آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستان کے پاس افغانستان سے ہونے والی مبینہ مداخلت روکنے کے کیا آپشن ہیں؟
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
گذشتہ برس اگست میں جب افغان طالبان نے 2001 کے بعد پہلی بار ملک پر دوبارہ قبضہ سنبھالا تھا تو جہاں ایک جانب اکثریتی رائے اور خدشات تھے کہ وہ اپنے ماضی کے طرز حکمرانی پر واپس نہ چلے جائیں، تو دوسری جانب پاکستان میں عمومی طور پر طالبان کی جیت کا خیر مقدم کیا گیا تھا۔
وزیر اعظم عمران خان سمیت حکومتی وزرا اور عسکری حکام نے اس پیشقدمی کو پاکستان کے لیے 'مفید' قرار دیا اور اور بین الاقوامی بیانیے میں بھی طالبان کی حکومت کو 'پاکستان کی جیت' کہا گیا۔
پاکستان کا مسلسل موقف رہا ہے کہ گذشتہ چند سالوں سے افغانستان کی سرزمین 'انڈین امداد' کے توسط سے پاکستان کے خلاف شدت پسندوں کی کارروائیوں کے لیے استعمال کی جاتی رہے ہے اور توقع تھی کہ طالبان کے آنے کے بعد یہ واقعات مکمل طور پر رک جائیں گے یا ان میں کمی آئے گی۔
لیکن ان توقعات کے برعکس، حملوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا بلکہ 2022 کے آغاز کے بعد سے ان میں مزید شدت آئی ہے جیسا کہ پاک افغان سرحد پر حملے، سرحدی باڑ اکھاڑنے کے واقعات یا پاکستان کے خلاف بیان بازی اور امدادی ٹرکوں سے بینر اتارنے جیسے واقعات رونما ہوئے ہیں۔
اس کے علاوہ گذشتہ چھ ماہ میں پاکستان کے قبائلی علاقوں کے علاوہ بلوچستان اور دیگر شہری علاقوں میں متعدد حملے ہو چکے ہیں۔
اس پس منظر میں جب 14 فروری کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایک اجلاس ہوا تو پاکستان نے ایک مرتبہ پھر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے کہا کہ سرحد پار سے اس کی سرزمین پر حملوں کے 'ماسٹر مائنڈ' سے جواب طلب کیا جائے۔
پاکستان کا مؤقف تھا کہ 'ماسٹر مائنڈ' پاکستان میں حملوں کی حمایت کے علاوہ مالی امداد بھی کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ اسی اجلاس میں پاکستان سے قبل انڈیا نے یہ الزام عائد کیا کہ پاکستان انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں تشدد کو ہوا دے رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
افغانستان کا مؤقف کیا ہے؟
افغانستان میں طالبان کے اقوام متحدہ کے لیے نامزد نمائندہ اور سابق ترجمان سہیل شاہین سے جب اس بارے میں پوچھا گیا تو اُن کا کہنا تھا کہ طالبان کی حکومت کا یہ عزم ہے کہ وہ کسی کو بھی اس کی اجازت نہیں دیں گے کہ افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہو۔
لیکن جب بی بی سی نے اُن سے پوچھا کہ یہ رسمی بیان اُن کی جانب سے ہمیشہ جاری کیا جاتا رہا ہے لیکن رپورٹس اور دعوؤں کے مطابق زمینی صورتحال عملی طور پر اس سے مختلف ہے اور اس صورتحال میں کیا طالبان اس پر قابو پانے کی اہلیت نہیں رکھتے۔
سہیل شاہین نے اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا۔
اشرف غنی اور طالبان کی پالیسی
افغانستان میں سابق افغان صدر اشرف غنی کی حکومت کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کوئی زیادہ دوستانہ نہیں تھے اور پاکستان نے ان کے دور اقتدار میں بارہا یہ دعویٰ کیا کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے اور یہ کہ انڈیا کے افغانستان میں قائم قونصل خانے اسی مقصد کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔
طالبان کے افغانستان کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد پاکستان نے عمومی سطح پر اس کا خیرمقدم کیا تھا اور کئی حکومتی عہدیداروں سے لے کر مذہبی شخصیات اور دفاعی تجزیہ کاروں نے اسے اشرف غنی حکومت اور انڈیا کے بیانیے کی شکست کے طور پر تعبیر کیا تھا۔
تاہم چند حالیہ واقعات جیسا کہ پاک افغان سرحد پر حملے، سرحدی باڑ اکھاڑنے کے واقعات یا پاکستان کے خلاف بیان بازی اور امدادی ٹرکوں سے بینر اتارنے جیسے واقعات نے کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔
ان میں سے ایک یہ کہ کیا افغانستان کی سرزمین اب بھی مبینہ طور پر پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے، جیسا کہ چند پاکستانی حلقے دعوی کر رہے ہیں اور کیا افغان طالبان ایسے عناصر کے خلاف دانستہ کوئی کارروائی نہیں کر رہے یا وہ ایسا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
دوسری جانب یہ سوالات بھی جواب کے متقاضی ہیں کہ کیا پاکستان ان حملوں کی روک تھام کے لیے کوئی عملی اقدامات کر سکتا ہے جن میں سرحد پار کارروائی بھی شامل ہے؟
دفاعی امور کے ماہر بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمود شاہ نے پہلوؤں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ بدقسمتی ہے کہ طالبان کے دعوے اور وعدوں کے باوجود افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے اور اس کی مختلف وجوہات ہیں۔‘
’اس وقت افغانستان میں ایسی مرکزی قیادت نہیں ہے جس کے فیصلوں کو من و عن تسلیم کیا جائے جس طرح ماضی میں جب افغان طالبان نے حکومت قائم تھی اور ملا محمد عمر اس کے سربراہ تھے تو اس وقت ان کے فیصلوں کو تسلیم کیا جاتا تھا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اس وقت افغانستان کی بظاہر سربراہی تو ملا ہیبت اللہ درانی کے پاس ہے مگر وہ کہیں نظر نہیں آ رہے اور نہ ہی ان کا اس حوالے سے کوئی بیان سامنے آ رہا ہے۔ اس لیے افغان طالبان اس حوالے سے اقدامات نہیں اٹھا پا رہے اور ان میں دھڑے موجود ہیں اور ہر دھڑا اپنے طور پر کام کر رہا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ اس سے پہلے یہ وعدہ ملا برادر کر چکے ہیں لیکن وہ اس وقت افغانستان کی عبوری حکومت میں ایک جونیئر وزیر ہیں۔
سیینیئر صحافی اور تجزیہ کار حسن خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس ساری صورتحال کو اگر مدنظر رکھا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ افغان طالبان کے سامنے یہ باتیں اٹھائی گئی ہیں اور اس بارے میں انھیں بتایا گیا ہے کہ پاکستان افغان طالبان کی کوششوں اور صلاحیت پر نظر رکھے ہوئے ہے۔‘
’بظاہر یہ واضح ہے کہ افغان طالبان چاہتے ہیں کہ اُن کی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہ ہو اور انھوں نے بارہا اس امر کا اعادہ بھی کیا ہے لیکن ان کے پاس شاید ایسا کرنے کی مطلوبہ صلاحیت نہیں ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ افغان طالبان نے افغانستان کے بڑے حصے کو قابو کر لیا ہے اور امن و امان کی صورتحال پر بھی قابو پا لیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’ایک صلاحیت تو یہ ہے کہ افغان طالبان براہ راست ان لوگوں کے خلاف کارروائی کریں اور ان کو انجام تک پہنچائیں اور ایک صلاحیت یہ ہو سکتی ہے کہ افغان طالبان سارے ملک پر یعنی ایک سرحد سے دوسری سرحد تک کنٹرول حاصل کر لیں۔‘
پاکستان پر حملے کہاں سے اور کیسے کیے جا رہے ہیں؟
حالیہ دنوں میں جو بڑے حملے پاکستان میں ہوئے ہیں ان میں بلوچستان کے علاقے نوشکی اور پنجگور میں بلوچ شدت پسندوں کے حملے شامل ہیں جس میں پاکستان کی سکیورٹی فورسز کے نو اہلکار مارے گئے۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا ہے کہ حملہ آوروں کے ’افغانستان اور انڈیا میں ہینڈلرز‘ سے رابطے تھے۔
پاکستانی سکیورٹی ذرائع کے مطابق بلوچ شدت پسندوں کی ایک بڑی تعداد کے بارے میں اطلاعات تھیں کہ وہ افغانستان میں کہیں روپوش ہیں لیکن طالبان کے آنے کے بعد وہ کہاں ہیں اور کیا وہ اب بھی افغانستان میں موجود ہیں اس بارے میں کوئی واضح شواہد نہیں ہیں۔
اسی طرح کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے بارے میں بھی کہا جا رہا ہے کہ ان کے بیشتر قائدین افغانستان میں روپوش ہیں لیکن ٹی ٹی پی کی جانب سے ایسی ویڈیوز جاری کی گئی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ ان کے قائدین پاکستان کے شمالی اور مغربی علاقوں کے دورے کر رہے ہیں۔
افغان طالبان کی مشکلات کیا ہیں؟
تجزیہ کار حسن خان کا کہنا ہے افغانستان میں طالبان کے لیے شدت پسند تنظیم دولتِ اسامیہ ایک بڑا خطرہ ہے اور اگر افغان طالبان وہاں موجود ٹی ٹی پی اراکین کے خلاف کوئی کارروائی کرتے ہیں تو اس کے نتائج اُن کے خلاف بھی آ سکتے ہیں۔ کارروائی کی صورت میں یہ خدشات ہو سکتے ہیں کہ ٹی ٹی پی کے کچھ لوگ دولتِ اسلامیہ کے ساتھ مل سکتے ہیں اور دوسرا یہ کے دولتِ اسلامیہ کے بیانیے کو بھی تقویت مل سکتی ہے۔‘
افغانستان میں عام تاثر بھی یہی پایا جاتا ہے کہ ایک شدت پسند تنظیم دوسری تنظیم کے خلاف کسی تیسرے کے کہنے پر کارروائیاں نہیں کرتی۔
اس کی مثال اس بات سے بھی لی جا سکتی ہے جب امریکہ نائن الیون کے بعد افغانستان پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہا تھا تو اس وقت طالبان سے کہا گیا تھا کہ وہ اگر القاعدہ سے علیحدگی اختیار کر لیں یا القاعدہ کے لوگوں کو ملک سے نکال لیں تو افغانستان پر حملہ روکا جا سکتا ہے لیکن اس پر طالبان نے القاعدہ کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی تھی۔
حسن خان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان اب بھی یہ سمجھتا ہے کہ انڈیا اس وقت بھی ٹی ٹی پی اور اس میں ضم ہونے والے دھڑوں کو تعاون فراہم کر رہا ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے
افغان طالبان اگرچہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات اور معاہدے کے تحت آئے ہیں لیکن اقتدار میں آنے کے بعد عالمی سطح کوئی بھی ملک ان کو باقاعدہ سطح پر تسلیم نہیں کر رہا۔ اس صورتحال کی وجہ سے کئی پیچیدگیاں بھی پیدا ہوئی ہیں اور افغانستان کے پڑوسی ممالک بھی تذبذب کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔
پاکستان مسلسل یہ بات عالمی سطح پر لا رہا ہے کہ افغانستان کے منجمد اثاثے اگر افغان حکام کے حوالے نہ کیے گئِے تو بڑا انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔
حسن خان کا کہنا تھا کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ اس وقت افغانستان میں صرف طالبان ہیں، ان کا کوئی متبادل موجود نہیں ہے اس لیے طالبان حکومت کو تسلیم کر لینا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس سے عالمی سطح پر افغانستان کے لیے دروازے کھل جائیں گے اور پاکستان بھی پھر باقاعدہ کوئی معاہدے کر سکتا ہے اور پاکستان کے لیے پھر عالمی قوانین کے تحت اختیار ہو گا کہ افغانستان میں بہتر اقدامات کیے جائیں اور شدت پسند گروہوں کا خاتمہ ہو سکے۔
انھوں نے کہا کہ ’اقوام متحدہ میں پاکستان کا مؤقف اس لیے پیش کیا گیا ہے کہ افغانستان کی سرزمین استعمال ہو رہی ہے اور اگر عالمی قوتیں آگے نہیں آتیں تو اس سے حالات خراب ہو سکتے ہیں۔‘
پاکستان کیا کر سکتا ہے؟
موجودہ حالات میں پاکستان ایک جانب طالبان حکومت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے کوششوں میں مصروف ہے کیونکہ بقول محمود شاہ افغان طالبان کا بڑا انحصار پاکستان پر ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’پاکستان آگے بڑھ کر اپنی پالیسی مضبوطی سے نافذ کرے۔ جیسے بلوچ شدت پسند ہیں یا ٹی ٹی پی کے لوگ ہیں ان کے مراکز کی نشاندہی کرنا ضروری ہے اور پاکستان کے پاس اب کافی صلاحیت ہے اس میں ایوی ایشن بھی ہے اور دیگر جدید صلاحیتیں بھی ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ سرحد عبور کر کے افغانستان کے اندر جا کر کارروائی کرنا بہتر اقدام نہیں ہو گا لیکن پاکستان کے اندر جو ذرائع ہیں ان کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں کرنا ضروری ہے تاکہ ایسے عناصر سے نمٹا جا سکے۔