آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
نور مقدم قتل کیس: اسلام آباد کی مقامی عدالت نے حتمی دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
سابق سفارت کار شوکت مقدم کی بیٹی نور مقدم کے قتل کے مقدمے میں استغاثہ کے وکیل حسن عباس نے منگل کے روز اپنے حتمی دلائل میں کہا کہ اس مقدمے کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر سمیت دیگر گیارہ ملزمان کے آپس میں رابطوں کے ثبوت ڈیجیٹل ویڈیو ریکارڈنگ اور ملزمان کے زیر استعمال موبائل فون سے کی جانے والی کالوں کے ریکارڈ سے ملتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اگرچہ نور مقدم کے قتل کا کوئی چشم دید گواہ نہیں ہے لیکن جائے حادثہ سے ملنے والے تمام شواہد اس مقدمے کے ملزمان کو مجرم ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ یہ تمام ملزمان نور مقدم کے قتل میں برابر کے شریک ہیں کیونکہ انھوں نے اس مقدمے کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو بچانے کے لیے نہ صرف حقائق کو چھپانے کی کوشش کی بلکہ پولیس کو بھی اس بارے میں آگاہ نہیں کیا۔
اس مقدمے کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر پر قتل کے علاوہ ریپ اور اغوا کی دفعات کے تحت مقدمہ درج ہے جبکہ مرکزی ملزم کے والدین پر اعانت مجرمانہ اور حقائق کو چھپانے کے الزامات ہیں۔
تعزیرات پاکستان کے تحت قتل اور ریپ کی سزا موت ہے جبکہ اغوا کی سزا عمرقید ہے۔
سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ اس مقدمے کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر نے نور مقدم کو قتل کرنے کے بعد وقوعہ کے روز یعنی 20 جولائی سنہ 2021 کی شام ساڑھے سات بجے کے قریب اپنے والد ذاکر جعفر کو ٹیلی فون کر کےاس واقعہ کے بارے میں بتایا کہ اس نے نور مقدم کو قتل کر دیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس کال کے بعد شریک ملزم ذاکر جعفر نے تھیراپی سینٹر کے مالک کو فون کر کے تھیراپی ورکس کے ملازمین کو جائے حادثہ پر پہنچنے کی ہدایت کی۔
حسن عباس کا کہنا تھا کہ نور مقدم کو قتل کرنے کے بعد ذاکر جعفر اور ان کی اہلیہ عصمت آدم جی کا شریک ملزم طاہر ظہور اور گھریلو ملازمین کے ساتھ کی جانے والی کالوں کا ریکارڈ بھی موجود ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ جب تھیراپی ورکس کے ملازمین جائے حادثہ پر پہنچے اور انھوں نے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو پکڑنے کی کوشش کی تو ملزم نے تھیراپی ورکس کے ایک ملازم امجد پر چاقو سے حملہ کر دیا جس سے وہ زخمی ہو گیا۔
انھوں نے کہا کہ اس واقعہ کے بعد جب زخمی امجد کو نجی ہسپتال میں علاج کروانے کے لیے لے جایا گیا تو ہسپتال والوں کا کہنا تھا کہ چونکہ یہ ایک پولیس کیس ہے اس لیے وہ امجد کا علاج نہیں کر سکتے۔
حسن عباس نے مزید دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ’سرکاری ہسپتال پہنچ کر بھی وہاں پر سچ نہیں بتایا گیا اور نہ ہی پولیس کو مطلع کیا بلکہ ہسپتال کے عملے کو بتایا گیا کہ امجد ایک ٹریفک حادثے میں زخمی ہوا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’تھیراپی ورکس کے ملازمین نے اس واقعہ کے بارے میں تھیراپی سینٹر کے مالک کو آگاہ کیا تھا جس کے بعد انھوں نے اس مقدمے کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے خلاف ان کے ملازم امجد پر قاتلانہ حملہ کرنے کی درخواست بھی متعلقہ عدالت میں جمع کروائی تھی۔‘
سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ ’وقوعہ کی رات ساڑھے دس بجے کے قریب مقتولہ نور مقدم کی لاش لائی گئی جس کا سر دھڑ سے الگ کر دیا گیا تھا۔‘
انھوں نے کہا کہ میڈیکل رپورٹ میں ہلاک ہونے کی وجہ سر کو دھڑ سے الگ کرنا ہے۔
حسن عباس کا کہنا تھا کہ ’اس کے علاوہ مقتولہ کے جسم پر زخم کے بھی نشانات تھے جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ملزم ظاہر جعفر نے نور مقدم کو قتل کرنے سے پہلے تشدد کا نشانہ بھی بنایا تھا۔‘
انھوں نے کہا کہ پولیس نے جائے حادثہ سے جو آہنی مکہ برآمد کیا ہے اس پر بھی نور مقدم کے خون کے نشانات پائے گئے ہیں۔
سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ ’مقتولہ نے قتل سے پہلے ظاہر جعفر کے گھر کی پہلی منزل سے چھلانگ لگائی تھی جبکہ مرکزی ملزم نے بھی اس کا پیچھا کرتے ہوئے مقتولہ کو پکڑ لیا اور زبردستی اسے گھر کے اندر لے گیا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’گھریلو ملازمین بھی وہاں پر موجود تھے اور اگر وہ چاہتے تو وہ نور مقدم کی زندگی کو بچا سکتے تھے یا پھر کم از کم پولیس کو اس بارے میں مطلع کر سکتے تھے لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا۔‘
سرکاری وکیل نے کہا کہ ملزمان کے وکلا کی طرف سے یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ وقوعہ کے روز مقتولہ نے ڈرگ پارٹی بلائی تھی جس میں اپنے دوستوں کو مدعو کیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ ’اگر ایک لمحے کے لیے ان کا یہ مؤقف تسلیم بھی کر لیا جائے تو ظاہر جعفر کے گھر پر آٹھ سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہوئے ہیں لیکن ان کیمروں کی ریکارڈنگ میں صرف تھیراپی سینٹر کے ملازمین نظر آ رہے ہیں۔‘
حسن عباس کا کہنا تھا کہ استغاثہ نے اس مقدمے کے ہر پہلو پر دلائل دے کر عدالت کو مطمئن کرنے کی کوشش کی ہے۔
انھوں نے اس مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت کے جج عطا ربانی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے کا ہر فرد آپ کی طرف دیکھ رہا ہے لہٰذا عدالت ان تمام ملزمان کو قانون کے مطابق سزا دی جانے جو کہ آنے والے ایسے مقدموں کے لیے مثال ثابت ہو۔
اس مقدمے کے شریک ملزم ذاکر جعفر کے وکیل بشارت اللہ خان کا کہنا تھا کہ عدالت کے لیے ہر مقدمہ ہی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر اس مقدمے کے بارے میں مہم چلا کر عدالتی کارروائی پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی گئی جو کہ کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں ہے۔
اس مقدمے کے دیگر ملزمان کے وکلا نے بھی جواب الجواب دلائل دیے جس کے بعد عدالت نے نور مقدم قتل کے مقدمے کا فیصلہ محفوظ کر لیا جوکہ 24 فروری کو سنائے جانے کا امکان ہے۔
’ظاہر جعفر کو بچانے کے لیے غیرت کے نام پر قتل کی کہانی گھڑی گئی‘
گذشتہ روز ہونے والی سماعت میں نور مقدم قتل کیس کے مدعی شوکت مقدم کے وکیل شاہ خاور نے دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس مقدمے کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو بچانے کے لیے غیرت کے نام پر قتل کی کہانی گھڑی گئی جبکہ اس مقدمے کے 19 گواہوں سے ہونے والی جرح کے دوران اس بارے میں کوئی بات نہیں کی گئی۔
انھوں نے کہا کہ واقعے کے روز ملزم ظاہر جعفر کے گھر کوئی ڈرگ پارٹی تھی نہ ہی سی سی ٹی وی میں ایسی کوئی بات نظر آ رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ سٹوری بھی ڈیفنس یعنی مرکزی ملزم کے وکیل نے گھڑی ہے۔
انھوں نے کہا کہ نور مقدم کے ظاہر جعفر کے گھر میں داخل ہونے کے بعد سے قتل تک تقریباً 38 گھنٹے بنتے ہیں اور ڈی وی آر کے مطابق جب نور مقدم اس گھر میں داخل ہوئیں تو ان کے پاس صرف بیگ تھا۔
لیکن مرکزی ملزم جب 19 جولائی کو ایئرپورٹ جانے لگا تو اس کے استعمال کی چیزیں واضح ہیں۔
شاہ خاور کا دعویٰ تھا کہ ظاہر جعفر اور نور مقدم کی ایئرپورٹ سے واپسی سے لے کر قتل تک نور مقدم کو اغوا رکھا گیا۔
انھوں نے کہا کہ جس جگہ پر قتل ہوا اس سے انکار نہیں کیا گیا بلکہ ظاہر جعفر نے خود تسلیم کیا کہ قتل اس کے گھر میں ہوا بلکہ اس کے بیڈ روم میں ہوا۔
شاہ خاور کا کہنا تھا کہ شریک ملزمان بھی کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے واردات ہونے کے بعد مقتول کی لاش کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔
انھوں نے کہا کہ 20 جولائی کو سی سی ٹی وی میں واضع ہے کہ نور مقدم نے چھلانگ لگائی اور بھاگنے کی کوشش کی تو ظاہر جعفر کے کہنے پر شریک ملزم افتخار نے انھیں روکا جس کے بعد مرکزی ملزم ظاہر جعفر نے ٹیرس سے چھلانگ لگائی اور نور مقدم کو چوکیدار کے کیپبن میں بند کردیا۔
مقدمے کے مدعی کے وکیل کا کہنا تھا کہ دو شریک ملزمان جان محمد اور جمیل نے معلومات ہونے کے باوجود پولیس کو آگاہ نہیں کیا۔
انھوں نے کہا کہ 20 جولائی کو مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو نامزد کیا گیا جبکہ 24 جولائی 2021 کو مرکزی ملزم نے ضمنی بیان میں کچھ اعترافات کیے جن کے بعد ان کے موکل نے مرکزی ملزم کے والدین ذاکر جعفر، عصمت آدم جی و دیگر ملزمان کو نامزد کیا۔
انھوں نے کہا کہ مرکزی ملزم سمیت کسی ملزم نے چالان یا ضمنی چلان کو چیلنج کیا نہ ہی کسی مرحلے پر یا کسی فورم پر تفتیش درست نہ ہونے کو چیلنج کیا گیا۔
مدعی کے وکیل کا کہنا تھا کہ مرکزی ملزم کا فوٹو گرائمیٹری ٹیسٹ بھی مثبت ہے یعنی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھی جانے والی اور ملزم کی شکل میچ ہو چکی ہے۔
شاہ خاور کا کہنا تھا کہ ملزم طاہر ظہور کے وکیل نے ایک میسج دکھایا ہے کہ طاہر ظہور اور ذاکر جعفر رابطے میں تھے۔ انھوں نے سوال کیا کہ جب ظاہر جعفر کے والدین کراچی میں تھے تو انہوں نے کیسے کہا کہ ملزم کے پاس اسلحہ نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ طاہر ظہور اور ان کے ملازم امجد کے زخمی ہونے کے باوجود پولیس کو اطلاع دینے کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ ملزم امجد کو ظاہر جعفر نے چاقو کا وار کر کے زخمی کیا تھا لیکن پمز کے ریکارڈ میں اس واقعے کو روڈ ایکسڈنٹ لکھا گیا۔
انھوں نے کہا کہ زخمی ہونے والے ملازم سے متعلق تھراپی ورک نے پولیس کو اطلاع نہیں دی۔ شاہ خاور 22 فروری کو بھی اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔
اس سے قبل تھراپی ورکس کے پانچ ملزمان کے وکیل شہزاد قریشی نے اپنے حتمی دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پولیس نے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ان کے موکلین کو حراست میں لیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اگر اس واقعے کی ڈیجیٹل ویڈیو ریکارڈنگ یعنی ڈی وی آر کو دیکھیں تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے موکلین وہاں سے آسانی سے نکل سکتے تھے لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھیے
شہزاد قریشی کا کہنا تھا کہ ان کے موکلین پر شواہد چھپانے کا الزام ہے۔
ان پانچوں ملزمان کے وکیل کا کہنا تھا کہ کرائم سین کے انچارج پولیس اہلکار عمران کا کہنا ہے کہ پولیس نے جائے واردات سے پستول، چاقو اور دوسرا سامان برآمد کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس مقدمے کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے گھر پر تین لوگ موجود تھے اگر انھوں نے شواہد مٹانے ہوتے تو ان کے پاس کافی وقت تھا لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا۔
شہزاد قریشی، جو کہ اس مقدمے میں شریک ملزمان دلیپ کمار، وامق ریاض، ثمر عباس، عبد الحق اور امجد محمود کی نمائندگی کر رہے ہیں، کا اپنے دلائل میں مذید کہنا تھا کہ متعلقہ قانون کہتا ہے کہ پولیس کی تحویل میں دیے گئے بیان کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔
ایڈشنل سیشن جج عطا ربانی نے استفسار کیا کہ ان کے موکلین واردات کی جگہ پر کس وقت پہنچے تھے جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ یہ لوگ پاکستانی وقت کے مطابق 20 جولائی سنہ2021 کو رات 8 کے قریب وہاں پر پہنچے تھے۔
انھوں نے کہا کہ اس مقدمے کے ایک اور ملزم محمد امجد زخمی کے ہونے کے25 منٹ کے بعد پولیس واردات کی جگہ پر پہنچی تھی۔
انھوں نے کہا کہ ڈی وی آر کھلنے کے بعد یہ معلوم ہوا کہ ان کے موکلین نے ظاہر جعفر کو گرفتار کر کے پولیس کے حوالے کیا۔
شہزاد قریشی نے عدالت سے استدعا کہ ان کے موکلین بے گناہ ہیں لہذا انھیں اس مقدمے سے بری کیا جائے۔
تھراپی ورکس کے مالک طاہر ظہور کے وکیل اکرم قریشی نے اپنے حتمی دلائل دیتے ہوئے کہا کہ حقائق بتاتے ہیں کہ پولیس نےاس مقدمے کی تفتیش جانبداری سے کی ہے اور ان کے موکل کو ایک جھوٹے مقدمے میں پھنسانے کی کوشش کی گئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہمارے خلاف چارج نمبر 13 لگایا گیا کہ ان کے موکل یعنی طاہر ظہور کو اس مقدمے کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے والد ذاکر جعفر اور والدہ عصمت آدم جی نے فون کیا اور ہدایات جاری کیں۔
اکرم قریشی کا کہنا تھا کہ اب پراسیکیوشن نے ثابت کرنا ہے کہ ان دونوں افراد کی جانب سے ان کے موکل کو کون سی ہدایات دی جاتی رہیں۔
انھوں نے کہا کہ سی ڈی آر کے علاوہ ریکارڈ پر کوئی شواہد موجود نہیں ہیں۔
طاہر ظہور کے وکیل نے عدالت میں سپریم کورٹ کا فیصلہ پڑھ کر سنایا جس میں یہ کہا گیا کہ سی ڈی آر بغیر ٹرانسکرپٹ کے بطور شواہد استعمال نہیں کی جا سکتی۔
انھوں نے کہا کہ پولیس نے تو جائے واردات پر پہنچ کر بھی ایف آئی آر درج نہیں کی لہذا کام سے پہلو تہی کا مقدمہ تو پولیس اہلکاروں کے خلاف ہونا چاہیے۔
اکرم قریشی کا کہنا تھا کہ پولیس افسران کی تمام تفتیش مقدمہ درج ہونے سے پہلے مکمل ہو چکی تھی۔
انھوں نے کہا کہ اس مقدمے کا جو چالان پیش کیا گیا ہے اس میں دو مختلف تحریریں ہیں جس سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ اس واقعے کا مقدمہ درج کرنے اور تفتیش کرنے کے لیے کہانی گھڑی گئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ واردات کی شب رات نو ساڑھے نو بجے کے قریب تمام پولیس افسران جائے واردات پر پہنچ گئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ حقائق بتاتے ہیں کہ پولیس افسران سچائی کے ساتھ سامنے نہیں آ رہے۔ انھوں نے کہا کہ تھراپی ورکس کے خلاف تو کسی نے کوئی شہادت ہی نہیں دی اور ان کے موکل کا ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی کے ساتھ رابطہ ہونا کوئی جرم نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ جو میسج طاہر ظہور کو ذاکر جعفر کی طرف سے ملا تھا وہ موبائل فون عدالت کو دیکھا دیتے ہیں۔
اکرم قریشی کا کہنا تھا کہ ان کے موکل کا میڈیکل کا کام ہے۔ ’یہ تو نہیں ہے کہ میرے موکل نے کوئی گینگ بنایا ہوا ہے۔ میسج میں کہا گیا کہ ظاہر جعفر کو اس وقت فوری ایڈمٹ کرنے کی ضرورت ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ڈی وی آر کے مطابق ظاہر جعفر کو تھراپی ورکس کے ملازمین نے باندھا ہوا تھا، انہوں نے تو پولیس کی مدد کی۔
طاہر ظہور کے وکیل کا کہنا تھا کہ جب پولیس سے پوچھا جاتا ہے کہ قتل کی اطلاع کس نے دی کوئی نہیں بتاتا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ تھراپی ورک کے ملازمین نے پولیس کو اس واقعہ کی اطلاع دی۔
انھوں نے کہا کہ یہ کیس سارا پولیس سٹیشن میں تیار کیا گیا اور ایف آئی آر کے مطابق پولیس جب جائے واردات پر پہنچی تو شکایت کنندہ وہاں پر موجود تھا۔
اکرم قریشی نے مذید دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اگر درخواست گزار یعنی مقتولہ کے والد پولیس کی عدم موجودگی میں واردات کی جگہ پر پہلے موجود تھا تو شوکت مقدم کو کس نے بچایا ہے؟ انھوں نے سوال اٹھایا کہ کیا پولیس کی ساری کاروائی مشکوک نہیں ہو جاتی؟
انھوں نے کہا کہ شوکت مقدم نے اس مقدمے کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کی موجودگی میں کیوں نہیں لکھوایا۔
انھوں نے کہا کہ ایک ایک پوائنٹ پر گواہ اپنے بیانات میں تضادات پیدا کر رہے ہیں جبکہ واقعاتی شہادتوں میں لنک اور چین کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر لنک اور چین ٹوٹ گیا تو اس کا فائدہ ملزم کو ہو گا۔
ملزمہ عصمت آدم جی کے وکیل اسد جمال نے بھی دلائل دیے۔
نور مقدم کیس: کب کیا ہوا؟
20 جولائی: سنہ 2021 کو سابق سفارت کار شوکت مقدم کی بیٹی نور مقدم کو قتل کردیا گیا اور اسی روز اس مقدمے کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو گرفتار کر لیا گیا۔
23جولائی: وزیراعظم عمران خان نے اس واقعہ کا نوٹس لیا اور اسلام آباد پولیس کے سربراہ کو اس مقدمے کی سائنسی بنیادوں پر تفتیش کرنے کا حکم دیا۔
24 جولائی: سنہ2021 کو ظاہر جعفر کی سپلیمنٹری سٹیٹمنٹ کے بعد ملزم کے والدین ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی کو بھی اس مقدمے میں نامزد ملزمان میں شامل کر لیا گیا اور پچیس جولائی کو ان دونوں کو گرفتار کر لیا گیا۔
2 اگست: اس مقدمے کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کا 14 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد اسے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔
5 اگست: سنہ 2021 کو سیشن جج کی عدالت نے ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی کی ضمانت کی درخواست کو مسترد کرد یا۔
10 اگست: وزارت داخلہ نے نور مقدم کے قتل کے مقدمے کے تمام ملزمان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال دیا گیا۔
9 ستمبر:اس مقدمے کا چالان پیش کیا گیا۔
29ستمبر: اسلام آباد ہائی کورٹ نے ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی کی ضمانت کی درخواستوں کو مسترد کر دیا۔
14اکتوبر: ظاہر جعفر سمیت تمام ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی اور اسی دوران اس نے عدالت میں کھڑے ہو کر کہا کہ انھوں نے اس جرم کا ارتکاب کیا ہے۔
18اکتوبر: سپریم کورٹ نے ظاہر جعفر کی والدہ عصمت آدم جی کی ضمانت کی درخواست عورت ہونے کے ناطے منظور کر لی جبکہ ذاکر جعفر کی ضمانت کی درخواست واپس لینے پر نمٹا دی گئی۔
20اکتوبر: ذاکر جعفر نے اس فرد جرم کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی جو مسترد کر دی گئی۔