکیموں سے فائدہ اٹھا کر اپنا پیسہ سفید کر لیتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ گذشتہ تیس چالیس سالوں سے ایمنسٹی سکیمیں آ رہی ہیں لیکن ملک کو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ مختلف شعبوں کے لیے یہ سکیمیں آئیں تاہم پاکستان میں کوئی ایسا شعبہ بتا دیں کہ جہاں پر بہتری آئی ہو۔
انھوں نے کہا کہ سیکمیں آجاتی ہیں کچھ لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں لیکن اس سکیم کا اصل مقصد حاصل نہیں ہوتا کہ ملک کے خزانے میں زیادہ سے زیادہ پیسہ آئے۔
ڈاکٹر فرخ سلیم نے کہا ماضی میں بہت زیادہ پیچھے جانے کی بجائے موجودہ حکومت کی تعمیراتی شعبے کے لیے ایمنسٹی سکیم کو ہی دیکھ لیں۔
‘کہا گیا کہ اس میں پانچ سو ارب روپے کے نئے پراجیکٹس آئے لیکن اب اخباروں میں اشتہار آرہے ہیں کہ کنسٹرکشن سیکٹر بینکوں کا مقروض ہو چکا ہے اور وہ دیوالیے کے قریب ہے۔‘
وزارت خزانہ کے ترجمان مزمل اسلم نے اس سلسلے میں بتایا کہ یہ ایمنسٹی سکیم نہیں بلکہ ایک انڈسٹریلائزیشن پیکج ہے تاکہ سرمایہ کاری کو اس شعبے میں لایا جا سکے۔
تاہم انھوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ پاکستان میں ایک بہت بڑی انڈر گراونڈ معیشت ہے اور اس میں موجود سرمائے کو صنعتی شعبے میں لانے کے لیے یہ پیکج ہے۔
حکومت آئی ایم ایف کو کیسے مطمئن کرے گی؟
پاکستان جو اس وقت آئی ایم ایف کے ساتھ چھ بلین ڈالر پروگرام سے منسلک، اسے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کو بھی اس کے بارے میں مطمئن کرے گا جو ماضی میں ایسی سکیموں کے بارے میں اپنے تحفظات کر اظہار کر چکے ہیں۔
ڈاکٹر قیصر بنگالی نے آئی ایم ایف سے اس سکیم کی مخالفت کے امکان کا اظہار کیا اور کہا کہ آئی ایم ایف پاکستان سے اسے ختم کرنے کا مطالبہ کر سکتا ہے۔
ڈاکٹر فرخ سلیم نے اس سلسلے میں کہا عالمی ادارہ پاکستان کے بارے میں سوچتا ہوگا کہ پاکستان وعدے کرتا ہے تاہم ان پر عمل درآمد نہیں کرتا۔ ‘مثلاً پاکستان نے بجلی کی قیمتوں میں گذشتہ برس کے فروری میں وعدہ کیا تھا لیکن اس پر عمل درآمد نہیں کیا اور پھر پروگرام معطل ہو گیا۔
’پروگرام کی بحالی کے بعد پٹرولیم لیوی بڑھانے کی شرط مانی گئی لیکن اب قیمتوں کو منجمد کر کے اس میں اضافہ نہیں کیا جا رہا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کی جانب سے اس کی مخالفت اور اس کے پروگرام کے خطرے میں پڑ جانے سے پاکستان کے لیے مشکلات کھڑی ہو سکتی ہیں کیونکہ پاکستان کو جون تک ساڑھے سات ارب ڈالر بیرونی قرض واپس کرنا ہیں اور آئی ایم ایف پروگرام کے بغیر عالمی فنڈنگ پاکستان میں نہیں آئے گی کہ ہم ادائیگیوں کو پورا نہیں کر سکیں گے۔
وزارت خزانہ کے ترجمان مزمل اسلم سے جب انکم ٹیکس ترمیمی آرڈیننس پر آئی ایم ایف کی مخالفت کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے جواب دیا کہ یہ آئی ایم ایف کے ساتھ بحث میں لایا جا سکتا ہے۔